اسرائیلی ایئرفورس نے ہفتہ کی صبح ایران کے مختلف شہروں میں متعدد فضائی حملے کیے۔ امریکی اور اسرائیلی حکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای سمیت اعلیٰ سیاسی اور فوجی قیادت کو نشانہ بنانا تھا۔
یہ کارروائی 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد ایرانی نظام کے خلاف سب سے بڑی براہِ راست کارروائیوں میں سے ایک قرار دی جا رہی ہے۔
بنیادی مقصد: نظام کو غیر مستحکم کرنا
ایک اسرائیلی عہدیدار کے مطابق:
"مقصد ایسے حالات پیدا کرنا ہے جن سے ایرانی نظام کے خاتمے کی راہ ہموار ہو۔”
تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ حتمی نتیجہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ ایرانی عوام کس حد تک حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔
یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ صرف فوجی دباؤ نہیں بلکہ سیاسی تبدیلی بھی ایک ہدف ہو سکتی ہے۔
کن رہنماؤں کو نشانہ بنایا گیا؟
اطلاعات کے مطابق درج ذیل شخصیات کو ہدف بنایا گیا:
- Masoud Pezeshkian (ایرانی صدر)
- Ahmad Vahidi (آئی آر جی سی کمانڈر)
- Ali Shamkhani (سیکیورٹی مشیر)
- Mahmoud Ahmadinejad (سابق صدر)
اس کے علاوہ خامنہ ای کی رہائش گاہ اور سرکاری کمپاؤنڈ کے قریب حملوں کی بھی اطلاعات ہیں۔
تاہم اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ یہ واضح ہونے میں کئی گھنٹے لگ سکتے ہیں کہ کون سے رہنما ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔
امریکہ اور اسرائیل کا کردار: مختلف اہداف
ایک سینئر امریکی عہدیدار کے مطابق:
- امریکی حملوں کا مرکز ایران کا میزائل پروگرام اور لانچرز ہیں۔
- اسرائیلی حملے دوہری حکمتِ عملی پر مبنی ہیں:
- میزائل صلاحیت کو کمزور کرنا
- اعلیٰ قیادت کو ختم کرنا
یہ مشترکہ حکمتِ عملی فوجی اور سیاسی دونوں سطحوں پر دباؤ ڈالنے کی کوشش دکھائی دیتی ہے۔
نیتن یاہو اور ٹرمپ کے بیانات
اسرائیلی وزیر اعظم Benjamin Netanyahu نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا:
"ہماری مشترکہ کارروائی ایرانی عوام کو اپنی تقدیر کا فیصلہ خود کرنے کا موقع دے گی۔”
انہوں نے ایرانی قوم کے مختلف نسلی گروہوں — فارسی، کرد، آذری، بلوچ اور اہوازی — سے اپیل کی کہ وہ موجودہ نظام کے خلاف کھڑے ہوں۔
دوسری جانب امریکی صدر Donald Trump نے ایرانی عوام سے کہا کہ وہ بمباری کے دوران گھروں میں رہیں، اور بعد میں حکومت سنبھالنے کی اپیل کی۔
ان بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ فوجی کارروائی کے ساتھ سیاسی تبدیلی کا پیغام بھی دیا جا رہا ہے۔
ممکنہ اثرات
اگر واقعی سپریم لیڈر کو نشانہ بنایا گیا ہے تو اس کے اثرات انتہائی سنگین ہو سکتے ہیں:
- ایران کی سخت اور فوری جوابی کارروائی
- خلیجی ممالک میں کشیدگی میں اضافہ
- امریکی فوجی اڈوں کو خطرہ
- پراکسی گروہوں کی سرگرمیوں میں اضافہ
- خطے میں وسیع جنگ کا امکان
نتیجہ
ایران کی اعلیٰ قیادت کو براہِ راست نشانہ بنانے کی اطلاعات مشرق وسطیٰ میں ایک نئے اور خطرناک مرحلے کی نشاندہی کرتی ہیں۔
اب اصل سوال یہ ہے:
- کیا یہ کارروائی محدود رہے گی؟
- یا یہ مکمل علاقائی جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے؟
آنے والے 24 سے 72 گھنٹے اس بحران کی سمت کا تعین کریں گے۔




