جمعرات, 5 مارچ, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

ایرانی شاہد ڈرون حملوں سے امریکی میزائل دفاعی ریڈار تباہ: خلیج میں 3.4 ارب ڈالر کا نگرانی نیٹ ورک متاثر

خلیج کے خطے میں جاری جنگ کے دوران نئی رپورٹس کے مطابق امریکی میزائل دفاعی نظام کے کئی اہم ریڈار تباہ ہو گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق THAAD میزائل دفاعی نظام کے دو AN/TPY-2 ریڈار تباہ ہوئے ہیں:

  • ایک متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی کے قریب

  • دوسرا اردن کے مووفق سلتی ایئر بیس پر

اس کے علاوہ پہلے ہی قطر کے العدید ایئر بیس پر AN/FPS-132 ابتدائی وارننگ ریڈار کے تباہ ہونے کی اطلاع سامنے آ چکی ہے۔

ان تمام نقصانات کی مجموعی مالیت 3.4 ارب ڈالر سے زیادہ بتائی جا رہی ہے۔

Shahed Drones Destroy Key U.S. Missile Defense Radars in Gulf

خلیج میں امریکی ریڈار نیٹ ورک کو شدید دھچکا

یہ ریڈار سسٹم امریکہ کے عالمی میزائل دفاعی نظام کا اہم حصہ سمجھے جاتے ہیں۔

اہم تباہ ہونے والے سسٹمز میں شامل ہیں:

AN/TPY-2 ریڈار

  • THAAD میزائل دفاعی نظام کا بنیادی سینسر

  • ہزاروں کلومیٹر دور سے بیلسٹک میزائل کا پتہ لگانے کی صلاحیت

  • میزائل انٹرسیپٹر کو ہدف کی معلومات فراہم کرتا ہے

AN/FPS-132 ریڈار

  • طویل فاصلے تک نگرانی کرنے والا اسٹریٹجک ابتدائی وارننگ ریڈار

  • میزائل لانچ کا بروقت پتہ لگانے کے لیے استعمال ہوتا ہے

  • امریکی اور اتحادی دفاعی نظام کو الرٹ فراہم کرتا ہے

ان ریڈارز کے تباہ ہونے سے خطے میں میزائل نگرانی کی صلاحیت میں بڑا خلا پیدا ہو سکتا ہے۔

ہزاروں کلومیٹر تک نگرانی ختم

ان ریڈارز کی نگرانی کی حد بہت وسیع ہوتی ہے۔

عام طور پر ان کی نگرانی کی حد:

  • تقریباً 3000 کلومیٹر

  • بعض صورتوں میں 5000 کلومیٹر تک

سمجھی جاتی ہے۔

خاص طور پر AN/FPS-132 ریڈار کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ:

  • مشرق وسطیٰ کے وسیع علاقے

  • روس کے بعض حصوں

  • مغربی چین کے کچھ علاقوں

یہ بھی پڑھیں  یوکرین کی قسمت پر الاسکا سمٹ سے پہلے ٹرمپ کی یورپی لیڈروں کے ساتھ کشیدگی بھری ویڈیو کال

تک نگرانی کر سکتا تھا۔

اس ریڈار کے ختم ہونے سے ایک بڑی نگرانی کی صلاحیت براہ راست ختم ہو گئی ہے۔

سستا ڈرون، اربوں ڈالر کے نظام کے خلاف

اس واقعے کا سب سے حیران کن پہلو یہ ہے کہ زیادہ تر حملے بیلسٹک میزائل سے نہیں بلکہ ایرانی شاہد ڈرون سے کیے گئے۔

شاہد ڈرون:

  • قیمت: تقریباً چند ہزار سے چند عشرہ ہزار ڈالر

  • استعمال: خودکش یا لوئٹرنگ حملہ

  • پرواز: کم بلندی پر

اس کے مقابلے میں:

  • THAAD ریڈار سسٹم کی قیمت سینکڑوں ملین سے ایک ارب ڈالر تک ہو سکتی ہے۔

اس طرح ایک انتہائی سستا ہتھیار اربوں ڈالر کے دفاعی نظام کو نقصان پہنچانے میں کامیاب ہوا۔

میزائل دفاعی نظام کو “اندھا” کرنے کی حکمت عملی

دفاعی ماہرین کے مطابق یہ حملے ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہو سکتے ہیں۔

براہ راست میزائل دفاعی نظام کو نشانہ بنانے کے بجائے پہلے ریڈار سسٹم تباہ کیے گئے۔

اگر ریڈار ہی نہ ہوں تو:

  • آنے والے میزائل کا بروقت پتہ نہیں چلتا

  • میزائل کی رفتار اور سمت معلوم نہیں ہوتی

  • انٹرسیپٹر میزائل کو درست ہدف نہیں ملتا

یعنی دفاعی نظام اندھا ہو جاتا ہے۔

جدید جنگ میں ڈرون کی اہمیت

یہ واقعات ایک بار پھر ظاہر کرتے ہیں کہ ڈرون ٹیکنالوجی جدید جنگ کا اہم ہتھیار بن چکی ہے۔

ماضی میں جن ڈرونز کو معمولی ہتھیار سمجھا جاتا تھا، وہ اب:

  • اہم فوجی تنصیبات کو نشانہ بنا رہے ہیں

  • اربوں ڈالر کے دفاعی نظام کو نقصان پہنچا رہے ہیں

  • جنگ کے توازن کو تبدیل کر رہے ہیں

یہ بھی پڑھیں  امریکہ کی اسرائیل اور سعودی عرب کو 15.67 ارب ڈالر کے اسلحہ سودوں کی منظوری، مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ

خلیج میں سکیورٹی کے لیے بڑے اثرات

اگر واقعی یہ ریڈار نیٹ ورک تباہ ہوا ہے تو اس کے بڑے اثرات ہو سکتے ہیں:

  • امریکی اور اتحادی میزائل دفاعی نظام کی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے

  • آنے والے میزائل حملوں کا پتہ لگانا مشکل ہو سکتا ہے

  • خلیج میں سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے

جنگ کا اگلا مرحلہ

ریڈار سسٹمز کے نقصان کے بعد اب سوال یہ ہے کہ اگلا مرحلہ کیا ہو گا۔

اگر نگرانی کمزور ہو جاتی ہے تو مستقبل میں:

  • میزائل حملوں کو روکنا زیادہ مشکل ہو سکتا ہے

  • دفاعی نظام کو دوبارہ ترتیب دینا پڑ سکتا ہے

جدید فضائی دفاع میں سب سے اہم چیز دشمن کو دیکھنا اور بروقت شناخت کرنا ہوتی ہے۔

اگر یہی صلاحیت کمزور ہو جائے تو پورا دفاعی نظام متاثر ہو سکتا ہے۔

انجم ندیم
انجم ندیم
انجم ندیم صحافت کے شعبے میں پندرہ سال کا تجربہ رکھتے ہیں۔ اس دوران انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز ملک کے مین سٹریم چینلز میں بطور رپورٹر کیا اور پھر بیورو چیف اور ریزیڈنٹ ایڈیٹر جیسے اہم صحافتی عہدوں پر فائز رہے۔ وہ اخبارات اور ویب سائٹس پر ادارتی اور سیاسی ڈائریاں بھی لکھتے ہیں۔ انجم ندیم نے سیاست اور جرائم سمیت ہر قسم کے موضوعات پر معیاری خبریں نشر اور شائع کرکے اپنی صلاحیت کا ثبوت دیا۔ ان کی خبر کو نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا گیا۔ انجم ندیم نے ملک کے جنگ زدہ علاقوں میں بھی رپورٹنگ کی۔ انہوں نے امریکہ سے سٹریٹیجک اور گلوبل کمیونیکیشن پر فیلو شپ کی ہے۔ انجم ندیم کو پاکستان کے علاوہ بین الاقوامی خبر رساں اداروں میں بھی انتہائی اہم عہدوں پر کام کرنے کا تجربہ ہے۔ انجم ندیم ملکی اور بین الاقوامی سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ وہ کالم نگار بھی ہیں۔ صحافتی گھرانے سے تعلق رکھنے والے انجم ندیم قانون کو بھی پیشے کے طور پر کرتے ہیں تاہم وہ صحافت کو اپنی شناخت سمجھتے ہیں۔ وہ انسانی حقوق، اقلیتوں کے مسائل، سیاست اور مشرق وسطیٰ میں بدلتی ہوئی اسٹریٹجک تبدیلیوں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین