جمعہ, 13 فروری, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

Su-57E بمقابلہ F-22 اور F-35: روسی ففتھ جنریشن لڑاکا طیارے نے امریکی فضائی برتری کو کیسے چیلنج کیا

دبئی ایئر شو میں روس کے جدید ترین لڑاکا طیارے Su-57E کی نمائش محض ایک نمائشی تقریب نہیں تھی، بلکہ یہ عالمی فضائی طاقت کے توازن میں ایک فکری اور تکنیکی چیلنج کی حیثیت رکھتی تھی۔ اس پیشی نے امریکی فضائی طاقت کی علامت سمجھے جانے والے F-22 ریپٹر اور F-35 لائٹننگ II کے مقابل ایک بالکل مختلف پانچویں نسل کا عسکری فلسفہ دنیا کے سامنے رکھا ۔

گزشتہ ایک دہائی سے عالمی ایئر شوز میں امریکی طیارے جدید فضائی جنگ کی علامت بنے رہے ہیں۔ تاہم Su-57E کی آمد نے اس تاثر کو چیلنج کیا کہ پانچویں نسل کا طیارہ یا تو کسی ایک مخصوص کردار کے لیے ہو یا کسی بڑے نیٹ ورک کا محتاج۔

تین طیارے، تین مختلف نظریات

F-22 ریپٹر سرد جنگ کے دور میں ایک خالص فضائی برتری کے طیارے کے طور پر تیار کیا گیا، جس میں اسٹیلتھ، رفتار اور فضائی غلبہ اولین ترجیح تھے۔
F-35 کو ایک نیٹ ورک سینٹرک پلیٹ فارم کے طور پر ڈیزائن کیا گیا، جس کا زور انٹیلی جنس، اسٹرائیک مشنز اور اتحادی افواج کے ساتھ ڈیٹا شیئرنگ پر ہے۔

دونوں طیارے اپنے اپنے کردار میں مؤثر ہیں، مگر دونوں میں کچھ صلاحیتیں جان بوجھ کر قربان کی گئیں۔ اس کے برعکس Su-57E اس سوچ کے تحت تیار کیا گیا کہ ایک پانچویں نسل کا لڑاکا طیارہ کسی دوسرے پلیٹ فارم پر انحصار کیے بغیر ہر قسم کی فضائی جنگ لڑنے کے قابل ہونا چاہیے ۔

اسٹیلتھ اور ایروڈائنامکس کا متوازن امتزاج

Su-57E میں ریڈار سے بچاؤ (Low Observability) کے جدید طریقے شامل ہیں، جن میں مخصوص ایئر فریم ڈیزائن، اندرونی ہتھیاروں کے خانے، جدید کوٹنگز اور سینسرز کی محتاط ترتیب شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں  چین کے دفاعی تجزیہ نگار نے چھ پاکستانی طیاروں کو مار گرانے کے بھارت کے دعوے کو ’مضحکہ خیز‘ قرار دے دیا

اہم بات یہ ہے کہ اسٹیلتھ کے حصول کے لیے روایتی سوخوئی ایروڈائنامکس اور غیر معمولی پھرتی کو قربان نہیں کیا گیا۔ یہ طیارہ سب سونک اور سپر سونک دونوں رفتاروں پر غیر معمولی کنٹرول اور مناور ایبلٹی برقرار رکھتا ہے ۔

متغیر جیومیٹری سپر سونک ایئر انٹیک اسے Mach 1.6 سے زائد رفتار پر بھی مؤثر بناتا ہے، جو بیشتر اسٹیلتھ طیاروں میں نایاب ہے۔

سپرکروز اور توانائی کی برتری

Su-57E کی ایک نمایاں خصوصیت سپرکروز صلاحیت ہے، یعنی بغیر آفٹر برنر کے Mach 1.4 سے 1.6 کی رفتار پر مسلسل پرواز۔ اس کا مطلب ہے:

  • میزائلوں کی رینج میں اضافہ
  • دشمن کے ردعمل کے وقت میں کمی
  • فضائی جنگ میں توانائی (Energy) پر مکمل کنٹرول

14 سے 16 کلومیٹر کی بلندی پر یہ طیارہ میزائل لانچ کر کے دشمن کو فیصلہ کن نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ F-35 میں یہ صلاحیت موجود نہیں، جبکہ F-22 اگرچہ تیز ہے مگر محدود تعداد اور لاگت اس کی عملی افادیت کو کم کرتی ہے ۔

سینسرز، ہتھیار اور نیٹ ورک وارفیئر

Su-57E جدید ریڈار، الیکٹرو آپٹیکل سینسرز اور الیکٹرانک وارفیئر سسٹمز سے لیس ہے، مگر اس کی خاص بات یہ ہے کہ یہ پرانے اور نئے طیاروں کے ساتھ مشترکہ نیٹ ورک میں کام کر سکتا ہے۔

اس کے اندرونی ہتھیاروں کے خانے ماڈیولر ہیں، جس سے مشن کے مطابق ہتھیار منتخب کیے جا سکتے ہیں۔ ایک غیر معمولی خصوصیت یہ ہے کہ Su-57E لانگ رینج کروز میزائل اندرونی طور پر لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو ایکسپورٹ مارکیٹ میں بے مثال ہے ۔

یہ بھی پڑھیں  ایرانی ڈرون swarms: خلیج فارس میں امریکی طیارہ بردار بحری جہازوں کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ

فضائی جنگ میں توازن ہی اصل طاقت

Su-57E، F-22 اور F-35 کے موازنوں میں اکثر مخصوص صلاحیتوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے، مگر جدید فضائی جنگ میں کامیابی کا دارومدار مجموعی توازن پر ہے۔

Su-57E کسی ایک شعبے میں مطلق برتری کا دعویٰ نہیں کرتا، مگر یہ ہر اہم میدان میں خطرناک کمزوری سے پاک ہے۔ اسٹیلتھ، رفتار، پھرتی، ہتھیاروں کی لچک اور اپ گریڈ کی صلاحیت اسے ایک ایسا پلیٹ فارم بناتی ہے جو مشکل ترین حالات میں بھی مؤثر رہتا ہے۔

دبئی ایئر شو میں اس کی نمائش دراصل ایک واضح پیغام تھی:
جدید فضائی جنگ میں وہی طیارہ کامیاب ہوگا جو خراب حالات میں بھی لڑنے کے قابل ہو۔
اور اسی معیار پر Su-57E ایک متوازن، ہمہ گیر اور طاقتور لڑاکا طیارے کے طور پر ابھرتا ہے ۔

حماد سعید
حماد سعیدhttps://urdu.defencetalks.com/author/hammad-saeed/
حماد سعید 14 سال سے صحافت سے وابستہ ہیں، مختلف اخبارات اور ٹی وی چینلز کے ساتھ کام کیا، جرائم، عدالتوں اور سیاسی امور کے علاوہ ایل ڈی اے، پی ایچ اے، واسا، کسٹم، ایل ڈبلیو ایم سی کے محکموں کی رپورٹنگ کی۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین