ہفتہ, 30 اگست, 2025

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

امریکا اور اسرائیل نے واشنگٹن کی قیادت میں غزہ میں عبوری انتظامیہ کی تشکیل پر مشاورت شروع کردی

امریکہ اور اسرائیل تنازع کے  بعد غزہ میں ایک عارضی انتظامیہ کی نگرانی کے لیے واشنگٹن کی زیر قیادت عبوری انتظامیہ کی تشکیل پر بات کر رہے ہیں۔ اس اعلیٰ سطحی بات چیت میں ایک عبوری حکومت کے قیام پر توجہ مرکوز کی گئی ہے جس کی سربراہی ایک امریکی اہلکار کرے گا تاکہ غزہ کا انتظام اس وقت تک چلایا جا سکے جب تک اس علاقے کو مکمل غیر مسلح نہیں کر دیا جاتا اور فلسطینی حکومت کا ایک مستحکم ڈھانچہ قائم نہیں ہو جاتا۔

بات چیت، جو ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، اس میں امریکی زیر قیادت انتظامیہ کی مدت کے لیے کوئی ٹائم لائن شامل نہیں ہے، کیونکہ یہ ٹائم لائن خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر منحصر ہوگی۔ ذرائع نے، جنہوں نے بات چیت کی حساس نوعیت کی وجہ سے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی، نے بتایا کہ یہ تجویز عراق میں اتحادی عارضی اتھارٹی سے مشابہ ہوگی، جو صدام حسین کی معزولی کے بعد 2003 میں واشنگٹن کی طرف سے قائم کی گئی تھی۔

اس اتھارٹی کو عراقیوں کی اکثریت ایک قابض کے طور پر دیکھتی تھی اور بڑھتی ہوئی شورش کی وجہ سے 2004 میں اقتدار ایک عبوری عراقی حکومت کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ غزہ میں امریکا کی زیرقیادت انتظامیہ میں شرکت کے لیے دیگر ممالک کو مدعو کیا جا سکتا ہے، حالانکہ ان ممالک کے ناموں کا انکشاف نہیں کیا گیا۔

انتظامیہ میں فلسطینی ٹیکنو کریٹس کو شامل کرنے کی توقع ہے لیکن حماس اور فلسطینی اتھارٹی کو شامل نہیں کیا جائے گا، فلسطینی اتھارٹی کا کا مغربی کنارے میں محدود کنٹرول ہے۔ حماس، جو 2007 سے غزہ پر حکومت کر رہی ہے، نے موجودہ تنازع کو اس وقت بھڑکا دیا جب اس کے عسکریت پسندوں نے 7 اکتوبر 2023 کو جنوبی اسرائیلی کمیونٹیز پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں تقریباً 1,200 افراد ہلاک ہوئے اور 251 افراد کو یرغمال بنا لیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں  روس اور چین کی مخالفت کے بعد امریکا نے ہیٹی میں امن مشن کا مطالبہ ترک کردیا

ذرائع نے اشارہ کیا کہ اتفاق رائے حاصل کرنا  ابھی تک غیر یقینی ہے، کیونکہ بات چیت اہم عہدوں کے لئے ممکنہ امیدواروں کے نکتہ پر آگے نہیں بڑھی ہے۔

محکمہ خارجہ کے ترجمان نے براہ راست یہ بتانے سے گریز کیا کہ آیا اسرائیل کے ساتھ غزہ میں امریکی زیرقیادت عارضی اتھارٹی کے حوالے سے بات چیت ہوئی ہے،  ترجمان نے یہ کہا کہ وہ جاری مذاکرات پر تبصرہ نہیں کر سکتے۔ ‘ہمارا مقصد امن اور یرغمالیوں کی فوری رہائی ہے،’ ترجمان نے اس بات پر زور دیا کہ ‘ہمارا بنیادی نقطہ نظر ثابت قدم رہنا ہے: اسرائیل کی حمایت اور امن کی وکالت کے لیے۔’ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر نے کوئی تبصرہ نہ کرنے کا انتخاب کیا۔

اسکائی نیوز عربیہ کے ساتھ اپریل کے ایک انٹرویو میں،اسرائیلی وزیر خارجہ گیدون سار نے تنازعہ کے بعد ایک ‘عبوری دور’  کا اظہار کیا، جس کے دوران ‘اعتدال پسند عرب ممالک’ سمیت ایک بین الاقوامی بورڈ آف ٹرسٹیز، غزہ کی نگرانی کرے گا، فلسطینی ان کی ہدایت پر کام کریں گے۔ ‘ہم غزہ کے رہائشیوں کی شہری زندگی کو کنٹرول کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ غزہ کی پٹی میں ہماری بنیادی تشویش سلامتی ہے،‘‘ انہوں نے یہ  نہیں بتایا کہ وہ کن ممالک کے شامل ہونے کا تصور کرتے ہیں۔

وزارت خارجہ نے تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔ حماس کی زیر قیادت غزہ حکومت کے میڈیا آفس کے ڈائریکٹر اسماعیل الثوبتہ نے امریکی قیادت یا غیر ملکی حکومتی انتظامیہ کے تصور کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کے فلسطینی عوام کو اپنی قیادت کا تعین خود کرنا چاہیے۔ فلسطینی اتھارٹی نے تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

یہ بھی پڑھیں  ایران کی فوجی پریڈ میں S-300 میزائل سسٹم کی نمائش، امریکہ اور اسرائیل کے دعوؤں کو چیلنج

ممکنہ منفی ردعمل

امریکہ کی قیادت میں غزہ میں ایک عارضی اتھارٹی اسرائیل-فلسطینی تنازع میں واشنگٹن کی شمولیت کو مزید گہرا کرے گی، جو عراق جنگ کے بعد مشرق وسطیٰ میں اس کی سب سے بڑی مداخلت تصور ہوگی۔ ذرائع کے مطابق، اگر امریکہ کو غزہ میں قابض قوت کے طور پر دیکھا جاتا ہے تو یہ کارروائی خطے میں اتحادیوں اور مخالفین دونوں کی طرف سے ردعمل کو بھڑکا سکتی ہے۔

متحدہ عرب امارات، جس نے 2020 میں اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے تھے، نے تجویز دی ہے کہ ایک بین الاقوامی اتحاد غزہ کے تنازعے کے بعد حکومت کو سنبھالے۔ تاہم، ابوظہبی کی شرکت مغربی حمایت یافتہ فلسطینی اتھارٹی کی شمولیت اور فلسطینی ریاست کے لیے ایک قابل عمل راستے پر منحصر ہے۔

متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے کہ آیا وہ امریکہ کی زیر قیادت انتظامیہ کی توثیق کرے گی جس میں فلسطینی اتھارٹی کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔ نیتن یاہو سمیت اسرائیلی رہنما غزہ میں فلسطینی اتھارٹی کی کسی بھی مداخلت کی واضح طور پر مخالفت کرتے ہوئے اسے اسرائیل مخالف قرار دیتے ہیں۔

نیتن یاہو فلسطینی خودمختاری کے بھی خلاف ہیں۔ پیر کے روز، انہوں نے کہا کہ اسرائیل غزہ میں اپنی فوجی کارروائیوں کو تیز کرے گا، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ غزہ کے مزید باشندوں کو ‘ان کی حفاظت کے لیے’ منتقل کیا جائے گا۔ غزہ کی وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق، اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں مبینہ طور پر 52,000 فلسطینیوں کی موت ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں  یوکرین نے روسی ریڈار سسٹم کو امریکی بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا

نیتن یاہو کے دائیں بازو کے اتحاد کے بعض ارکان نے ساحلی علاقے میں یہودی بستیوں کی تعمیر نو کے منصوبوں کے ساتھ ساتھ غزہ سے فلسطینیوں کی ‘رضاکارانہ’ بڑے پیمانے پر نقل مکانی کے لیے عوامی سطح پر وکالت کی ہے۔ تاہم، نجی بات چیت میں، کچھ اسرائیلی حکام مبینہ طور پر غزہ کے مستقبل کے منظرناموں پر غور کر رہے ہیں جو امریکی زیرقیادت عبوری انتظامیہ سمیت فلسطینیوں کے اخراج کی توقع نہیں رکھتے۔

ذرائع بشمول غیر ملکی سفارت کار اور بات چیت سے واقف سابق اسرائیلی اہلکار، کے مطابق ان خیالات میں تعمیر نو کی کوششوں کو مخصوص سیکورٹی زونز تک محدود کرنا، علاقے کی تقسیم اور مستقل فوجی تنصیبات کا قیام شامل ہے۔

آصف شاہد
آصف شاہدhttps://urdu.defencetalks.com
آصف شاہد صحافت کا پچیس سالہ تجربہ رکھتے ہیں ۔ وہ ڈیفنس ٹاکس کے ایڈیٹر ہیں ۔انہوں نے اپنی صلاحیتوں ، وسیع صحافتی تجربے اور مطالعہ سے ڈیفنس ٹاکس کو دفاع، سلامتی اور سفارت کاری سے متعلق ایک ایسا پلیٹ فارم بنا دیا ہے ۔ جس کے سنجیدہ اردو قارئین ایک مدت سے منتظر تھے ۔ آصف شاہد یہ ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے متعدد قومی اخبارات اور ٹی وی چینلوں میں مختلف عہدوں پر کام کر چکے ہیں ۔ انہوں نے خبریں گروپ میں جوائنٹ ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دیں اور قارئین کو اعلیٰ معیار کے مواد کی فراہمی پر روایت ساز ایڈیٹر ضیا شاہد سے داد پائی۔ انہوں نے میڈیا کے تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے منظر نامے میں موافقت کا مظاہرہ کیا اور اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے پرنٹ میڈیا کے بجائے الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کو منتخب کیا ۔ڈان ٹی وی پر لکھے گئے ان کے فکر انگیز کالم حوالے کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں ۔ان کالموں نے ریٹینگ میں بھی نمایاں درجہ حاصل کیا۔وہ تاریخ ، ادب اور کئی زبانوں کا علم رکھتے ہیں ۔وہ قارئین کو خطے کی سیاست ، سلامتی اور سماجی پیش رفت کے درمیان پیچیدہ تعامل کے بارے میں باریک بینی اور وضاحت کے ساتھ آگاہ کرتے ہیں ۔مذہب کے مطالعہ کی وجہ سے مذہبی تحریکوں کی سوچ کو سمجھتے ہیں اور یہ ان کے لیے قارئین کو عالم اسلام اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے درست پس منظر میں پیش کرنے کے لیے مدد گار ہے ۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین