اتوار, 15 فروری, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

رافیل اور آتم نربھر بھارت: بھارت کی دفاعی خریداری پالیسی پر سنگین سوالات

ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ (HAL) کی جانب سے رافیل طیاروں کی مبینہ مقامی پیداوار سے متعلق میڈیا رپورٹس کی باضابطہ تردید محض ایک وضاحتی بیان نہیں، بلکہ یہ بھارت کے دفاعی خریداری نظام اور آتم نربھر بھارت (خود انحصاری) پالیسی کی ساختی کمزوریوں کو نمایاں کرتی ہے۔

HAL کے مطابق اسے نہ تو وزارتِ دفاع اور نہ ہی Dassault Aviation کی جانب سے کسی ایسے معاہدے کی سرکاری اطلاع دی گئی ہے جس کے تحت رافیل طیاروں کی پیداوار HAL کی تنصیبات میں کی جائے۔ یہ بیان اُن رپورٹس کے بالکل برعکس ہے جن میں ترسیلی شیڈول، مقامی تیاری کا تناسب اور پیداواری ذمہ داریوں کو طے شدہ حقائق کے طور پر پیش کیا گیا۔

پالیسی اعلانات یا میڈیا لیکس؟

بھارت کی جنگی طیارہ خریداری کی تاریخ بتدریج ایسے ماڈل کی عکاس بنتی جا رہی ہے جہاں پالیسی فیصلے باضابطہ ادارہ جاتی عمل کے بجائے میڈیا رپورٹس کے ذریعے سامنے آتے ہیں۔ رافیل معاملے میں بھی یہی رجحان دکھائی دیتا ہے—قبل از وقت تفصیلات، سیاسی اشارے، اور بعد ازاں سرکاری تردید۔

یہ طرزِ عمل شفافیت اور جواب دہی کو کمزور کرتا ہے۔ اگر ملک کا سب سے بڑا فضائی ادارہ یہ کہنے پر مجبور ہو کہ اسے کسی معاہدے کی تفصیلات کا علم ہی نہیں، تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اصل فیصلہ سازی کہاں ہو رہی ہے؟

یہ بھی پڑھیں  امریکہ کا چین پر محدود جوہری تجربات کا الزام، عالمی اسلحہ کنٹرول پر دباؤ میں اضافہ

آتم نربھر بھارت: نعرہ یا نظام؟

رافیل کیس آتم نربھر بھارت پالیسی کے ایک بنیادی تضاد کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔ پالیسی کا دعویٰ ہے کہ بھارت دفاعی پیداوار میں خود کفالت حاصل کرے گا، مگر عملی سطح پر مقامی تیاری:

  • محدود
  • منتشر
  • اور سودے بازی پر مبنی

دکھائی دیتی ہے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ رافیل پروگرام میں مقامی صنعتی شمولیت HAL کے بجائے Tata Advanced Systems Limited کو دی گئی ہے، جہاں صرف فوزلاژ سیکشنز کی اسمبلنگ ہوگی۔ اگر بھارت کا مرکزی جنگی طیارہ ساز ادارہ اس پروگرام کا مرکز نہیں، تو یہ سوال ناگزیر ہو جاتا ہے کہ:

  • کیا HAL کی صلاحیتوں پر اعتماد نہیں؟
  • یا آتم نربھر بھارت محض “اسمبلی انڈیا” تک محدود ہو چکا ہے؟

رافیل بطور شارٹ کٹ حکمتِ عملی

اطلاعات کے مطابق بھارت طویل عرصے سے جاری MRFA (114 جنگی طیاروں) کے مقابلہ جاتی پروگرام کو ترک کر کے براہِ راست رافیل خریدنے کا فیصلہ کر سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو یہ فیصلہ:

  • ایک دہائی پر محیط مسابقتی عمل کو بے معنی بنا دے گا
  • دیگر عالمی پلیٹ فارمز کو خود بخود خارج کر دے گا
  • اور دفاعی خریداری کو ادارہ جاتی مقابلے کے بجائے سیاسی سہولت کے تابع کر دے گا

اگرچہ فوری فوجی ضروریات کے لیے یہ راستہ تیز ہو سکتا ہے، مگر طویل المدتی صنعتی خود مختاری اور ٹیکنالوجی منتقلی کے اہداف کو نقصان پہنچاتا ہے۔

خاموشی، ابہام اور ادارہ جاتی خطرہ

HAL کی تردید اس بات کی علامت نہیں کہ مذاکرات ختم ہو چکے ہیں، بلکہ یہ ظاہر کرتی ہے کہ شرائط ابھی سیاسی اور ادارہ جاتی سطح پر طے نہیں ہوئیں۔ تاہم، بار بار کی لیکس اور بعد ازاں وضاحتیں بھارت کی دفاعی حکمرانی کو کمزور بناتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں  شام میں اسد کے زوال نے مشرق وسطیٰ کی سفارت کاری میں چین کی حدود کو بے نقاب کردیا

آتم نربھر بھارت محض بیانیے سے نہیں، بلکہ:

  • شفاف فیصلوں
  • واضح صنعتی کرداروں
  • اور مضبوط ادارہ جاتی عمل

سے ممکن ہے۔

اصل سوال

رافیل معاملہ اب صرف طیاروں کی تعداد یا مقامی تیاری کے فیصد کا مسئلہ نہیں رہا۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا بھارت:

  • تزویراتی جلد بازی اور ادارہ جاتی شفافیت میں توازن قائم کر سکتا ہے؟
  • سیاسی اعلانات کو صنعتی حقیقت سے ہم آہنگ کر سکتا ہے؟
  • اور خود انحصاری کو نعرے کے بجائے عملی نظام بنا سکتا ہے؟

جب تک ان سوالات کے واضح جوابات نہیں ملتے، رافیل صرف ایک لڑاکا طیارہ نہیں بلکہ بھارت کی دفاعی پالیسی کی کمزوریوں کی علامت بنا رہے گا۔

آصف شاہد
آصف شاہدhttps://urdu.defencetalks.com
آصف شاہد صحافت کا پچیس سالہ تجربہ رکھتے ہیں ۔ وہ ڈیفنس ٹاکس کے ایڈیٹر ہیں ۔انہوں نے اپنی صلاحیتوں ، وسیع صحافتی تجربے اور مطالعہ سے ڈیفنس ٹاکس کو دفاع، سلامتی اور سفارت کاری سے متعلق ایک ایسا پلیٹ فارم بنا دیا ہے ۔ جس کے سنجیدہ اردو قارئین ایک مدت سے منتظر تھے ۔ آصف شاہد یہ ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے متعدد قومی اخبارات اور ٹی وی چینلوں میں مختلف عہدوں پر کام کر چکے ہیں ۔ انہوں نے خبریں گروپ میں جوائنٹ ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دیں اور قارئین کو اعلیٰ معیار کے مواد کی فراہمی پر روایت ساز ایڈیٹر ضیا شاہد سے داد پائی۔ انہوں نے میڈیا کے تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے منظر نامے میں موافقت کا مظاہرہ کیا اور اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے پرنٹ میڈیا کے بجائے الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کو منتخب کیا ۔ڈان ٹی وی پر لکھے گئے ان کے فکر انگیز کالم حوالے کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں ۔ان کالموں نے ریٹینگ میں بھی نمایاں درجہ حاصل کیا۔وہ تاریخ ، ادب اور کئی زبانوں کا علم رکھتے ہیں ۔وہ قارئین کو خطے کی سیاست ، سلامتی اور سماجی پیش رفت کے درمیان پیچیدہ تعامل کے بارے میں باریک بینی اور وضاحت کے ساتھ آگاہ کرتے ہیں ۔مذہب کے مطالعہ کی وجہ سے مذہبی تحریکوں کی سوچ کو سمجھتے ہیں اور یہ ان کے لیے قارئین کو عالم اسلام اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے درست پس منظر میں پیش کرنے کے لیے مدد گار ہے ۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین