بدھ, 11 فروری, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

افغانستان کے شمال میں چینی کان کنی منصوبے پر حملہ، پانچ چینی شہری ہلاک، کارکن اغوا

افغانستان کے شمالی صوبے Takhar کے ضلع Chah Ab میں ایک چینی کان کنی منصوبے پر حملے میں کم از کم پانچ چینی شہری ہلاک ہو گئے، جب کہ متعدد کارکنوں کو اغوا کر لیا گیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق حملہ آوروں نے Dayulong Zeren Mining کی پروسیسنگ یونٹ کو آگ لگا دی اور تمام مشینری تباہ کر دی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلح افراد نے کان کنی کے مقام پر دھاوا بول کر چینی کارکنوں کو نشانہ بنایا، اس کے بعد عمارتوں کو نذرِ آتش کیا گیا اور کئی غیر ملکی کارکنوں کو اپنے ساتھ لے گئے۔ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ تاحال افغان حکام کی جانب سے حملے کی ذمہ داری یا ہلاکتوں کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

چینی مفادات کو درپیش بڑھتے خطرات

یہ واقعہ افغانستان میں چینی شہریوں اور سرمایہ کاری کو لاحق مسلسل سیکیورٹی خطرات کو اجاگر کرتا ہے۔ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد چین نے محتاط انداز میں افغانستان میں کان کنی اور توانائی کے شعبوں میں دلچسپی ظاہر کی، تاہم بار بار ہونے والے حملے سیکیورٹی انتظامات پر سوالات کھڑے کر رہے ہیں۔

ماضی کے واقعات

افغانستان میں چینی مفادات اس سے قبل بھی نشانہ بنتے رہے ہیں:

  • دسمبر 2022 میں کابل کے ایک ہوٹل پر خودکش حملہ ہوا جہاں چینی تاجر مقیم تھے، جس میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔
  • 2023 اور 2024 کے دوران مختلف صوبوں میں چینی انجینئرز اور کارکنوں کو دھمکیوں اور حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔
  • شدت پسند تنظیم Islamic State Khorasan Province ماضی میں چینی منصوبوں کو کھلے عام نشانہ بنانے کی دھمکیاں دے چکی ہے، اگرچہ حالیہ حملے کی ذمہ داری تاحال کسی گروہ نے قبول نہیں کی۔
یہ بھی پڑھیں  افغانستان کے اندر کالعدم ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں پر پاکستانی طیاروں کی بمباری سے 46 افراد ہلاک ہوگئے، ترجمان افغان طالبان

Image

اقتصادی اور تزویراتی پس منظر

افغانستان معدنی وسائل سے مالا مال ملک ہے، جہاں سونا، تانبا، لیتھیم اور نایاب دھاتوں کے بڑے ذخائر پائے جاتے ہیں۔ یہ وسائل عالمی صنعت اور ٹیکنالوجی کے لیے انتہائی اہم سمجھے جاتے ہیں، اسی وجہ سے چینی کمپنیاں ان منصوبوں میں پیش پیش رہی ہیں۔

ماہرین کے مطابق اس تازہ حملے سے افغانستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری مزید متاثر ہو سکتی ہے، جب کہ چین کو اپنی سیکیورٹی حکمتِ عملی پر ازسرِنو غور کرنا پڑ سکتا ہے۔

علاقائی اثرات

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر غیر ملکی کارکنوں پر حملے جاری رہے تو افغانستان کی اقتصادی تنہائی مزید بڑھ جائے گی۔ چین ممکنہ طور پر اس واقعے پر کابل سے سخت سفارتی وضاحت اور بہتر تحفظ کا مطالبہ کرے گا، خاص طور پر اغوا شدہ کارکنوں کی بحفاظت بازیابی کے لیے۔

آصف شاہد
آصف شاہدhttps://urdu.defencetalks.com
آصف شاہد صحافت کا پچیس سالہ تجربہ رکھتے ہیں ۔ وہ ڈیفنس ٹاکس کے ایڈیٹر ہیں ۔انہوں نے اپنی صلاحیتوں ، وسیع صحافتی تجربے اور مطالعہ سے ڈیفنس ٹاکس کو دفاع، سلامتی اور سفارت کاری سے متعلق ایک ایسا پلیٹ فارم بنا دیا ہے ۔ جس کے سنجیدہ اردو قارئین ایک مدت سے منتظر تھے ۔ آصف شاہد یہ ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے متعدد قومی اخبارات اور ٹی وی چینلوں میں مختلف عہدوں پر کام کر چکے ہیں ۔ انہوں نے خبریں گروپ میں جوائنٹ ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دیں اور قارئین کو اعلیٰ معیار کے مواد کی فراہمی پر روایت ساز ایڈیٹر ضیا شاہد سے داد پائی۔ انہوں نے میڈیا کے تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے منظر نامے میں موافقت کا مظاہرہ کیا اور اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے پرنٹ میڈیا کے بجائے الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کو منتخب کیا ۔ڈان ٹی وی پر لکھے گئے ان کے فکر انگیز کالم حوالے کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں ۔ان کالموں نے ریٹینگ میں بھی نمایاں درجہ حاصل کیا۔وہ تاریخ ، ادب اور کئی زبانوں کا علم رکھتے ہیں ۔وہ قارئین کو خطے کی سیاست ، سلامتی اور سماجی پیش رفت کے درمیان پیچیدہ تعامل کے بارے میں باریک بینی اور وضاحت کے ساتھ آگاہ کرتے ہیں ۔مذہب کے مطالعہ کی وجہ سے مذہبی تحریکوں کی سوچ کو سمجھتے ہیں اور یہ ان کے لیے قارئین کو عالم اسلام اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے درست پس منظر میں پیش کرنے کے لیے مدد گار ہے ۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین