ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ (HAL) کی جانب سے رافیل طیاروں کی مبینہ مقامی پیداوار سے متعلق میڈیا رپورٹس کی باضابطہ تردید محض ایک وضاحتی بیان نہیں، بلکہ یہ بھارت کے دفاعی خریداری نظام اور آتم نربھر بھارت (خود انحصاری) پالیسی کی ساختی کمزوریوں کو نمایاں کرتی ہے۔
HAL کے مطابق اسے نہ تو وزارتِ دفاع اور نہ ہی Dassault Aviation کی جانب سے کسی ایسے معاہدے کی سرکاری اطلاع دی گئی ہے جس کے تحت رافیل طیاروں کی پیداوار HAL کی تنصیبات میں کی جائے۔ یہ بیان اُن رپورٹس کے بالکل برعکس ہے جن میں ترسیلی شیڈول، مقامی تیاری کا تناسب اور پیداواری ذمہ داریوں کو طے شدہ حقائق کے طور پر پیش کیا گیا۔
HAL filing states HAL did not receive any such official communication from MoD or Dassault.
– Use of salt was necessary after all it seems. https://t.co/y9bCzislG6 pic.twitter.com/JMoMNO6uZV— Adithya Krishna Menon (@AdithyaKM_) February 13, 2026
پالیسی اعلانات یا میڈیا لیکس؟
بھارت کی جنگی طیارہ خریداری کی تاریخ بتدریج ایسے ماڈل کی عکاس بنتی جا رہی ہے جہاں پالیسی فیصلے باضابطہ ادارہ جاتی عمل کے بجائے میڈیا رپورٹس کے ذریعے سامنے آتے ہیں۔ رافیل معاملے میں بھی یہی رجحان دکھائی دیتا ہے—قبل از وقت تفصیلات، سیاسی اشارے، اور بعد ازاں سرکاری تردید۔
یہ طرزِ عمل شفافیت اور جواب دہی کو کمزور کرتا ہے۔ اگر ملک کا سب سے بڑا فضائی ادارہ یہ کہنے پر مجبور ہو کہ اسے کسی معاہدے کی تفصیلات کا علم ہی نہیں، تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اصل فیصلہ سازی کہاں ہو رہی ہے؟
آتم نربھر بھارت: نعرہ یا نظام؟
رافیل کیس آتم نربھر بھارت پالیسی کے ایک بنیادی تضاد کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔ پالیسی کا دعویٰ ہے کہ بھارت دفاعی پیداوار میں خود کفالت حاصل کرے گا، مگر عملی سطح پر مقامی تیاری:
- محدود
- منتشر
- اور سودے بازی پر مبنی
دکھائی دیتی ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ رافیل پروگرام میں مقامی صنعتی شمولیت HAL کے بجائے Tata Advanced Systems Limited کو دی گئی ہے، جہاں صرف فوزلاژ سیکشنز کی اسمبلنگ ہوگی۔ اگر بھارت کا مرکزی جنگی طیارہ ساز ادارہ اس پروگرام کا مرکز نہیں، تو یہ سوال ناگزیر ہو جاتا ہے کہ:
- کیا HAL کی صلاحیتوں پر اعتماد نہیں؟
- یا آتم نربھر بھارت محض “اسمبلی انڈیا” تک محدود ہو چکا ہے؟
رافیل بطور شارٹ کٹ حکمتِ عملی
اطلاعات کے مطابق بھارت طویل عرصے سے جاری MRFA (114 جنگی طیاروں) کے مقابلہ جاتی پروگرام کو ترک کر کے براہِ راست رافیل خریدنے کا فیصلہ کر سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو یہ فیصلہ:
- ایک دہائی پر محیط مسابقتی عمل کو بے معنی بنا دے گا
- دیگر عالمی پلیٹ فارمز کو خود بخود خارج کر دے گا
- اور دفاعی خریداری کو ادارہ جاتی مقابلے کے بجائے سیاسی سہولت کے تابع کر دے گا
اگرچہ فوری فوجی ضروریات کے لیے یہ راستہ تیز ہو سکتا ہے، مگر طویل المدتی صنعتی خود مختاری اور ٹیکنالوجی منتقلی کے اہداف کو نقصان پہنچاتا ہے۔
خاموشی، ابہام اور ادارہ جاتی خطرہ
HAL کی تردید اس بات کی علامت نہیں کہ مذاکرات ختم ہو چکے ہیں، بلکہ یہ ظاہر کرتی ہے کہ شرائط ابھی سیاسی اور ادارہ جاتی سطح پر طے نہیں ہوئیں۔ تاہم، بار بار کی لیکس اور بعد ازاں وضاحتیں بھارت کی دفاعی حکمرانی کو کمزور بناتی ہیں۔
آتم نربھر بھارت محض بیانیے سے نہیں، بلکہ:
- شفاف فیصلوں
- واضح صنعتی کرداروں
- اور مضبوط ادارہ جاتی عمل
سے ممکن ہے۔
اصل سوال
رافیل معاملہ اب صرف طیاروں کی تعداد یا مقامی تیاری کے فیصد کا مسئلہ نہیں رہا۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا بھارت:
- تزویراتی جلد بازی اور ادارہ جاتی شفافیت میں توازن قائم کر سکتا ہے؟
- سیاسی اعلانات کو صنعتی حقیقت سے ہم آہنگ کر سکتا ہے؟
- اور خود انحصاری کو نعرے کے بجائے عملی نظام بنا سکتا ہے؟
جب تک ان سوالات کے واضح جوابات نہیں ملتے، رافیل صرف ایک لڑاکا طیارہ نہیں بلکہ بھارت کی دفاعی پالیسی کی کمزوریوں کی علامت بنا رہے گا۔



