ستمبر 2025 میں متعدد مغربی ممالک کی جانب سے ریاستِ فلسطین کو باضابطہ تسلیم کرنا عالمی سفارت کاری کا ایک نمایاں واقعہ بن کر سامنے آیا۔ یہ پیش رفت فلسطینیوں کے لیے علامتی فتح تو ثابت ہوئی، تاہم اس نے یہ بنیادی سوال بھی جنم دیا کہ کیا یہ اقدام دہائیوں سے جاری سیاسی جمود کو توڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا محض ایک سفارتی اعلان بن کر رہ جائے گا۔
نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی 80ویں جنرل اسمبلی کے موقع پر فرانس، برطانیہ، پرتگال، کینیڈا، آسٹریلیا اور بیلجیئم سمیت کئی ممالک نے فلسطین کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔ یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا جب غزہ میں اسرائیل کی جنگ جاری تھی اور مغربی کنارے میں آبادکاری میں تیزی آ رہی تھی۔ فلسطینی قیادت نے اسے دیرینہ مطالبے کی اخلاقی توثیق قرار دیا، جبکہ ناقدین نے عملی نتائج پر شکوک ظاہر کیے۔

اس غیر معمولی سفارتی لہر میں فرانس نے قائدانہ کردار ادا کیا۔ فرانسیسی صدر Emmanuel Macron نے 22 ستمبر کو جنرل اسمبلی سے خطاب میں فلسطین کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا اور اسے دو ریاستی حل کی واضح تائید قرار دیا—جو اب بھی اسرائیل۔فلسطین تنازع کے حل کے لیے مرکزی فریم ورک سمجھا جاتا ہے۔
اس فیصلے پر اسرائیلی وزیر اعظم Benjamin Netanyahu نے سخت ردِعمل دیا اور فلسطینی ریاست کے قیام کو مسترد کرتے ہوئے اسے حماس اور 7 اکتوبر کے حملوں کے تناظر میں “دہشت گردی کے لیے انعام” قرار دیا۔
ماہرین کے مطابق فرانس کی پیش قدمی محض بیانیاتی نہیں بلکہ ایک باقاعدہ سیاسی قدم تھی۔ اسی سفارتی کوشش کے نتیجے میں “نیویارک اعلامیہ” سامنے آیا جس پر 142 ممالک نے دستخط کیے۔ فرانس اور سعودی عرب کی مشترکہ میزبانی میں ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس کے بعد جنرل اسمبلی نے 12 ستمبر کو اس اعلامیے کو منظور کیا، جس میں فلسطینی ریاست کی منظوری کو “لازمی اور ناگزیر” قرار دیا گیا اور دو ریاستی حل کے لیے ایک “ناقابلِ واپسی” روڈمیپ پیش کیا گیا—جبکہ غزہ میں کسی بھی سیاسی کردار کے لیے حماس کو خارج رکھا گیا۔
تاہم سفارتی سرگرمی کے باوجود زمینی حقائق تبدیل نہیں ہوئے۔ نہ قبضہ ختم ہوا، نہ آبادکاری رکی، نہ ہی فلسطینی شہریوں کے خلاف تشدد میں کمی آئی، اور غزہ پر حماس کی گرفت برقرار رہی۔ فرانس کا کہنا تھا کہ منظوری سے اسرائیل پر جنگ بندی کے لیے دباؤ بڑھا، جس کے بعد چند ہفتوں میں امریکی دباؤ پر غزہ میں جنگ بندی سامنے آئی—جس کا سہرا امریکی صدر Donald Trump کی سفارتی کوششوں کو دیا گیا—لیکن طاقت کا توازن جوں کا توں رہا۔
تجزیہ کار خبردار کرتے ہیں کہ اگر نیویارک اعلامیے پر ٹھوس عملدرآمد، اسرائیلی حکومت پر منظم دباؤ اور امریکی پالیسی میں واضح توازن نہ آیا تو یہ منظوری محض علامتی رہ جائے گی—بلکہ بعض پہلوؤں سے الٹا نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ یورپی ممالک کے پاس زمینی سطح پر وہ اثر و رسوخ نہیں جو امریکا کے پاس ہے، جبکہ واشنگٹن نے نہ صرف اس منظوری بلکہ اعلامیے کی بھی مخالفت کی۔

یہ سفارتی رفتار جلد ہی ٹرمپ کے امن منصوبے کے سائے میں دب گئی، جس نے غزہ میں جنگ بندی تو کروا دی مگر اس کی ساخت امریکی اور اسرائیلی سکیورٹی ترجیحات کے گرد گھومتی رہی، جس سے فلسطینی شکایات جوں کی توں رہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر عالمی برادری نے منظوری کے بعد مشترکہ اور مؤثر اقدامات نہ کیے تو 2025 کی یہ پیش رفت تاریخ میں ایک طاقتور مگر بے اثر اشارے کے طور پر یاد رکھی جائے گی—ایسا اشارہ جو فلسطینیوں کی روزمرہ زندگی بدلنے میں ناکام رہا۔




