یمن میں مکلا بندرگاہ کے قریب سعودی فضائی حملہ، جسے ریاض نے یو اے ای سے منسلک اسلحہ کی ترسیل کو نشانہ بنانے کی کارروائی قرار دیا، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اب تک کی سب سے سنگین کشیدگی کی علامت بن کر سامنے آیا ہے۔ ایک دہائی سے زائد عرصے تک علاقائی سلامتی کے “دو ستون” سمجھے جانے والے یہ خلیجی اتحادی اب کھلے طور پر مختلف راستوں پر گامزن دکھائی دیتے ہیں۔
یہ واقعہ محض ایک عسکری کارروائی نہیں بلکہ ان برسوں پر محیط اختلافات کا نقطۂ عروج ہے، جو تیل کی پالیسی، علاقائی اثر و رسوخ، یمن، سوڈان اور اسرائیل سے تعلقات جیسے معاملات پر آہستہ آہستہ گہرے ہوتے چلے گئے۔
ذیل میں اس تعلق کے ارتقا کی ایک مختصر مگر جامع زمانی جھلک پیش کی جا رہی ہے:
2011: عرب بہار میں مشترکہ محاذ
عرب دنیا میں احتجاجی تحریکوں کے آغاز پر سعودی عرب اور یو اے ای نے اسلام پسند سیاسی قوتوں کے خلاف مشترکہ مؤقف اپنایا۔ دونوں نے بحرین میں بغاوت کچلنے کے لیے افواج تعینات کیں اور 2013 میں مصر میں اخوان المسلمون کی حکومت کے خاتمے کی حمایت کی۔
مارچ 2015: یمن میں مشترکہ جنگ
دونوں ممالک نے یمن میں ایران نواز Houthi movement کے خلاف فوجی مداخلت شروع کی۔ یو اے ای زمینی کارروائیوں میں پیش پیش رہا جبکہ سعودی عرب نے فضائی برتری سنبھالی۔
جون 2017: قطر کا بائیکاٹ
سعودی عرب اور یو اے ای نے مل کر Qatar کا بائیکاٹ کیا، جس نے دونوں قیادتوں—ولی عہد Mohammed bin Salman اور Mohammed bin Zayed—کے قریبی تعلق کو مزید مضبوط کیا۔
2019: یمن میں یو اے ای کا جزوی انخلا
یو اے ای نے یمن میں اپنی فوجی موجودگی کم کی اور اثر و رسوخ Southern Transitional Council (ایس ٹی سی) کے ذریعے برقرار رکھا، جبکہ سعودی عرب کو حوثیوں کے خلاف جنگ کا بڑا بوجھ اٹھانا پڑا۔
ستمبر 2020: اسرائیل سے تعلقات
یو اے ای نے امریکا کی ثالثی میں اسرائیل سے تعلقات قائم کیے، جبکہ سعودی عرب نے فلسطینی ریاست کے قیام کو شرط بناتے ہوئے اس اقدام سے گریز کیا۔ اس فیصلے نے واشنگٹن میں ابو ظہبی کو ایک منفرد سفارتی برتری دی۔
2021: معاشی اور تیل کی رقابت
سعودی عرب نے غیر ملکی کمپنیوں کو ہیڈکوارٹر ریاض منتقل کرنے کا حکم دے کر دبئی کے تجارتی کردار کو چیلنج کیا۔ اسی دوران OPEC میں تیل پیداوار پر دونوں کے درمیان غیر معمولی اختلافات سامنے آئے۔
اپریل 2023: سوڈان میں اختلاف
سوڈان کی خانہ جنگی میں سعودی عرب نے فوج کی حمایت کرتے ہوئے جنگ بندی کی میزبانی کی، جبکہ اقوام متحدہ کے ماہرین نے یو اے ای پر ریپڈ سپورٹ فورسز کی حمایت کا الزام لگایا، جس کی ابو ظہبی نے تردید کی۔
8 دسمبر 2025: حدَرَموت کی ’سرخ لکیر‘
یو اے ای حمایت یافتہ ایس ٹی سی کے جنگجوؤں نے یمن کے صوبے Hadramout میں تیل کے میدانوں پر قبضہ کیا، جسے سعودی عرب نے اپنی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا۔
30 دسمبر 2025: مکلا پر فضائی حملہ
سعودی فضائیہ نے مکلا بندرگاہ پر ایک جہاز کو نشانہ بنایا، جس پر اسلحہ علیحدگی پسندوں تک پہنچانے کا الزام لگایا گیا۔ یہ پہلا موقع تھا جب سعودی عرب نے یمن میں یو اے ای سے منسلک مفادات کے خلاف براہِ راست عسکری کارروائی کی۔
بڑی تصویر
تجزیہ کاروں کے مطابق مکلا حملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سعودی عرب اور یو اے ای اب شراکت داری کے بجائے مسابقت کے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ یمن، بحیرۂ احمر اور خلیج میں یہ خلیج نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے استحکام کے لیے نئے خطرات پیدا کر سکتی ہے۔
یمن کی جنگ پہلے ہی کئی حصوں میں بٹی ہوئی ہے—اور سعودی۔اماراتی اختلاف نے اس پیچیدہ تنازع میں ایک اور پرت کا اضافہ کر دیا ہے۔




