مشرقی یوکرین کا صنعتی اور اسٹریٹجک خطہ ڈونیٹسک ایک بار پھر روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے میں سب سے بڑی رکاوٹ بن کر سامنے آ گیا ہے۔ حالیہ سفارتی رابطوں کے بعد روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ایک سینئر معاون نے واضح کر دیا ہے کہ جب تک علاقائی تنازعات حل نہیں ہوتے، امن معاہدے کی کوئی امید نہیں۔
یوکرینی صدر ولودیمیر زیلینسکی کے مطابق ڈونیٹسک کا مستقبل امریکی ثالثی میں ہونے والے تین فریقی مذاکرات میں زیرِ بحث آئے گا، تاہم کیف اس بات پر قائم ہے کہ جو علاقے اب بھی یوکرین کے کنٹرول میں ہیں، انہیں روس کے حوالے کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔
ڈونیٹسک کیوں فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے؟
روس پہلے ہی لوہانسک کے تقریباً تمام علاقے پر کنٹرول حاصل کر چکا ہے، جو ڈونباس کا دوسرا بڑا خطہ ہے۔ اس کے برعکس ڈونیٹسک اب تک مکمل طور پر روسی قبضے میں نہیں آ سکا۔ اندازوں کے مطابق ڈونیٹسک کا تقریباً 20 فیصد حصہ، جس میں سلوویانسک اور کراماتورسک جیسے مضبوط دفاعی شہر شامل ہیں، بدستور یوکرین کے پاس ہے۔
یہ شہر یوکرین کے مشرقی دفاع کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جاتے ہیں، جہاں خندقیں، بنکرز، بارودی سرنگیں اور اینٹی ٹینک رکاوٹیں قائم ہیں۔ یوکرینی فوجی قیادت کے مطابق اگر یہ دفاعی لائن ٹوٹ گئی تو دریائے دنیپرو کی جانب روسی پیش قدمی آسان ہو جائے گی، جس سے جنگ کا دائرہ مزید پھیل سکتا ہے۔
زیلینسکی خبردار کر چکے ہیں کہ اگر ڈونیٹسک روس کے حوالے کر دیا گیا تو ماسکو کو مستقبل میں یوکرین کے اندر مزید حملوں کے لیے ایک مضبوط اڈا مل جائے گا، چاہے وقتی طور پر جنگ بندی ہی کیوں نہ ہو۔
ماسکو کا مؤقف اور تاریخی دعویٰ
کریملن کے لیے ڈونیٹسک صرف ایک علاقہ نہیں بلکہ ایک سیاسی اور تاریخی علامت بھی ہے۔ روس نے 2022 میں اعلان کیا تھا کہ اس نے ڈونیٹسک سمیت یوکرین کے چار علاقوں کو اپنے ساتھ ضم کر لیا ہے، تاہم کیف اور مغربی ممالک نے ان ریفرنڈمز کو مسترد کر دیا تھا۔
دنیا کے بیشتر ممالک اب بھی ڈونیٹسک کو یوکرین کا حصہ تسلیم کرتے ہیں، مگر پیوٹن اسے روس کی “تاریخی سرزمین” قرار دیتے ہیں۔ کریملن کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی معاہدے کے تحت اس خطے کا انتظام روس کے پاس ہی رہنا چاہیے۔
بھاری جانی و مالی نقصان
ڈونیٹسک پر لڑائی دونوں جانب بھاری جانی نقصان کا باعث بنی ہے۔ بخموت کی جنگ کو اس جنگ کی سب سے خونریز لڑائیوں میں شمار کیا جاتا ہے، جہاں ہزاروں فوجی مارے گئے۔ ان نقصانات نے دونوں ملکوں میں عوامی رائے کو سخت کر دیا ہے، جس کے باعث کسی بھی قسم کا سمجھوتہ سیاسی طور پر خطرناک ہو چکا ہے۔
مغربی فوجی ماہرین کے مطابق روس کو موجودہ رفتار سے ڈونیٹسک پر مکمل قبضہ کرنے میں کم از کم ایک سال مزید لگ سکتا ہے، جبکہ روسی عسکری قیادت اس سے پہلے کامیابی کے دعوے کر رہی ہے۔
معاشی اہمیت بھی کم نہیں
جنگ سے پہلے ڈونیٹسک یوکرین کی کوئلہ اور اسٹیل پیداوار کا نصف سے زائد حصہ فراہم کرتا تھا۔ اگرچہ جنگ نے اس انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچایا ہے، لیکن خطے میں موجود ریئر ارتھ عناصر، ٹائٹینیم اور زرکونیم مستقبل میں بھاری آمدن کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
زیلینسکی کے لیے سیاسی آزمائش
زیلینسکی کے لیے ڈونیٹسک سے دستبرداری ایک سیاسی دھماکے سے کم نہیں ہوگی۔ خطے میں اب بھی لاکھوں یوکرینی شہری آباد ہیں، جن میں سے بیشتر کے خاندان جنگ سے متاثر ہو چکے ہیں۔ حالیہ سروے کے مطابق اکثریت ڈونیٹسک سے فوجی انخلا کے حق میں نہیں، چاہے اس کے بدلے مغربی سیکیورٹی ضمانتیں ہی کیوں نہ دی جائیں۔
یوکرین کے آئین کے تحت علاقائی تبدیلی کے لیے ریفرنڈم لازم ہے، جس کے لیے زیلینسکی کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اس وقت عوامی مینڈیٹ موجود نہیں۔
امریکا نے تجویز دی ہے کہ ڈونباس کو غیر فوجی اور آزاد معاشی زون بنایا جائے، تاہم وائٹ ہاؤس نے اس حوالے سے تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ کے خاتمے پر زور دیا ہے، مگر کسی بڑی پیش رفت کے آثار نظر نہیں آ رہے۔
ایک خطہ، ایک جنگ کی تقدیر
ڈونیٹسک آج محض ایک جغرافیائی علاقہ نہیں رہا بلکہ یہ عسکری طاقت، معاشی وسائل اور سیاسی ورثے کی علامت بن چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق جب تک اس خطے کے مستقبل پر اتفاق نہیں ہوتا، روس اور یوکرین کے درمیان پائیدار امن کا خواب پورا ہونا مشکل ہے۔




