یران نے ایک ہی صبح میں کئی خلیجی اور علاقائی ممالک کی طرف میزائل داغے یا ان کی فضائی حدود کو عبور کیا۔ یہ اقدام خطے میں بڑی اسٹریٹجک تبدیلی کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
ذیل میں ہر ملک کی صورتحال سادہ انداز میں بیان کی جا رہی ہے:
بحرین
بحرین میں امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ کے ہیڈکوارٹر کے قریب حملے کی تصدیق کی گئی۔
- سرکاری خبر ایجنسی نے حملے کی اطلاع دی۔
- جانی نقصان کی تفصیلات جاری نہیں ہوئیں۔
- ففتھ فلیٹ پورے خلیج میں امریکی بحری کارروائیوں کی نگرانی کرتا ہے۔
یہ امریکی فوجی موجودگی کو براہِ راست چیلنج سمجھا جا رہا ہے۔
متحدہ عرب امارات
متحدہ عرب امارات نے بتایا:
- کئی میزائل فضائی دفاعی نظام نے مار گرائے۔
- ابوظہبی میں گرنے والے ملبے سے ایک شہری ہلاک ہوا۔
- وزارت دفاع نے انٹرسیپشن کی تصدیق کی۔
یہ امارات کی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دی جا رہی ہے۔
قطر
قطر نے اعلان کیا:
- ایک میزائل مار گرایا گیا۔
- کوئی نقصان یا جانی ضیاع نہیں ہوا۔
قطر میں العدید بیس موجود ہے، جو خطے میں امریکہ کا اہم فوجی اڈہ ہے۔
کویت
کویت کی سرکاری خبر ایجنسی کے مطابق:
- کویتی فضائی حدود میں میزائلوں سے نمٹا گیا۔
- کسی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
کویت 1991 کے بعد سے زیادہ تر علاقائی تنازعات میں غیر جانبدار رہا ہے، اس لیے یہ پیش رفت اہم سمجھی جا رہی ہے۔
اردن
اردن کی فوج نے دو ایرانی بیلسٹک میزائل مار گرانے کی تصدیق کی۔
- جون 2025 میں بھی اردن نے ایرانی میزائل روکے تھے۔
- اس بار اطلاعات کے مطابق اردن خود ہدف تھا۔
یہ تہران اور عمان کے تعلقات میں کشیدگی کا اشارہ ہے
سعودی عرب
ایرانی میڈیا نے سعودی عرب پر حملوں کا دعویٰ کیا۔
- سعودی حکام نے ابھی تک تصدیق نہیں کی۔
- کوئی بین الاقوامی تصدیق بھی سامنے نہیں آئی۔
اگر یہ دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو اس کے خطے پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
اسٹریٹجک اثرات کیا ہیں؟
اہم نکات:
- کئی ممالک کی فضائی حدود کی خلاف ورزی ہوئی۔
- کم از کم ایک شہری ہلاک ہوا۔
- امریکی فوجی اثاثوں کو بڑے نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی۔
- متعدد ممالک نے کامیابی سے میزائل مار گرائے۔
ایران نے جن ممالک کو نشانہ بنایا، ان میں سے اکثر نے ایران پر براہِ راست حملہ نہیں کیا تھا۔ اس اقدام سے:
- غیر جانبدار ریاستیں ممکنہ طور پر ایران کے خلاف اتحاد میں شامل ہو سکتی ہیں۔
- خلیجی ممالک میں مشترکہ دفاعی تعاون بڑھ سکتا ہے۔
- امریکہ کی براہِ راست شمولیت مزید گہری ہو سکتی ہے۔
آئندہ کیا ہو سکتا ہے؟
تجزیہ کار ان امور پر نظر رکھے ہوئے ہیں:
- مشترکہ خلیجی اعلامیہ
- Riyadh، Abu Dhabi، Manama اور Kuwait City کے درمیان فضائی تعاون
- ممکنہ فوجی اتحاد کی تشکیل
نتیجہ
ایران کے اس اقدام نے صرف اسرائیل یا امریکہ کے ساتھ تنازعہ کو محدود نہیں رکھا، بلکہ خلیج کے کئی ممالک کو براہِ راست متاثر کیا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ ممالک اجتماعی دفاع کی طرف بڑھیں گے یا کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کریں گے؟
آنے والے دن مشرق وسطیٰ کی سیکیورٹی اور علاقائی اتحادوں کی نئی سمت کا تعین کریں گے۔




