فرانسیسی دفاعی کمپنی ڈسالٹ ایوی ایشن (Dassault Aviation) کی رافیل لڑاکا طیارے بنانے کی رفتار ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے، خاص طور پر اس تناظر میں کہ 2025 میں کمپنی نے ریکارڈ 26 رافیل طیارے فراہم کیے۔ بظاہر یہ تعداد متاثر کن دکھائی دیتی ہے، لیکن جب اسے موجودہ اور ممکنہ نئے آرڈرز کے تناظر میں دیکھا جائے تو ایک سنگین پیداواری خلا نمایاں ہو جاتا ہے۔
2025 کے اختتام پر ڈسالٹ کے پاس تقریباً 220 رافیل طیاروں کا بیک لاگ موجود تھا، جس میں فرانس اور متعدد برآمدی صارفین کے آرڈرز شامل ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کمپنی اسی رفتار (تقریباً دو طیارے ماہانہ) سے پیداوار جاری رکھتی ہے تو صرف موجودہ آرڈرز مکمل کرنے میں ہی تقریباً 8 سے 9 سال لگ سکتے ہیں۔
بھارت کا ممکنہ 114 رافیل طیاروں کا آرڈر
صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے جب بھارت کے ممکنہ 114 رافیل لڑاکا طیاروں کے بڑے آرڈر کو اس فہرست میں شامل کیا جائے۔ اگر یہ سودا طے پا جاتا ہے تو مجموعی بیک لاگ بڑھ کر تقریباً 334 طیاروں تک پہنچ سکتا ہے۔
موجودہ پیداواری رفتار پر اس حجم کے آرڈر کا مطلب یہ ہوگا کہ بھارت کو اپنے آخری رافیل طیارے 2035–2036 کے قریب ملیں گے، جو بھارتی فضائیہ کی فوری آپریشنل ضروریات کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان بن سکتا ہے۔
پیداواری صلاحیت: اصل رکاوٹ
ڈسالٹ نے حالیہ برسوں میں اپنی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ضرور کیا ہے، لیکن رافیل ایک ہائی اینڈ ملٹی رول فائٹر جیٹ ہے جس کی تیاری ایک پیچیدہ اور سپلائی چین پر منحصر عمل ہے۔ انجن، ایویونکس، ریڈار، اور اسلحہ جاتی نظام متعدد یورپی اور بین الاقوامی سپلائرز سے آتے ہیں، جس کی وجہ سے پیداوار کو تیزی سے بڑھانا آسان نہیں۔
کمپنی کے اندرونی اندازوں اور دفاعی صنعت کے تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر ڈسالٹ اپنی پیداوار کو تین سے چار طیارے ماہانہ تک بھی لے جائے، تب بھی نئے اور پرانے آرڈرز کو بروقت مکمل کرنا ایک بڑا صنعتی چیلنج رہے گا۔
طلب بمقابلہ رسد
رافیل کی عالمی مانگ مسلسل بڑھ رہی ہے۔ مصر، قطر، بھارت، یونان، کروشیا، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا اور دیگر ممالک کے معاہدوں نے رافیل کو ایک کامیاب برآمدی پلیٹ فارم بنا دیا ہے، لیکن یہی کامیابی اب ڈسالٹ کے لیے بوجھ بنتی جا رہی ہے۔
یہ صورتحال نہ صرف بھارت بلکہ دیگر خریدار ممالک کے لیے بھی اہم ہے، کیونکہ تاخیر سے ترسیل کا براہِ راست اثر فضائی طاقت کی منصوبہ بندی اور آپریشنل تیاری پر پڑتا ہے۔
نتیجہ
اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ رافیل کی اصل کمزوری اس کی مانگ نہیں بلکہ اس کی پیداواری رفتار ہے۔ 2025 میں ریکارڈ ترسیل کے باوجود، ڈسالٹ کی موجودہ صلاحیت بڑھتے ہوئے آرڈرز کے مقابلے میں ناکافی دکھائی دیتی ہے۔ اگر پیداوار میں نمایاں اور فوری اضافہ نہ کیا گیا تو بھارت جیسے بڑے خریداروں کو اپنی مکمل رافیل فلیٹ حاصل کرنے میں دہائی سے زیادہ انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔

![Rafale-Marine--fighter Rafale Marine [Rafale M] fighter](https://urdu.defencetalks.com/wp-content/uploads/2025/05/Rafale-Marine-fighter.jpg)


