چین نے باضابطہ طور پر تصدیق کی ہے کہ اس کے برآمدی مقاصد کے لیے تیار کیے گئے J-10CE لڑاکا طیارے نے گزشتہ مئی میں اپنی پہلی جنگی کامیابی حاصل کی۔ چینی حکام کے مطابق اس طیارے نے فضائی جھڑپ کے دوران متعدد مخالف طیاروں کو مار گرایا جبکہ خود کسی نقصان سے محفوظ رہا۔
یہ تصدیق چین کے دفاعی صنعتی ادارے State Administration of Science, Technology and Industry for National Defense کی جانب سے کی گئی، جو چین کی عسکری ٹیکنالوجی اور اسلحہ برآمدات کی نگرانی کرتا ہے۔ اگرچہ واقعے کی جگہ، وقت اور مخالف فریق کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں، تاہم چینی بیان میں اسے “حقیقی جنگی حالات میں ثابت شدہ کامیابی” قرار دیا گیا ہے۔
#BREAKING 🇨🇳China has officially confirmed that its export-oriented J-10CE fighter jet achieved its first combat victory last May, shooting down multiple aircraft in aerial combat without suffering any losses, boosting its global appeal.
– China’s State Administration of… pic.twitter.com/YkUbYVO4R8
— Shen Shiwei 沈诗伟 (@shen_shiwei) January 12, 2026
J-10CE: جدید صلاحیتوں کا حامل برآمدی پلیٹ فارم
J-10CE، چین کے J-10C لڑاکا طیارے کا برآمدی ورژن ہے، جسے فورتھ پلس جنریشن (4.5th Generation) جنگی طیارہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ طیارہ AESA ریڈار، جدید الیکٹرانک وارفیئر سسٹمز اور بیونڈ ویژول رینج فضائی میزائلوں سے لیس ہے، جو اسے جدید فضائی جنگ کے تقاضوں کے مطابق بناتے ہیں۔
چین طویل عرصے سے J-10CE کو مغربی ساختہ لڑاکا طیاروں کے نسبتاً کم لاگت متبادل کے طور پر پیش کر رہا ہے، جس میں جدید سینسرز، نیٹ ورکڈ وارفیئر صلاحیت اور نسبتاً کم آپریشنل اخراجات کو نمایاں کیا جاتا ہے۔
حقیقی جنگی تجربہ اور عالمی مارکیٹ میں اثر
دفاعی ماہرین کے مطابق کسی بھی لڑاکا طیارے کے لیے حقیقی جنگی کامیابی اس کی برآمدی قدر میں نمایاں اضافہ کرتی ہے۔ ٹیسٹ فلائٹس اور مشقوں کے برعکس، عملی فضائی جھڑپ میں کامیابی کو عالمی اسلحہ مارکیٹ میں سب سے مستند معیار سمجھا جاتا ہے۔
چینی دعوے کے مطابق “بغیر نقصان” کے حاصل کی گئی کامیابی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ J-10CE نہ صرف ایک جدید پلیٹ فارم ہے بلکہ سینسرز، پائلٹ تربیت، کمانڈ اینڈ کنٹرول اور میزائل سسٹمز کے مؤثر امتزاج کے ساتھ استعمال کیا گیا۔
برآمدی سیاست اور اسٹریٹجک پیغام
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر لڑاکا طیاروں کی مارکیٹ میں سخت مقابلہ جاری ہے، جہاں مغربی طیارے جیسے F-16 اور رافیل اپنی جنگی تاریخ کو بطور فروختی دلیل استعمال کرتے رہے ہیں۔ چین اب J-10CE کو بھی “جنگ میں آزمودہ” پلیٹ فارم کے طور پر پیش کرنے کی پوزیشن میں آ گیا ہے۔
یہ پیش رفت ان ممالک کے لیے خاص طور پر اہم سمجھی جا رہی ہے جو اپنی فضائیہ کو جدید بنانا چاہتے ہیں مگر امریکی یا یورپی اسلحہ برآمدی پابندیوں اور سیاسی شرائط سے بچنا چاہتے ہیں۔ جنوبی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ کے کچھ ممالک چین کی اس پیشکش میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
تفصیلات کی کمی، مگر پیغام واضح
اگرچہ چینی حکام نے آپریشنل تفصیلات ظاہر نہیں کیں، تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق اس اعلان کا بنیادی مقصد دفاعی سفارت کاری اور عالمی منڈی میں اعتماد سازی ہے۔ چین پہلی بار کسی برآمدی لڑاکا طیارے کے بارے میں کھل کر جنگی کامیابی کا دعویٰ کر رہا ہے، جو اس کی دفاعی صنعت کے اعتماد میں اضافے کی علامت ہے۔




