اتوار, 29 مارچ, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

امریکی امن منصوبہ: یوکرین نے اہم رعایتیں حاصل کر لیں، روس بدستور علاقائی مؤقف پر قائم

یوکرین نے روس کے خلاف جنگ کے خاتمے کے لیے تیار کیے گئے تازہ امریکی قیادت میں امن منصوبے میں بعض اہم رعایتیں حاصل کر لی ہیں، تاہم علاقائی معاملات اور ماسکو کی ممکنہ منظوری سے متعلق بنیادی سوالات اب بھی برقرار ہیں۔ صدر ولادیمیر زیلنسکی  نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے اس 20 نکاتی مسودے کی تفصیلات پیش کیں۔

یوکرین اور امریکا کے مذاکرات کاروں کے درمیان طے پانے والا یہ منصوبہ اس وقت روس کے زیرِ غور ہے، لیکن کریملن کی جانب سے مشرقی یوکرین سے مکمل یوکرینی انخلا کے مطالبے سے دستبرداری کے آثار نظر نہیں آ رہے۔

صدر زیلنسکی نے اعتراف کیا کہ مسودے میں شامل بعض نکات انہیں پسند نہیں، تاہم کیف اس بات میں کامیاب رہا ہے کہ ڈونیٹسک سے فوری انخلا اور روس کے زیر قبضہ علاقوں کو قانونی طور پر روسی تسلیم کرنے کی شرائط مسودے سے خارج کر دی جائیں۔ اسی طرح یوکرین سے NATO کی رکنیت سے دستبرداری کی قانونی شرط بھی ہٹا دی گئی ہے۔

غیرفوجی زونز اور مرحلہ وار فیصلے

اگرچہ منصوبہ یوکرینی افواج کے فوری انخلا کو لازمی قرار نہیں دیتا، تاہم یہ مستقبل میں فوجی تعیناتی میں تبدیلی اور بعض علاقوں میں غیر فوجی یا آزاد اقتصادی زونز کے قیام کی راہ ہموار کرتا ہے۔ زیلنسکی کے مطابق، ڈونیٹسک، لوہانسک، زاپوریزیا اور خیرسون میں موجودہ فوجی لائن کو وقتی طور پر لائن آف کانٹیکٹ تسلیم کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں  روس نے مشرقی یوکرین کے اہم قصبے کا کنٹرول حاصل کر لیا، روس کے جنگی بلاگرز کا دعویٰ

انہوں نے کہا کہ ایک ورکنگ گروپ تشکیل دیا جائے گا جو جنگ کے خاتمے کے لیے ضروری فوجی ردوبدل اور ممکنہ خصوصی اقتصادی زونز کے خدوخال طے کرے گا۔

امریکی دباؤ، روسی سخت مؤقف

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ماسکو اور کیف پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ 2022 میں شروع ہونے والی چار سالہ جنگ کو ختم کیا جائے۔ اس جنگ میں دسیوں ہزار افراد ہلاک، مشرقی یوکرین تباہ اور لاکھوں شہری بے گھر ہو چکے ہیں، جبکہ روسی افواج اب بھی محاذ پر پیش قدمی اور شہروں و توانائی کے ڈھانچے پر میزائل اور ڈرون حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

روس نے 2022 میں ڈونیٹسک، لوہانسک، خیرسون اور زاپوریزیا کو اپنے ساتھ الحاق شدہ قرار دیا تھا، جبکہ کریمیہ پر اس کا قبضہ 2014 سے قائم ہے۔ صدر ولادیمیر پیوٹن نے اب تک کسی لچک کا مظاہرہ نہیں کیا اور یوکرین سے بڑے پیمانے پر انخلا اور سیاسی رعایتوں کا مطالبہ دہراتے رہے ہیں، جنہیں کیف اور یورپی اتحادی ہتھیار ڈالنے کے مترادف قرار دیتے ہیں۔

زیلنسکی نے کہا کہ اگر امریکا کی فوجی مدد ختم ہونے کا خدشہ پیدا ہوا تو یوکرین کو بعض مشکل فیصلے کرنا پڑ سکتے ہیں۔ تاہم کسی بھی ایسے معاہدے، جس میں فوجی انخلا یا آزاد اقتصادی زون شامل ہوں، کے لیے عوامی ریفرنڈم ضروری ہوگا۔

نیٹو، جوہری پلانٹ اور انتخابات

نیٹو سے متعلق زیلنسکی نے واضح کیا کہ یوکرین نے اپنی آئینی سمت تبدیل نہیں کی، اگرچہ واشنگٹن کی جانب سے فوری رکنیت کو خارج از امکان قرار دیا جا چکا ہے۔ ماسکو مسلسل نیٹو رکنیت کو جنگ کی بنیادی وجوہات میں سے ایک قرار دیتا آیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں  پاکستان بحریہ کی طاقت کا مظاہرہ: شمالی بحیرۂ عرب میں میزائل، ڈرون اور USV کی کامیاب آزمائش

منصوبے میں روس کے زیر قبضہ زاپوریزیا نیوکلیئر پاور پلانٹ کے مشترکہ امریکی، یوکرینی اور روسی انتظام کی تجویز بھی شامل ہے، جس کی زیلنسکی نے مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدارتی انتخابات امن معاہدے کے بعد ہی کرائے جائیں گے، حالانکہ اس پر ماسکو اور واشنگٹن دونوں زور دے رہے ہیں۔

روس کی جانب سے تاحال تازہ مسودے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ اس سے قبل استنبول میں ہونے والے براہِ راست مذاکرات بھی تعطل توڑنے میں ناکام رہے تھے، اور تازہ سفارتی سرگرمیوں کے باوجود فریقین کے مؤقف بدستور ایک دوسرے سے خاصے دور ہیں۔

حماد سعید
حماد سعیدhttps://urdu.defencetalks.com/author/hammad-saeed/
حماد سعید 14 سال سے صحافت سے وابستہ ہیں، مختلف اخبارات اور ٹی وی چینلز کے ساتھ کام کیا، جرائم، عدالتوں اور سیاسی امور کے علاوہ ایل ڈی اے، پی ایچ اے، واسا، کسٹم، ایل ڈبلیو ایم سی کے محکموں کی رپورٹنگ کی۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین