امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی اپوزیشن رہنما رضا پہلوی کی ایران میں ممکنہ قیادت پر شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ذاتی طور پر اچھے انسان لگتے ہیں، لیکن یہ واضح نہیں کہ آیا ایرانی عوام انہیں اپنا لیڈر تسلیم کریں گے یا نہیں۔
اوول آفس میں خبر رساں ادارے رائٹرز کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ فی الحال کسی ایک ایرانی اپوزیشن شخصیت کی مکمل حمایت کے مرحلے تک نہیں پہنچا۔
“وہ بظاہر بہت اچھے انسان ہیں، لیکن مجھے نہیں معلوم کہ وہ اپنے ملک میں کس طرح قبول کیے جائیں گے،” ٹرمپ نے کہا۔
ایران کی اپوزیشن اور امریکی احتیاط
ٹرمپ کے یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب ایران میں مذہبی قیادت کے خلاف احتجاجی تحریک جاری ہے اور سیکیورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن میں ہزاروں افراد کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آ چکی ہیں۔ امریکی صدر ماضی میں مظاہرین کی حمایت میں ممکنہ مداخلت کی دھمکی دیتے رہے ہیں، تاہم رضا پہلوی کی کھلی حمایت سے گریز کرتے نظر آئے۔
رضا پہلوی، جو ایران کے آخری شاہ محمد رضا پہلوی کے بیٹے ہیں، 1979 کے اسلامی انقلاب سے قبل ہی ملک چھوڑ چکے تھے اور تب سے امریکہ میں مقیم ہیں۔ وہ حالیہ برسوں میں ایرانی احتجاجی تحریک میں ایک نمایاں آواز بن کر ابھرے ہیں، مگر ایران کی اپوزیشن مختلف نظریاتی اور سیاسی دھڑوں میں منقسم ہے اور اندرونِ ملک اس کی کوئی مضبوط تنظیمی موجودگی دکھائی نہیں دیتی۔
ماہرین کی رائے
چیتھم ہاؤس کی مشرقِ وسطیٰ و شمالی افریقہ پروگرام کی نائب ڈائریکٹر سانم وکیل کے مطابق رضا پہلوی کو بعض مظاہرین میں پذیرائی ضرور ملی ہے، لیکن ان کی مجموعی عوامی حمایت کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔
“یہ کہنا مشکل ہے کہ ایران میں کسی بھی اپوزیشن رہنما کو کتنی حمایت حاصل ہے،” انہوں نے کہا۔
حکومت کے خاتمے کا امکان؟
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی موجودہ حکومت احتجاجی دباؤ کے باعث گر بھی سکتی ہے، تاہم انہوں نے اس حوالے سے کوئی حتمی پیش گوئی نہیں کی۔
“کوئی بھی نظام ناکام ہو سکتا ہے،” ٹرمپ نے کہا، اور اس دور کو ایران کے لیے “دلچسپ مگر غیر یقینی” قرار دیا۔
یوکرین، روس اور داخلی سیاست پر تبصرہ
انٹرویو کے دوران صدر ٹرمپ نے یوکرین جنگ پر بھی بات کی اور مذاکرات میں تعطل کا ذمہ دار یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی کو قرار دیا۔ ان کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پیوٹن معاہدے کے لیے تیار ہیں، لیکن رکاوٹ کیف کی جانب سے آ رہی ہے۔
ٹرمپ نے فیڈرل ریزرو کے سربراہ جیروم پاول سے متعلق محکمۂ انصاف کی تحقیقات پر اپنی جماعت کے سینیٹرز کی تنقید کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے ارکان کو وفادار ہونا چاہیے۔
وینزویلا، معیشت اور ڈیووس اجلاس
صدر ٹرمپ نے تصدیق کی کہ وہ وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچادو سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کریں گے۔ انہوں نے ماچادو کو “اچھی خاتون” قرار دیا اور کہا کہ بات چیت بنیادی امور تک محدود رہے گی۔
امریکی صدر نے ملکی معیشت کی مضبوطی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ آئندہ ہفتے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ہونے والے ورلڈ اکنامک فورم میں امریکہ کی معاشی کارکردگی کو اجاگر کریں گے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق اس موقع پر وہ سوئٹزرلینڈ، پولینڈ اور مصر کے رہنماؤں سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔




