امریکی فضائیہ کے خصوصی آپریشنز طیارے MC-130J کمانڈو II کی برطانیہ سے آذربائیجان کے دارالحکومت باکو تک خفیہ نوعیت کی پرواز نے خطے میں نئی اسٹریٹجک قیاس آرائیوں کو جنم دے دیا ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پرواز محض ایک معمول کی عسکری نقل و حرکت نہیں بلکہ ایران کی جانب واضح مگر غیر اعلانیہ دباؤ بڑھانے کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے ۔
اوپن سورس انٹیلی جنس (OSINT) اور فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق، یہ طیارہ 29 جنوری 2026 کو برطانیہ میں قائم امریکی سہولیات — غالباً RAF Mildenhall یا RAF Fairford — سے روانہ ہو کر براہِ راست Baku پہنچا۔ پرواز کے دوران ایسا راستہ اختیار کیا گیا جو سیاسی طور پر حساس فضائی حدود سے بچتا ہے، جبکہ نیٹو سے منسلک انفراسٹرکچر کے قریب رہتا ہے ۔
ذرائع کے مطابق پرواز کے بعض حصوں میں ٹرانسپونڈر کو عارضی طور پر بند رکھا گیا، جو عموماً حساس یا کم نمایاں عسکری مشنز میں اختیار کیا جانے والا طریقہ ہے۔ یہ امر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مشن کا تعلق ممکنہ ہنگامی منصوبہ بندی، انٹیلی جنس تیاری یا اسٹریٹجک فورس پوزیشننگ سے ہو سکتا ہے، نہ کہ کسی عام تربیتی سرگرمی سے ۔

آذربائیجان کی اسٹریٹجک اہمیت
باکو کا Heydar Aliyev International Airport ایسا انفراسٹرکچر رکھتا ہے جو بڑے فوجی طیاروں کو بظاہر شہری سرگرمیوں کے پردے میں خاموشی سے سنبھال سکتا ہے۔ اس سے امریکہ کو مستقل فوجی اڈہ قائم کیے بغیر خصوصی آپریشنز اثاثے تعینات کرنے کی سہولت ملتی ہے، جس سے سفارتی لچک برقرار رہتی ہے ۔
آذربائیجان ایران کی شمالی سرحد کے ساتھ 700 کلومیٹر سے زائد طویل سرحد رکھتا ہے، جو تہران کے لیے ایک حساس جغرافیائی حقیقت ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب ایران پہلے ہی امریکی، اسرائیلی اور خلیجی دباؤ کو ایک اسٹریٹجک گھیراؤ کے طور پر دیکھ رہا ہے ۔
خصوصی آپریشنز کا پس منظر
MC-130J کمانڈو II کو Air Force Special Operations Command آپریٹ کرتی ہے اور یہ طیارہ کم نمایاں انداز میں فوجی دستوں کی نقل و حرکت، رسد، خفیہ داخلے و اخراج اور خصوصی ہیلی کاپٹروں کو فضائی ایندھن فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
اوپن سورس رپورٹس کے مطابق، جنوری 2026 کے دوران خطے میں C-17 گلوب ماسٹر III، AC-130J گوسٹ رائیڈر اور 160th Special Operations Aviation Regiment سے وابستہ ہیلی کاپٹروں (MH-60 بلیک ہاک اور MH-47G چنوک) کی آمد پہلے ہی دیکھی جا چکی تھی۔ ان حالات میں MC-130J کی موجودگی ایک مربوط، تہہ دار فورس پوسچر کی نشاندہی کرتی ہے ۔
![]()
ایران کی جانب اسٹریٹجک اشارہ
دفاعی ماہرین کے مطابق اس تعیناتی کو براہِ راست حملے کے تناظر میں نہیں بلکہ اسٹریٹجک ایمبیگوئٹی (Strategic Ambiguity) کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ MC-130J جیسا طیارہ انٹیلی جنس داخلوں، غیر روایتی جنگی تیاری یا اعلیٰ سطحی ہنگامی کارروائیوں کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ باضابطہ جنگ کا اعلان کیے بغیر دباؤ برقرار رکھتا ہے ۔
ماضی میں MC-130 طیارے حساس نوعیت کے مشنز، بشمول ہائی ویلیو شخصیات کی گرفتاری یا اخراج، میں استعمال ہوتے رہے ہیں۔ اسی تاریخی پس منظر کے باعث ایسے طیارے کی ایران کے قریب موجودگی محض عسکری نہیں بلکہ نفسیاتی اثر بھی رکھتی ہے۔
آذربائیجان کے لیے مواقع اور خطرات
آذربائیجان کے لیے یہ پیش رفت مغربی شراکت داری کو مضبوط بنانے اور اپنی اسٹریٹجک اہمیت بڑھانے کا ذریعہ ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ ایرانی سفارتی دباؤ، سائبر کارروائیوں یا پراکسی ردِعمل کے خطرات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ باکو کی پالیسی طویل عرصے سے ایران، روس اور مغرب کے درمیان توازن قائم رکھنے پر مبنی رہی ہے ۔
خلاصہ
MC-130J کمانڈو II کی باکو آمد کسی فوری عسکری کارروائی کا عندیہ نہیں بلکہ ایک خاموش اسٹریٹجک چال ہے۔ ایران کی سرحد کے قریب ایسے طیارے کی موجودگی امریکہ کو کم نمایاں مگر مؤثر آپشنز فراہم کرتی ہے، جو جدید دور کی جنگی حکمتِ عملی میں نفسیاتی دباؤ، غیر یقینی صورتحال اور اسٹریٹجک برتری کو مرکزی حیثیت دیتی ہے — وہ بھی بغیر ایک گولی چلائے ۔




