جمعرات, 19 مارچ, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

چین کا بنگلہ دیش میں فوجی ڈرون فیکٹری قائم کرنے کا فیصلہ: خلیجِ بنگال میں طاقت کے توازن میں بڑی اسٹریٹجک تبدیلی

چین کا بنگلہ دیش میں ایک بڑی فوجی ڈرون مینوفیکچرنگ فیکٹری قائم کرنے کا فیصلہ جنوبی ایشیا کے دفاعی اور جغرافیائی سیاسی منظرنامے میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔ 608 کروڑ ٹکہ (تقریباً 55.3 ملین امریکی ڈالر) مالیت کا یہ منصوبہ نہ صرف بیجنگ کے اثر و رسوخ کو خلیجِ بنگال میں مزید مضبوط کرتا ہے بلکہ بھارت کے لیے بھی ایک واضح اسٹریٹجک تشویش کا باعث بن رہا ہے ۔

یہ منصوبہ بنگلہ دیش کی وزارتِ خزانہ کی منظوری سے حکومت سے حکومت (G2G) معاہدے کے تحت شروع کیا جا رہا ہے، جس میں بنگلہ دیش ایئر فورس کو عملدرآمدی ادارہ مقرر کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت چین کی سرکاری دفاعی کمپنی چائنا الیکٹرانکس ٹیکنالوجی گروپ کارپوریشن (CETC) بنگلہ دیش کو ڈرون سازی کی ٹیکنالوجی منتقل کرے گی، جو ریڈار، الیکٹرانک وارفیئر اور بغیر پائلٹ فضائی نظاموں کے شعبے میں عالمی سطح پر معروف ہے ۔

فیکٹری میں کون سے ڈرون تیار ہوں گے؟

اگرچہ سرکاری دستاویزات میں کسی مخصوص ماڈل کا نام نہیں لیا گیا، تاہم دفاعی صنعت کے تجزیہ کاروں کے مطابق اس فیکٹری میں زیادہ امکان ہے کہ ونگ لونگ–II (Wing Loong II) ڈرون تیار کیے جائیں گے، جو ایک میڈیم آلٹیٹیو لانگ اینڈیورنس (MALE) مسلح ڈرون ہے اور اکثر امریکی MQ-9 ریپر سے موازنہ کیا جاتا ہے ۔

ونگ لونگ–II کی نمایاں خصوصیات میں شامل ہیں:

  • تقریباً 32 گھنٹے پرواز کی صلاحیت
  • 480 کلوگرام تک ہتھیار اور سینسر لے جانے کی گنجائش
  • درست نشانہ بنانے والے گائیڈڈ میزائل اور بم
  • جدید الیکٹرو آپٹیکل، انفرا ریڈ اور ریڈار سینسر
یہ بھی پڑھیں  امریکہ ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائیوں پر غور میں مصروف، ٹرمپ انتظامیہ کے جارحانہ آپشنز زیرِ بحث

یہ صلاحیتیں بنگلہ دیش کو خلیجِ بنگال میں طویل دورانیے کی سمندری نگرانی، غیر قانونی ماہی گیری، قزاقی اور گرے زون سرگرمیوں پر نظر رکھنے میں نمایاں برتری فراہم کریں گی۔

چین اور بنگلہ دیش کے لیے اسٹریٹجک اہمیت

چین کے لیے یہ منصوبہ محض اسلحہ فروخت نہیں بلکہ دفاعی صنعت کے ذریعے طویل المدتی اثر و رسوخ قائم کرنے کی کوشش ہے۔ بنگلہ دیش میں ڈرون مینوفیکچرنگ چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو سے جڑی بندرگاہی اور انفراسٹرکچر سرمایہ کاری کے ساتھ مل کر ایک ایسا نیٹ ورک بناتی ہے جس میں سویلین اور فوجی مقاصد کے درمیان حد دھندلا جاتی ہے ۔

بنگلہ دیش کے لیے یہ فیکٹری اس کے Forces Goal 2030 منصوبے سے مکمل ہم آہنگ ہے، جس کا مقصد:

  • دفاعی خود انحصاری
  • دیکھ بھال اور آپریشنل اخراجات میں کمی
  • غیر ملکی سپلائی چین پر انحصار کم کرنا
  • فضائی طاقت کو جدید نیٹ ورک سینٹرک نظام سے جوڑنا

بھارت کی تشویش کیوں بڑھ رہی ہے؟

نئی دہلی میں اس منصوبے کو چین کی جانب سے بھارت کے گرد دفاعی اور عسکری دائرہ بندی (Strategic Encirclement) کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ بنگلہ دیش بھارت کے حساس شمال مشرقی علاقوں کے بالکل قریب واقع ہے۔

بھارتی دفاعی حلقوں کو خدشہ ہے کہ CETC کی فراہم کردہ ٹیکنالوجی—جس میں الیکٹرانک وارفیئر، محفوظ ڈیٹا لنکس اور سینسر فیوژن شامل ہیں—بنگلہ دیش کو ایک ایسا UAV نیٹ ورک فراہم کر سکتی ہے جو متنازع الیکٹرو میگنیٹک ماحول میں بھی مؤثر رہے ۔

یہ بھی پڑھیں  بائیڈن نے یوکرین کے لیے آٹھ ارب ڈالر فوجی امداد کا اعلان کردیا

بھارت–بنگلہ دیش دفاعی خلا

ماہرین کے مطابق بھارت کی تشویش اس لیے بھی مؤثر ثابت نہیں ہو رہی کہ وہ بنگلہ دیش کو دفاعی میدان میں قابلِ اعتماد متبادل فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ 2019 میں اعلان کردہ 500 ملین ڈالر کی دفاعی لائن آف کریڈٹ پر سست پیش رفت نے ڈھاکہ کو بیجنگ کی طرف مزید مائل کیا ۔

اسی خلا کا نتیجہ تھا کہ بنگلہ دیش نے بھارتی تیجس کے بجائے چینی نژاد JF-17 لڑاکا طیاروں کا انتخاب کیا۔

علاقائی اثرات اور مستقبل

2019 سے 2023 کے دوران چین کی عالمی اسلحہ برآمدات میں بنگلہ دیش کا حصہ تقریباً 11 فیصد رہا۔ اب مقامی پیداوار کے ذریعے چین اور بنگلہ دیش کا تعلق محض خریدار–فروخت کنندہ کے بجائے ساختی دفاعی شراکت داری میں تبدیل ہو رہا ہے، جس سے مستقبل میں بنگلہ دیش کے لیے چینی نظام سے الگ ہونا مزید مشکل ہو جائے گا ۔

یہ فیکٹری مستقبل میں بنگلہ دیش کو علاقائی ڈرون اسمبلنگ یا برآمدی مرکز بنانے کی بنیاد بھی رکھ سکتی ہے۔

نتیجہ

2026 کے آخر تک متوقع طور پر فعال ہونے والی یہ ڈرون فیکٹری صرف ایک صنعتی منصوبہ نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک سگنل ہے کہ بنگلہ دیش بدلتے ہوئے عالمی طاقت کے ماحول میں اپنی دفاعی خودمختاری کو ازسرِنو ترتیب دے رہا ہے۔

یہ اقدام خطے میں استحکام لائے گا یا مسلح ڈرونز کی نئی دوڑ کو جنم دے گا—اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ بھارت، چین اور دیگر علاقائی طاقتیں اس تبدیلی کو کس زاویے سے دیکھتی اور اس کا جواب کیسے دیتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں  ریاض میں سعودی جھنڈے کے ساتھ F-35 طیاروں کی اڑان، سعودی عرب کے 48 اسٹیلتھ لڑاکا طیارے خریدنے کے منصوبے کا اشارہ
انجم ندیم
انجم ندیم
انجم ندیم صحافت کے شعبے میں پندرہ سال کا تجربہ رکھتے ہیں۔ اس دوران انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز ملک کے مین سٹریم چینلز میں بطور رپورٹر کیا اور پھر بیورو چیف اور ریزیڈنٹ ایڈیٹر جیسے اہم صحافتی عہدوں پر فائز رہے۔ وہ اخبارات اور ویب سائٹس پر ادارتی اور سیاسی ڈائریاں بھی لکھتے ہیں۔ انجم ندیم نے سیاست اور جرائم سمیت ہر قسم کے موضوعات پر معیاری خبریں نشر اور شائع کرکے اپنی صلاحیت کا ثبوت دیا۔ ان کی خبر کو نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا گیا۔ انجم ندیم نے ملک کے جنگ زدہ علاقوں میں بھی رپورٹنگ کی۔ انہوں نے امریکہ سے سٹریٹیجک اور گلوبل کمیونیکیشن پر فیلو شپ کی ہے۔ انجم ندیم کو پاکستان کے علاوہ بین الاقوامی خبر رساں اداروں میں بھی انتہائی اہم عہدوں پر کام کرنے کا تجربہ ہے۔ انجم ندیم ملکی اور بین الاقوامی سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ وہ کالم نگار بھی ہیں۔ صحافتی گھرانے سے تعلق رکھنے والے انجم ندیم قانون کو بھی پیشے کے طور پر کرتے ہیں تاہم وہ صحافت کو اپنی شناخت سمجھتے ہیں۔ وہ انسانی حقوق، اقلیتوں کے مسائل، سیاست اور مشرق وسطیٰ میں بدلتی ہوئی اسٹریٹجک تبدیلیوں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین