جب امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن اور اس کے ساتھ موجود کیریئر اسٹرائیک گروپ خطے میں پہنچے تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز اعلان کیا کہ ایک اور “خوبصورت آرمادا” ایران کی جانب روانہ ہو چکی ہے۔ صدر ٹرمپ کا یہ بیان نہ صرف فوجی نقل و حرکت کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ اس میں استعمال ہونے والا لفظ “آرمادا” بھی خاص توجہ حاصل کر رہا ہے۔
عام طور پر امریکی فوجی تعیناتیوں کے لیے فلیٹ، نیوی یا کیریئر اسٹرائیک گروپ جیسے تکنیکی الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں، مگر صدر ٹرمپ کی جانب سے بار بار “آرمادا” کا استعمال ایک سوچا سمجھا سیاسی اور نفسیاتی پیغام سمجھا جا رہا ہے۔
’آرمادا‘ کی تاریخی اور لسانی اہمیت
لفظ آرمادا کی جڑیں سولہویں صدی کے یورپ میں ملتی ہیں، جہاں یہ اصطلاح 1588ء میں انگلینڈ پر حملے کے لیے روانہ ہونے والی ہسپانوی آرمادا کے لیے استعمال ہوئی۔ اس وقت یہ دنیا کا سب سے بڑا بحری بیڑا تھا، جس میں تقریباً 130 جنگی اور معاون جہاز شامل تھے۔
لسانی طور پر آرمادا ایک ہسپانوی لفظ ہے، جس کا مطلب ہے “مسلح بحری بیڑا”، اور یہ لاطینی فعل armare سے نکلا ہے، جس کے معنی ہیں “ہتھیاروں سے لیس کرنا”۔ وقت کے ساتھ یہ لفظ صرف فوجی اصطلاح نہیں رہا بلکہ طاقت، غلبے، عزائم اور برتری کی علامت بن گیا۔
سیاسی اور نفسیاتی پیغام
ماہرین کے مطابق صدر ٹرمپ کی جانب سے “آرمادا” کا استعمال محض الفاظ کا انتخاب نہیں بلکہ طاقت کے اظہار، نفسیاتی دباؤ اور سیاسی علامت سازی کا حصہ ہے۔
یہ لفظ امریکی بحری طاقت کو تکنیکی تفصیل کے بجائے ایک عظیم اور خوف پیدا کرنے والی قوت کے طور پر پیش کرتا ہے، جس میں طیارہ بردار جہاز، ڈسٹرائرز، جنگی طیارے، حملہ آور ہیلی کاپٹرز اور ہزاروں فوجی شامل ہوتے ہیں۔
سیاسی ادب کے مطابق ایسی زبان عملی کارروائی سے پہلے علامتی طاقت کے مظاہرے کے مترادف ہوتی ہے، جس کا مقصد دشمن کے ساتھ ساتھ اندرونِ ملک اور عالمی رائے عامہ پر اثر ڈالنا ہوتا ہے۔
طویل المدتی حکمتِ عملی کا اشارہ
فوجی اصطلاحات جیسے “آپریشن” یا “مشن” کے برعکس، آرمادا کا لفظ ایک طویل المدتی اور مکمل فوجی دباؤ کی تصویر پیش کرتا ہے۔ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ یہ کوئی وقتی یا ردعمل پر مبنی اقدام نہیں بلکہ ایک وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد طاقت کا توازن تبدیل کرنا اور مکمل برتری حاصل کرنا ہے۔
یہ حکمت عملی بین الاقوامی سیاست میں “طاقت کے مظاہرے” کے اصول سے جڑی ہے، جہاں الفاظ، علامات اور تاثر ہتھیاروں جتنی اہمیت رکھتے ہیں۔
’پیکس رومانا‘ اور امریکی مؤقف
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ طرزِ بیان وائٹ ہاؤس کے اس نظریے سے مطابقت رکھتا ہے جسے بعض حلقے “پیکس رومانا” سے تشبیہ دیتے ہیں، یعنی ایسا امن جو مذاکرات کے بجائے بھاری فوجی طاقت کے ذریعے قائم رکھا جائے۔
اس تناظر میں امریکا تنہائی کی پالیسی اختیار نہیں کر رہا بلکہ طاقت کا مظاہرہ کر کے اپنی مرضی اور برتری منوانا چاہتا ہے۔
ایران نہیں، آغاز کہیں اور سے
صدر ٹرمپ کی جانب سے آرمادا کا لفظ پہلے کیریبین میں وینزویلا کے تناظر میں اور اب ایران کے لیے استعمال کیا جانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکی فوجی طاقت کا مظاہرہ محدود نہیں رہے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق وینزویلا ممکنہ طور پر صرف آغاز تھا، اور مستقبل میں امریکی بحری طاقت کے مظاہرے دیگر خطوں تک بھی پھیل سکتے ہیں۔
لفظ نہیں، ایک سیاسی ہتھیار
اس تناظر میں دیکھا جائے تو صدر ٹرمپ کی تقریروں میں “آرمادا” محض ایک لفظ نہیں بلکہ سیاسی ہتھیار بن چکا ہے — جس کا مقصد طاقت کا اعلان، مخالف کو خوف زدہ کرنا، اور واشنگٹن کے مطلوبہ عالمی نظم کو ازسرِنو متعین کرنا ہے۔




