سعودی عرب کی فضائیہ کے سربراہ نے پاکستان فضائیہ کے سربراہ سے سعودی عرب میں ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان فوجی اور فضائی تعاون کو مزید وسعت دینے کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق یہ ملاقات بدھ کو ہوئی۔
ملاقات میں Turki bin Bandar bin Abdulaziz، کمانڈر Royal Saudi Air Force، اور Zaheer Ahmad Babar Sidhu، چیف آف ایئر اسٹاف Pakistan Air Force شریک تھے۔
سعودی وزارتِ دفاع کے بیان کے مطابق دونوں فضائی سربراہان نے دفاعی تعاون کے مختلف شعبوں کو مضبوط اور ترقی دینے کے طریقوں پر گفتگو کی، جو خلیج اور جنوبی ایشیا میں بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں اہم سمجھی جا رہی ہے۔
Air Chief Marshal Zaheer Ahmed Baber Sidhu, Chief of the Air Staff (CAS), #Pakistan Air Force, during an official visit to the Kingdom of Saudi Arabia (KSA), held delegation level talks with the Commander of the Royal Saudi Air Force (RSAF).
From all the Muslim countries in the… pic.twitter.com/HGP4xGMguA
— Pakistan Armed Forces News 🇵🇰 (@PakistanFauj) January 7, 2026
ماڈرنائزیشن اور اسٹریٹجک ہم آہنگی
ترکی بن بندر بن عبدالعزیز 2018 سے رائل سعودی ایئر فورس کی قیادت کر رہے ہیں اور فضائیہ کی جدیدکاری، آپریشنل تیاری اور علاقائی عسکری روابط کے نگران ہیں۔ دوسری جانب ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کو دسمبر 2025 میں دو سال کی توسیع دی گئی تھی، جس کے بعد وہ مارچ 2028 تک پاکستان فضائیہ کی قیادت کریں گے۔
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب سعودی عرب ایئر اور میزائل ڈیفنس سسٹمز پر بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے، جبکہ پاکستان خطے میں بدلتے حالات کے پیشِ نظر خلیجی ممالک کے ساتھ دفاعی سفارتکاری کو فروغ دے رہا ہے۔
دیرینہ دفاعی تعلقات
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعلقات طویل عرصے سے قائم ہیں، جن میں تربیتی تبادلے، مشترکہ مشقیں اور تکنیکی تعاون شامل ہے۔ پاکستانی عسکری اہلکار ماضی میں سعودی عرب میں مشاورتی اور تربیتی ذمہ داریاں بھی انجام دیتے رہے ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔
پاکستان فضائیہ کو خطے کی انتہائی پیشہ ور افواج میں شمار کیا جاتا ہے اور وہ ماضی میں سعودی عرب کی میزبانی میں ہونے والی کثیرالملکی فضائی مشقوں میں بھی حصہ لے چکی ہے۔ رائل سعودی ایئر فورس سعودی دفاعی حکمتِ عملی میں فضائی نگرانی، دفاع اور مشترکہ آپریشنل تیاری میں مرکزی کردار ادا کرتی ہے۔
دونوں ممالک کا کہنا ہے کہ عسکری تعلقات ان کی وسیع تر اسٹریٹجک شراکت داری کا اہم ستون ہیں، جس میں اقتصادی تعاون، افرادی قوت کے روابط اور علاقائی سفارتکاری بھی شامل ہیں۔




