پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے 29 دسمبر 2025 کو ضلع باجوڑ کے علاقے خار میں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر ایک کامیاب آپریشن کیا، جس کے دوران پانچ دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے، تاہم شدید فائرنگ کے تبادلے میں پاک فوج کے ایک بہادر افسر میجر عدیل زمان نے جامِ شہادت نوش کیا۔
فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ Inter-Services Public Relations (آئی ایس پی آر) کے مطابق کارروائی ان شدت پسند عناصر کے خلاف کی گئی جن کا تعلق کالعدم فتنہ الخوارج سے تھا، جسے فوج نے بھارت کی پشت پناہی حاصل ہونے والا گروہ قرار دیا ہے۔
آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا ہے کہ آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں پانچ بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد مارے گئے۔ ہلاک ہونے والے دہشت گرد سکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور معصوم شہریوں کے خلاف متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث تھے۔
تاہم شدید فائرنگ کے تبادلے کے دوران Major Adeel Zaman، جو ڈیرہ اسماعیل خان کے رہائشی تھے اور آپریشن کے دوران اگلے مورچوں سے اپنی ٹیم کی قیادت کر رہے تھے، بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔ فوج کے مطابق میجر عدیل زمان کی قربانی جرأت، قیادت اور وطن سے بے مثال وفاداری کی علامت ہے۔
اسلحہ برآمد، کلیئرنس آپریشن جاری
فوجی حکام کے مطابق ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا ہے۔ علاقے میں مزید کسی ممکنہ دہشت گرد کی موجودگی کے پیشِ نظر کلیئرنس اور سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے۔
باجوڑ، جو خیبر پختونخوا کا سرحدی ضلع ہے اور افغانستان کے ساتھ متصل ہے، گزشتہ چند برسوں سے دوبارہ شدت پسندوں کی سرگرمیوں کے باعث حساس علاقہ سمجھا جا رہا ہے۔ سکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ دشوار گزار سرحدی جغرافیہ کو دہشت گرد عناصر اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
’عزمِ استحکام‘ کے تحت انسدادِ دہشت گردی مہم
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ آپریشن ملک گیر انسدادِ دہشت گردی مہم عزمِ استحکام کا حصہ ہے، جسے قومی ایکشن پلان کے تحت وفاقی ایپکس کمیٹی نے منظور کیا ہے۔ فوج نے عزم کا اظہار کیا کہ غیر ملکی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیاں پوری شدت سے جاری رہیں گی۔




