اتوار, 1 مارچ, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

ایران نے قطر میں امریکی AN/FPS-132 ریڈار تباہ کر دیا: خلیجی میزائل دفاعی نظام کو بڑا دھچکا

امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں ایک بڑا موڑ اس وقت آیا جب اطلاعات کے مطابق ایران کی پاسداران انقلاب (IRGC) نے قطر میں نصب ایک اہم امریکی ابتدائی وارننگ ریڈار سسٹم کو تباہ کر دیا ۔

رپورٹ کے مطابق نشانہ بننے والا نظام AN/FPS-132 بلاک 5 اپگریڈڈ ارلی وارننگ ریڈار (UEWR) تھا، جو قطر میں موجود Al Udeid Air Base کے قریب تعینات تھا ۔ یہ اڈہ مشرق وسطیٰ میں امریکہ کا سب سے بڑا فوجی مرکز سمجھا جاتا ہے۔

یہ واقعہ خلیج میں امریکی دفاعی برتری کو براہِ راست چیلنج کرنے کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے۔

AN/FPS-132 ریڈار کیا ہے اور کیوں اہم ہے؟

AN/FPS-132 ایک جدید فیزڈ ارے بیلسٹک میزائل وارننگ ریڈار ہے جو امریکی دفاعی کمپنی Raytheon Technologies نے تیار کیا۔

اس کی خصوصیات میں شامل ہیں:

  • 5,000 کلومیٹر تک میزائل لانچ کی نشاندہی
  • 360 ڈگری کوریج
  • امریکی گراؤنڈ بیسڈ مڈکورس ڈیفنس (GMD) سسٹم سے انضمام
  • پیٹریاٹ اور THAAD دفاعی نظام کو اضافی فیصلہ سازی کا وقت فراہم کرنا

یہ نظام 2013 میں تقریباً 1.1 ارب ڈالر کی لاگت سے نصب کیا گیا تھا ۔

Image

ایرانی حملہ: کون سے ہتھیار استعمال ہوئے؟

رپورٹ کے مطابق ایران کی ایرو اسپیس فورس نے ممکنہ طور پر درج ذیل جدید میزائل استعمال کیے:

  • Fattah-1
  • Kheibar Shekan

یہ میزائل تیز رفتاری اور دفاعی نظام کو چکمہ دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔

مزید برآں، ایران نے مبینہ طور پر Shahed-136 ڈرون بھی استعمال کیے، جو کم لاگت مگر مؤثر ہتھیار سمجھے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں  ایران کے خلاف ’’فیصلہ کن‘‘ کارروائی پر ٹرمپ کا غور، مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی تیاری میں اضافہ

علاقائی اثرات: قطر، بحرین اور اردن

قطر

قطر میں موجود امریکی افواج کی تعداد 10 ہزار سے زائد ہے۔ اس حملے کے بعد دوحہ کو اپنی دفاعی حکمت عملی پر نظرثانی کرنا پڑ سکتی ہے ۔

بحرین

بحرین میں امریکی ففتھ فلیٹ کی موجودگی خلیجی بحری سلامتی کے لیے اہم ہے۔ ریڈار نظام پر حملے سے بحری نگرانی متاثر ہو سکتی ہے ۔

اردن

اردن کے موافق السلطی ایئر بیس کو بھی مبینہ طور پر نشانہ بنایا گیا، جو امریکی فضائی کارروائیوں کا اہم مرکز ہے ۔

عالمی معیشت پر ممکنہ اثرات

خلیج دنیا کی توانائی سپلائی کا مرکز ہے۔ اگر کشیدگی بڑھی تو:

  • تیل کی قیمتوں میں اضافہ
  • عالمی مارکیٹ میں بے یقینی
  • دفاعی شعبے کے شیئرز میں اتار چڑھاؤ

دیکھنے میں آ سکتا ہے ۔

کیا خلیجی دفاعی نظام کمزور ہو گیا؟

AN/FPS-132 جیسے اربوں ڈالر مالیت کے سسٹمز کا تباہ ہونا یہ سوال اٹھاتا ہے:

  • کیا فکسڈ (مستقل) دفاعی تنصیبات اب محفوظ نہیں رہیں؟
  • کیا کم لاگت ڈرون اور میزائل اربوں ڈالر کے نظام کو ناکام بنا سکتے ہیں؟
  • کیا خلیجی ممالک چین یا یورپ کی طرف دفاعی تنوع کی کوشش کریں گے؟

یہ واقعہ مشرق وسطیٰ میں طاقت کے توازن اور دفاعی حکمت عملی کو ازسرِنو متعین کر سکتا ہے۔

آصف شاہد
آصف شاہدhttps://urdu.defencetalks.com
آصف شاہد صحافت کا پچیس سالہ تجربہ رکھتے ہیں ۔ وہ ڈیفنس ٹاکس کے ایڈیٹر ہیں ۔انہوں نے اپنی صلاحیتوں ، وسیع صحافتی تجربے اور مطالعہ سے ڈیفنس ٹاکس کو دفاع، سلامتی اور سفارت کاری سے متعلق ایک ایسا پلیٹ فارم بنا دیا ہے ۔ جس کے سنجیدہ اردو قارئین ایک مدت سے منتظر تھے ۔ آصف شاہد یہ ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے متعدد قومی اخبارات اور ٹی وی چینلوں میں مختلف عہدوں پر کام کر چکے ہیں ۔ انہوں نے خبریں گروپ میں جوائنٹ ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دیں اور قارئین کو اعلیٰ معیار کے مواد کی فراہمی پر روایت ساز ایڈیٹر ضیا شاہد سے داد پائی۔ انہوں نے میڈیا کے تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے منظر نامے میں موافقت کا مظاہرہ کیا اور اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے پرنٹ میڈیا کے بجائے الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کو منتخب کیا ۔ڈان ٹی وی پر لکھے گئے ان کے فکر انگیز کالم حوالے کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں ۔ان کالموں نے ریٹینگ میں بھی نمایاں درجہ حاصل کیا۔وہ تاریخ ، ادب اور کئی زبانوں کا علم رکھتے ہیں ۔وہ قارئین کو خطے کی سیاست ، سلامتی اور سماجی پیش رفت کے درمیان پیچیدہ تعامل کے بارے میں باریک بینی اور وضاحت کے ساتھ آگاہ کرتے ہیں ۔مذہب کے مطالعہ کی وجہ سے مذہبی تحریکوں کی سوچ کو سمجھتے ہیں اور یہ ان کے لیے قارئین کو عالم اسلام اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے درست پس منظر میں پیش کرنے کے لیے مدد گار ہے ۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین