بدھ, 4 مارچ, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

ایران کے پاس HQ-9B فضائی دفاعی نظام موجود نہیں: وائرل دعویٰ غلط، اصل کہانی ایران کے دفاعی نیٹ ورک کی تباہی ہے

سوشل میڈیا اور مختلف پلیٹ فارمز پر یہ دعویٰ تیزی سے پھیل رہا ہے کہ ایران چین کے HQ-9B فضائی دفاعی نظام کی ناکامی پر شدید ناراض ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ چینی نظام امریکی اور اسرائیلی حملوں کے سامنے ناکام ہو گیا۔

لیکن دستیاب شواہد کے مطابق یہ دعویٰ درست نہیں۔

دفاعی تجزیوں کے مطابق ایران نے نہ تو HQ-9B نظام حاصل کیا اور نہ اسے اپنے دفاعی نیٹ ورک میں شامل کیا۔ کچھ رپورٹس میں یہ ضرور کہا گیا تھا کہ ایران چینی زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سسٹمز پر غور کر رہا ہے، مگر غور کرنا اور خرید کر تعینات کرنا دو الگ چیزیں ہیں۔ کسی مستند ذریعے نے HQ-9B کی ایران کو فراہمی یا آپریشنل تعیناتی کی تصدیق نہیں کی۔

وائرل دعووں کی جڑ چند غیر مصدقہ سوشل میڈیا پوسٹس تک محدود ہے، جن کا کوئی بنیادی ماخذ موجود نہیں۔

ایران کا اصل فضائی دفاعی نظام کیا تھا؟

اگر HQ-9B موجود نہیں تھا تو پھر ایران کا دفاعی ڈھانچہ کیا تھا؟

S-300PMU2

ایران کو 2016 میں روس سے چار S-300PMU2 بیٹریاں موصول ہوئیں۔ یہ طویل فاصلے تک مار کرنے والا فضائی دفاعی نظام ہے جو جنگی طیاروں اور بعض بیلسٹک خطرات کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔ اسے ایران کے اسٹریٹجک دفاع کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں  شام کو تقسیم کرنے کے منصوبے پر اسرائیلی وزرا کا خصوصی اجلاس

Bavar-373

روس کے نظام کے ساتھ ساتھ ایران نے اپنا مقامی طور پر تیار کردہ Bavar-373 سسٹم بھی تعینات کیا۔ اندازاً 41 سے 42 بیٹریاں مختلف مقامات پر نصب کی گئیں۔ اس کی مار کرنے کی حد تقریباً 200 کلومیٹر بتائی جاتی ہے۔ ایران اسے جدید اور مؤثر نظام کے طور پر پیش کرتا رہا ہے۔

پرانے مغربی نظام: MIM-23 Hawk اور Rapier missile system

اس کے علاوہ پرانے Hawk اور Rapier سسٹمز بھی مختلف علاقوں میں تعینات تھے، جو دفاعی خلا کو پُر کرنے کے لیے استعمال ہوتے تھے۔

کاغذ پر دیکھا جائے تو یہ ایک تہہ در تہہ (Layered) اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک تھا، جسے مشرقِ وسطیٰ کے مضبوط نظاموں میں شمار کیا جاتا تھا۔

96 گھنٹوں میں کیا ہوا؟

رپورٹس کے مطابق 96 گھنٹوں کے دوران دو ہزار سے زائد امریکی اور اسرائیلی حملے کیے گئے۔ اس مہم میں جدید ٹیکنالوجی اور ہمہ جہتی حکمت عملی استعمال کی گئی۔

B-2 Spirit

اسٹیلتھ بمبار طیاروں نے زیرِ زمین اور مضبوط تنصیبات کو نشانہ بنایا۔

B-1 Lancer

طویل فاصلے تک مار کرنے والے حملوں میں استعمال ہوا۔

ان حملوں میں الیکٹرانک وارفیئر، ریڈار کو جام کرنا، اور بیک وقت مختلف سمتوں سے دباؤ ڈالنا شامل تھا۔ سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق:

  • ریڈار تنصیبات تباہ ہوئیں
  • کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز منہدم ہوئے
  • میزائل لانچ سائٹس کو نشانہ بنایا گیا

نتیجتاً ایران کا مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک چند دنوں میں غیر مؤثر ہو گیا۔

اصل سبق کیا ہے؟

HQ-9B کے بارے میں بحث اصل مسئلے سے توجہ ہٹاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں  پاکستان کا ابدالی ویپن سسٹم کا کامیاب تجربہ

اہم نکتہ یہ ہے کہ جدید اسٹیلتھ ٹیکنالوجی، الیکٹرانک جنگ اور بڑے پیمانے پر مربوط حملوں کے سامنے روایتی فضائی دفاعی نظام کمزور پڑ سکتے ہیں — چاہے وہ روسی ہوں، مقامی طور پر تیار کردہ ہوں یا کسی اور ملک کے۔

مسئلہ کسی ایک ملک کے ہتھیاروں کی ناکامی کا نہیں، بلکہ جدید جنگی حکمت عملی کی برتری کا ہے۔

علاقائی اور معاشی اثرات

ایک ایسا ملک جو اپنی فضائی حدود کا مؤثر دفاع نہ کر سکے، اس کی اسٹریٹجک ساکھ متاثر ہوتی ہے۔ خلیج میں جہاز رانی، انشورنس مارکیٹ اور عالمی تجارتی راستے سب عسکری استحکام سے جڑے ہوتے ہیں۔

فضائی دفاع کی کہانی اور معاشی اعتماد کی کہانی دراصل ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔

نتیجہ

  • ایران کے پاس HQ-9B سسٹم موجود ہونے کا کوئی مستند ثبوت نہیں۔
  • وائرل دعوے غیر مصدقہ سوشل میڈیا پوسٹس پر مبنی ہیں۔
  • ایران کا اصل دفاعی ڈھانچہ S-300PMU2، Bavar-373 اور پرانے مغربی نظاموں پر مشتمل تھا۔
  • مربوط اور جدید فضائی مہم کے نتیجے میں یہ نیٹ ورک شدید نقصان کا شکار ہوا۔

لہٰذا HQ-9B کی کہانی ایک افواہ ہے — اصل بحث جدید جنگی حکمت عملی اور فضائی دفاعی نظاموں کی حدود کے بارے میں ہے۔

آصف شاہد
آصف شاہدhttps://urdu.defencetalks.com
آصف شاہد صحافت کا پچیس سالہ تجربہ رکھتے ہیں ۔ وہ ڈیفنس ٹاکس کے ایڈیٹر ہیں ۔انہوں نے اپنی صلاحیتوں ، وسیع صحافتی تجربے اور مطالعہ سے ڈیفنس ٹاکس کو دفاع، سلامتی اور سفارت کاری سے متعلق ایک ایسا پلیٹ فارم بنا دیا ہے ۔ جس کے سنجیدہ اردو قارئین ایک مدت سے منتظر تھے ۔ آصف شاہد یہ ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے متعدد قومی اخبارات اور ٹی وی چینلوں میں مختلف عہدوں پر کام کر چکے ہیں ۔ انہوں نے خبریں گروپ میں جوائنٹ ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دیں اور قارئین کو اعلیٰ معیار کے مواد کی فراہمی پر روایت ساز ایڈیٹر ضیا شاہد سے داد پائی۔ انہوں نے میڈیا کے تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے منظر نامے میں موافقت کا مظاہرہ کیا اور اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے پرنٹ میڈیا کے بجائے الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کو منتخب کیا ۔ڈان ٹی وی پر لکھے گئے ان کے فکر انگیز کالم حوالے کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں ۔ان کالموں نے ریٹینگ میں بھی نمایاں درجہ حاصل کیا۔وہ تاریخ ، ادب اور کئی زبانوں کا علم رکھتے ہیں ۔وہ قارئین کو خطے کی سیاست ، سلامتی اور سماجی پیش رفت کے درمیان پیچیدہ تعامل کے بارے میں باریک بینی اور وضاحت کے ساتھ آگاہ کرتے ہیں ۔مذہب کے مطالعہ کی وجہ سے مذہبی تحریکوں کی سوچ کو سمجھتے ہیں اور یہ ان کے لیے قارئین کو عالم اسلام اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے درست پس منظر میں پیش کرنے کے لیے مدد گار ہے ۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین