بلومبرگ نیوز کے مطابق جرمنی اور بھارت ایک ایسے اہم دفاعی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے قریب ہیں جس کی مالیت کم از کم 8 ارب ڈالر بتائی جا رہی ہے۔ یہ معاہدہ بھارتی بحریہ کے لیے جدید ڈیزل الیکٹرک آبدوزوں کی فراہمی سے متعلق ہے اور اسے بھارت کے طویل المدتی منصوبے پروجیکٹ 75(آئی) کا مرکزی حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق جرمن کمپنی ThyssenKrupp Marine Systems (TKMS) اس دوڑ میں سب سے آگے ہے، جبکہ آبدوزوں کی مقامی تیاری اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر کے لیے بھارتی شپ یارڈز کے ساتھ شراکت متوقع ہے۔ یہ انتظام میک اِن انڈیا پالیسی سے ہم آہنگ ہے، جس کا مقصد دفاعی پیداوار میں خودانحصاری بڑھانا ہے۔
Germany and India are hammering out the details of a submarine manufacturing deal worth at least $8 billion — the largest-ever defense agreement for New Delhi https://t.co/qOLmsR4ohc
— Bloomberg (@business) January 8, 2026
پروجیکٹ 75(آئی) اور بحری حکمتِ عملی
پروجیکٹ 75(آئی) کے تحت چھ جدید آبدوزیں حاصل کی جانی ہیں جن میں ایئر انڈیپنڈنٹ پروپلشن (AIP) جیسی صلاحیتیں شامل ہوں گی، تاکہ طویل مدت تک زیرِ آب آپریشن ممکن ہو۔ دفاعی ماہرین کے مطابق یہ آبدوزیں بحیرۂ ہند کے خطے میں نگرانی، انسدادِ آبدوز جنگ (ASW) اور باز deterrence میں نمایاں اضافہ کریں گی—خاص طور پر خطے میں بڑھتی بحری سرگرمیوں کے تناظر میں۔
پیداوار، لاگت اور ٹائم لائن
ذرائع کا کہنا ہے کہ معاہدے کی مجموعی مالیت میں ٹیکنالوجی شیئرنگ، مقامی اسمبلی، تربیت اور طویل المدتی لاجسٹک سپورٹ شامل ہوں گے، جس کی وجہ سے لاگت پہلے اندازوں سے زیادہ ہے۔ حتمی دستخط رواں سال اعلیٰ سطحی سفارتی رابطوں کے دوران متوقع ہیں، جبکہ ترسیل مرحلہ وار کئی برسوں میں مکمل ہوگی۔
علاقائی و عالمی اثرات
یہ معاہدہ بھارت-جرمنی دفاعی شراکت داری کو نئی سطح پر لے جائے گا اور بھارت کی بحری قوت کو جدید بناتے ہوئے خطے میں طاقت کے توازن پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ جرمنی کے لیے یہ ایشیا میں دفاعی برآمدات کے دائرۂ کار میں اہم توسیع سمجھی جا رہی ہے۔




