بدھ, 4 مارچ, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

طالبان کے ڈرون پروگرام کا انکشاف: سابق افغان فوج کے 85 امریکی ScanEagle ڈرونز اور القاعدہ کی ممکنہ تکنیکی مدد

افغانستان کے سکیورٹی ذرائع کے مطابق طالبان نے سابق افغان حکومت کے فوجی اڈوں سے 85 امریکی ساختہ ScanEagle نگرانی ڈرونز حاصل کیے تھے، جو پہلے افغان جمہوریہ کی فوج صرف جاسوسی اور نگرانی کے لیے استعمال کرتی تھی۔

یہ ڈرون بنیادی طور پر Reconnaissance یعنی نگرانی کے مشن کے لیے بنائے گئے تھے اور ان میں حملہ کرنے کی صلاحیت موجود نہیں تھی۔ تاہم حالیہ اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ طالبان ان ڈرونز کو ترمیم یا نقل کرکے نئی صلاحیتیں حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

طالبان کے قبضے میں 85 ScanEagle ڈرون

سکیورٹی ذرائع کے مطابق افغانستان میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد انہیں سابق افغان فوج کے اڈوں سے تقریباً 85 ScanEagle ڈرونز ملے۔

یہ ڈرون امریکی ساختہ ہیں اور سابق افغان فوج انہیں انٹیلی جنس، نگرانی اور سرحدی مشاہدے کے لیے استعمال کرتی تھی۔

ScanEagle ڈرون عام طور پر تقریباً 100 کلومیٹر کے دائرے میں نگرانی کر سکتے ہیں جبکہ بہتر کمیونیکیشن اور انٹرنیٹ سہولت کے ساتھ ان کی حد 200 کلومیٹر تک بڑھ سکتی ہے۔

پاکستان میں مبینہ حملوں میں مختلف ڈرون استعمال ہوئے

اطلاعات کے مطابق پاکستان کے اندر کیے گئے حالیہ ڈرون حملوں میں استعمال ہونے والے ڈرون ظاہری طور پر ScanEagle جیسے لگتے ہیں۔

لیکن فوجی ماہرین کے مطابق ان میں فیوژلاج (مرکزی ڈھانچہ)، پر، دم اور انجن کے نظام میں واضح فرق موجود ہے۔

اس سے امکان ظاہر ہوتا ہے کہ یا تو ان ڈرونز کو ترمیم کر کے تبدیل کیا گیا ہے یا پھر طالبان نے اسی طرز کے نئے ڈرون تیار کیے ہیں۔

محدود حملہ آور صلاحیت

افغانستان میں ScanEagle پروگرام کے ساتھ کام کرنے والے سابق فوجی افسران کے مطابق یہ ڈرون زیادہ سے زیادہ ایک سے دو کلوگرام تک اضافی وزن اٹھا سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں  F-47 اور NGAD: RTX کی پروموشنل ویڈیو امریکہ کے چھٹی نسل کے لڑاکا طیارے کے بارے میں کیا بتاتی ہے

اگر وزن اس سے زیادہ ہو جائے تو ڈرون کی پرواز میں عدم استحکام پیدا ہو جاتا ہے۔

اسی وجہ سے اگر طالبان نے ان ڈرونز میں دھماکہ خیز مواد نصب بھی کیا ہو تو ان کی تباہ کن صلاحیت ایران کے شاہد (Shahed) ڈرونز جیسی نہیں ہو سکتی جو خاص طور پر حملوں کے لیے بنائے گئے ہیں۔

نئے ڈرون بنانے کی کوشش

اگر طالبان نے ScanEagle ڈرونز کو براہ راست تبدیل نہیں کیا تو ایک اور امکان یہ ہے کہ وہ دیگر ممالک کے ڈیزائن کی نقل کر کے نئے ڈرون تیار کر رہے ہوں۔

اس بارے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی دسمبر 2025 کی رپورٹ میں بھی خدشات ظاہر کیے گئے تھے کہ افغانستان میں سرگرم گروہ ڈرون ٹیکنالوجی کی نقل تیار کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

القاعدہ کی ممکنہ تکنیکی مدد

ایک انٹیلی جنس افسر کے مطابق لوگر صوبے کے شکار قلعہ کمپاؤنڈ میں القاعدہ کے ماہرین موجود ہیں۔

اطلاعات کے مطابق یہ ماہرین دیگر ممالک کے ڈرون ماڈلز کی بنیاد پر نئے ڈرون تیار کرنے میں مصروف ہیں۔

اگر یہ معلومات درست ثابت ہوتی ہیں تو اس سے افغانستان میں سرگرم شدت پسند گروہوں کو مقامی سطح پر ڈرون بنانے کی صلاحیت حاصل ہو سکتی ہے۔

خطے میں ڈرون جنگ کا بڑھتا رجحان

دفاعی ماہرین کے مطابق حالیہ برسوں میں ڈرون ٹیکنالوجی کم لاگت مگر مؤثر ہتھیار کے طور پر ابھر رہی ہے۔

چھوٹے ڈرونز اب نہ صرف نگرانی بلکہ محدود حملوں اور نفسیاتی اثرات پیدا کرنے کے لیے بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں  بھارت کا پاکستان سرحد کے قریب بڑے فضائی مشقوں کا اعلان، گجرات میں فضائی حدود بند

اگرچہ اس وقت طالبان کی ڈرون صلاحیت محدود سمجھی جاتی ہے، لیکن ماہرین کے مطابق ٹیکنالوجی کی نقل اور بیرونی تکنیکی مدد مستقبل میں ان کی صلاحیت کو بڑھا سکتی ہے۔

آصف شاہد
آصف شاہدhttps://urdu.defencetalks.com
آصف شاہد صحافت کا پچیس سالہ تجربہ رکھتے ہیں ۔ وہ ڈیفنس ٹاکس کے ایڈیٹر ہیں ۔انہوں نے اپنی صلاحیتوں ، وسیع صحافتی تجربے اور مطالعہ سے ڈیفنس ٹاکس کو دفاع، سلامتی اور سفارت کاری سے متعلق ایک ایسا پلیٹ فارم بنا دیا ہے ۔ جس کے سنجیدہ اردو قارئین ایک مدت سے منتظر تھے ۔ آصف شاہد یہ ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے متعدد قومی اخبارات اور ٹی وی چینلوں میں مختلف عہدوں پر کام کر چکے ہیں ۔ انہوں نے خبریں گروپ میں جوائنٹ ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دیں اور قارئین کو اعلیٰ معیار کے مواد کی فراہمی پر روایت ساز ایڈیٹر ضیا شاہد سے داد پائی۔ انہوں نے میڈیا کے تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے منظر نامے میں موافقت کا مظاہرہ کیا اور اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے پرنٹ میڈیا کے بجائے الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کو منتخب کیا ۔ڈان ٹی وی پر لکھے گئے ان کے فکر انگیز کالم حوالے کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں ۔ان کالموں نے ریٹینگ میں بھی نمایاں درجہ حاصل کیا۔وہ تاریخ ، ادب اور کئی زبانوں کا علم رکھتے ہیں ۔وہ قارئین کو خطے کی سیاست ، سلامتی اور سماجی پیش رفت کے درمیان پیچیدہ تعامل کے بارے میں باریک بینی اور وضاحت کے ساتھ آگاہ کرتے ہیں ۔مذہب کے مطالعہ کی وجہ سے مذہبی تحریکوں کی سوچ کو سمجھتے ہیں اور یہ ان کے لیے قارئین کو عالم اسلام اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے درست پس منظر میں پیش کرنے کے لیے مدد گار ہے ۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین