بدھ, 11 فروری, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

خودکش حملہ ناکام: سی ٹی ڈی نے بی ایل اے کی جانب سے کمسن لڑکی کو استعمال کرنے کی کوشش بے نقاب کر دی

پاکستان کے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے 25 دسمبر کی رات ایک خفیہ معلومات پر مبنی کارروائی کے دوران ایک کمسن لڑکی کو تحویل میں لے کر مبینہ خودکش حملے کی کوشش ناکام بنا دی۔ حکام کے مطابق کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) سوشل میڈیا کے ذریعے بچی کو ذہنی طور پر تیار کر کے خودکش کارروائی کے لیے استعمال کرنا چاہتی تھی۔

سی ٹی ڈی کے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل آزاد خان  نے بتایا کہ انتہاپسند عناصر نے نفرت انگیز اور شدت پسند مواد کے ذریعے ایک معصوم ذہن کو آہستہ آہستہ زہر آلود کیا۔ ان کے مطابق بچی اپنی والدہ کی لاعلمی میں خفیہ طور پر موبائل فون استعمال کر رہی تھی، جسے دہشت گرد ہینڈلرز نے کمزوری کے طور پر استعمال کیا۔

ابتدائی تحقیقات میں سامنے آیا کہ بچی سے رابطہ کرنے والے ہینڈلر نے پہلے ہمدردی اور مدد کے بہانے بات چیت شروع کی، بعد ازاں اسے ریاست مخالف اور بیرونی سرپرستی پر مبنی پروپیگنڈے کے ذریعے خودکش حملے پر اکسانا شروع کر دیا۔ حکام کے مطابق آن لائن رابطوں کے دوران تشدد کو معمول کے طور پر پیش کیا گیا اور بچی کو یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ یہ عمل “قابلِ فخر” ہے۔

سی ٹی ڈی کے مطابق ملزمان نے بچی کو اپنے خاندان سے جھوٹ بول کر کراچی بھیج دیا، تاہم پولیس چیک پوسٹس پر سخت نگرانی کے باعث ہینڈلر مطلوبہ مقام تک پہنچنے میں ناکام رہا، جس کے نتیجے میں مبینہ منصوبہ قبل از وقت بے نقاب ہو گیا۔

یہ بھی پڑھیں  غزہ پلان کے لیے ٹرمپ کے مشیروں کا خلیجی ملکوں پر دباؤ، کوئی بھی حمایت کے لیے تیار نہیں

یہ واقعہ پاکستان میں بدلتی ہوئی دہشت گرد حکمتِ عملی کی ایک تشویشناک مثال قرار دیا جا رہا ہے، جہاں شدت پسند تنظیمیں سکیورٹی دباؤ کے باعث اب خواتین اور کم عمر بچوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل ایف) سمیت دیگر کالعدم تنظیمیں بھی سوشل میڈیا کو بطور ہتھیار استعمال کر رہی ہیں۔

سندھ کے وزیرِ داخلہ ضیاء الحسن لنجار  نے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کا نیا ہدف ہمارے بچے ہیں۔
“یہ واقعہ واضح ثبوت ہے کہ کالعدم تنظیمیں بچوں اور کمسن لڑکیوں کو بطور آلہ استعمال کر رہی ہیں، اور سوشل میڈیا کو ایک خطرناک ہتھیار میں بدل دیا گیا ہے،” انہوں نے کہا۔

حکام کے مطابق بچی کو حفاظتی تحویل میں لے کر نفسیاتی مدد فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ تفتیش کا دائرہ سوشل میڈیا نیٹ ورکس، بیرونی روابط اور سہولت کاروں تک بڑھا دیا گیا ہے۔ سکیورٹی ماہرین نے والدین کو آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھنے اور ڈیجیٹل آگاہی بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔

انجم ندیم
انجم ندیم
انجم ندیم صحافت کے شعبے میں پندرہ سال کا تجربہ رکھتے ہیں۔ اس دوران انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز ملک کے مین سٹریم چینلز میں بطور رپورٹر کیا اور پھر بیورو چیف اور ریزیڈنٹ ایڈیٹر جیسے اہم صحافتی عہدوں پر فائز رہے۔ وہ اخبارات اور ویب سائٹس پر ادارتی اور سیاسی ڈائریاں بھی لکھتے ہیں۔ انجم ندیم نے سیاست اور جرائم سمیت ہر قسم کے موضوعات پر معیاری خبریں نشر اور شائع کرکے اپنی صلاحیت کا ثبوت دیا۔ ان کی خبر کو نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا گیا۔ انجم ندیم نے ملک کے جنگ زدہ علاقوں میں بھی رپورٹنگ کی۔ انہوں نے امریکہ سے سٹریٹیجک اور گلوبل کمیونیکیشن پر فیلو شپ کی ہے۔ انجم ندیم کو پاکستان کے علاوہ بین الاقوامی خبر رساں اداروں میں بھی انتہائی اہم عہدوں پر کام کرنے کا تجربہ ہے۔ انجم ندیم ملکی اور بین الاقوامی سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ وہ کالم نگار بھی ہیں۔ صحافتی گھرانے سے تعلق رکھنے والے انجم ندیم قانون کو بھی پیشے کے طور پر کرتے ہیں تاہم وہ صحافت کو اپنی شناخت سمجھتے ہیں۔ وہ انسانی حقوق، اقلیتوں کے مسائل، سیاست اور مشرق وسطیٰ میں بدلتی ہوئی اسٹریٹجک تبدیلیوں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین