امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی حکام نے پُرامن مظاہرین پر فائرنگ کی اور انہیں ہلاک کیا تو امریکہ مداخلت کے لیے تیار ہے۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر لکھا کہ امریکہ “لاکڈ اینڈ لوڈڈ” ہے اور کارروائی کے لیے تیار ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران میں گزشتہ تین برسوں کی سب سے بڑی عوامی احتجاجی لہر کے دوران متعدد افراد کی ہلاکت کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں اور مظاہرے کئی صوبوں تک پھیل چکے ہیں۔

معاشی بحران سے جنم لینے والا احتجاج
ایران میں حالیہ احتجاج کا آغاز اتوار کے روز دکانداروں کی جانب سے ہوا، جنہوں نے کرنسی کی قدر میں تیز گراوٹ، مہنگائی میں بے پناہ اضافے اور حکومتی معاشی پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھائی۔ چند ہی دنوں میں یہ احتجاج بڑے شہروں اور صوبوں تک پھیل گیا، جہاں طلبہ، مزدور اور متوسط طبقہ بھی سڑکوں پر نکل آیا۔
بعض مقامات پر مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جن میں جانی نقصان کی اطلاعات نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا۔

تشدد میں اضافہ اور ریاستی ردِعمل
عینی شاہدین اور مقامی ذرائع کے مطابق، سکیورٹی فورسز نے کئی شہروں میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا۔ یہی تشدد ٹرمپ کے بیان کا پس منظر بنا، جس میں انہوں نے ایرانی حکومت کو پُرامن مظاہرین کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، اس طرح کے بیانات ایران کے اندرونی حالات کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیتے ہیں، مگر ساتھ ہی کشیدگی میں اضافے کا خطرہ بھی پیدا کرتے ہیں۔
ایرانی معیشت اور پابندیوں کا پس منظر
ایران کی معیشت برسوں سے دباؤ کا شکار ہے، جس کی ایک بڑی وجہ 2018 میں امریکہ کی جانب سے سخت اقتصادی پابندیوں کی بحالی تھی۔ یہ پابندیاں اس وقت دوبارہ نافذ کی گئیں جب ٹرمپ نے اپنی پہلی مدتِ صدارت کے دوران عالمی جوہری معاہدے سے دستبرداری اختیار کی۔
ان پابندیوں کے بعد:
- ایرانی کرنسی مسلسل کمزور ہوئی
- افراطِ زر میں نمایاں اضافہ ہوا
- روزمرہ اشیائے ضروریہ عوام کی پہنچ سے دور ہوتی چلی گئیں
موجودہ احتجاج اسی طویل معاشی دباؤ کا تازہ اظہار سمجھا جا رہا ہے۔
ٹرمپ کے بیان کی سفارتی اہمیت
ٹرمپ کا سخت لہجہ امریکی خارجہ پالیسی میں ایک جارحانہ پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اگرچہ انہوں نے کسی مخصوص کارروائی کی وضاحت نہیں کی، مگر “لاکڈ اینڈ لوڈڈ” جیسے الفاظ نے خطے میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
ماضی میں بھی امریکی صدور کی جانب سے ایران کو سخت وارننگز دی جاتی رہی ہیں، تاہم عملی مداخلت کم ہی دیکھنے میں آئی ہے، جس کے باعث ماہرین ٹرمپ کے بیان کو سیاسی دباؤ اور اسٹریٹجک سگنلنگ قرار دے رہے ہیں۔

ایران کا ممکنہ ردِعمل اور علاقائی اثرات
ایرانی حکام کی جانب سے تاحال ٹرمپ کے بیان پر باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا، مگر ماضی کے تجربات کے مطابق تہران بیرونی دباؤ کو داخلی معاملات میں مداخلت قرار دیتا رہا ہے۔
خطے کے ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ ایران میں بڑھتا ہوا عدم استحکام نہ صرف داخلی سیاست بلکہ:
- مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی
- توانائی کی عالمی منڈیوں
- اور امریکہ–ایران تعلقات
پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
آگے کیا ہو سکتا ہے؟
موجودہ صورتحال میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آیا احتجاج مزید پھیلتا ہے یا نہیں، اور آیا ریاستی ردِعمل میں نرمی آتی ہے یا سختی۔ ٹرمپ کے بیان نے اس اندرونی بحران کو عالمی سیاسی تناظر دے دیا ہے، جس سے آنے والے دنوں میں سفارتی دباؤ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔




