بدھ, 11 فروری, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

ٹرمپ کا ایران کو الٹی میٹم، امریکی طیارہ بردار جہاز خطے میں داخل

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی بحریہ کا ایک “بڑا آرمادا” تیزی سے خطے کی جانب بڑھ رہا ہے، جس کی قیادت طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن کر رہا ہے، اور اگر تہران نے جوہری معاہدے پر مذاکرات نہ کیے تو فوجی کارروائی کے لیے تیار ہے۔

صدر ٹرمپ نے یہ بیان اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ یہ بحری بیڑا “بڑی طاقت، جوش اور واضح مقصد” کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے اور یہ وہی بیڑا نہیں بلکہ اس سے بھی بڑا ہے جو ماضی میں وینزویلا کی جانب بھیجا گیا تھا۔ ان کے مطابق امریکا ضرورت پڑنے پر “تیزی اور طاقت” کے ساتھ کارروائی کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا،
“امید ہے کہ ایران فوری طور پر مذاکرات کی میز پر آئے اور ایک منصفانہ اور مساوی معاہدہ کرے — کوئی جوہری ہتھیار نہیں — جو تمام فریقوں کے لیے بہتر ہو۔ وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔”

خطے میں امریکی فوجی موجودگی میں اضافہ

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ یو ایس ایس ابراہم لنکن کیریئر اسٹرائیک گروپ، جس میں جدید جنگی طیارے اور گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز شامل ہیں، خطے میں تعینات کیا جا چکا ہے۔

امریکی محکمہ دفاع نے تاحال کسی فوری فوجی کارروائی کی تصدیق نہیں کی، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ یہ بحری بیڑا امریکا کو کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے متعدد آپشنز فراہم کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں  ایک اور سابق سوویت ریاست کے دارالحکومت میں احتجاج بھڑکنے کی وجہ کیا ہے؟

صدر ٹرمپ کا ماضی کی کارروائیوں کا حوالہ

صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں ایران کے خلاف ماضی کی امریکی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر اس بار بھی معاہدہ نہ ہوا تو آئندہ کارروائی “کہیں زیادہ تباہ کن” ہوگی۔

ان کا کہنا تھا،
“ایران نے پہلے بھی معاہدہ نہیں کیا تھا اور اس کے نتائج بھگتے۔ اگلی کارروائی اس سے کہیں زیادہ سنگین ہوگی۔ ایسا دوبارہ ہونے نہ دیں۔”

یہ بیان ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے صدر ٹرمپ کے سخت مؤقف کی عکاسی کرتا ہے، جس کے تحت امریکا ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت دینے کے حق میں نہیں۔

ایران کا دباؤ میں مذاکرات سے انکار

ایرانی حکام بارہا کہہ چکے ہیں کہ وہ فوجی دباؤ کے تحت مذاکرات نہیں کریں گے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے، تاہم امریکا اور اس کے اتحادی اس دعوے کو مسترد کرتے ہیں۔

تہران نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی امریکی حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا، جس کے باعث خطے میں وسیع پیمانے پر تصادم کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

عالمی تشویش میں اضافہ

صدر ٹرمپ کے حالیہ بیان کے بعد عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے۔ کئی ممالک اور علاقائی طاقتیں فریقین سے تحمل اور سفارتکاری کے ذریعے مسئلے کے حل پر زور دے رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق کسی بھی غلط اندازے کے نتیجے میں صورتحال تیزی سے جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے، جس کے عالمی معیشت اور توانائی کی ترسیل پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں  ممکنہ امریکی مداخلت: ایران نے امریکی فوج کی میزبانی کرنے والے ہمسایہ ممالک کو سخت جوابی کارروائی سے خبردار کر دیا

تاحال یہ واضح نہیں کہ آیا صدر ٹرمپ کا یہ انتباہ ایران کو مذاکرات پر آمادہ کرے گا یا خطہ ایک نئے بحران کی جانب بڑھ رہا ہے۔

آصف شاہد
آصف شاہدhttps://urdu.defencetalks.com
آصف شاہد صحافت کا پچیس سالہ تجربہ رکھتے ہیں ۔ وہ ڈیفنس ٹاکس کے ایڈیٹر ہیں ۔انہوں نے اپنی صلاحیتوں ، وسیع صحافتی تجربے اور مطالعہ سے ڈیفنس ٹاکس کو دفاع، سلامتی اور سفارت کاری سے متعلق ایک ایسا پلیٹ فارم بنا دیا ہے ۔ جس کے سنجیدہ اردو قارئین ایک مدت سے منتظر تھے ۔ آصف شاہد یہ ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے متعدد قومی اخبارات اور ٹی وی چینلوں میں مختلف عہدوں پر کام کر چکے ہیں ۔ انہوں نے خبریں گروپ میں جوائنٹ ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دیں اور قارئین کو اعلیٰ معیار کے مواد کی فراہمی پر روایت ساز ایڈیٹر ضیا شاہد سے داد پائی۔ انہوں نے میڈیا کے تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے منظر نامے میں موافقت کا مظاہرہ کیا اور اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے پرنٹ میڈیا کے بجائے الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کو منتخب کیا ۔ڈان ٹی وی پر لکھے گئے ان کے فکر انگیز کالم حوالے کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں ۔ان کالموں نے ریٹینگ میں بھی نمایاں درجہ حاصل کیا۔وہ تاریخ ، ادب اور کئی زبانوں کا علم رکھتے ہیں ۔وہ قارئین کو خطے کی سیاست ، سلامتی اور سماجی پیش رفت کے درمیان پیچیدہ تعامل کے بارے میں باریک بینی اور وضاحت کے ساتھ آگاہ کرتے ہیں ۔مذہب کے مطالعہ کی وجہ سے مذہبی تحریکوں کی سوچ کو سمجھتے ہیں اور یہ ان کے لیے قارئین کو عالم اسلام اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے درست پس منظر میں پیش کرنے کے لیے مدد گار ہے ۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین