ایران میں جمعرات کی شام ملک گیر انٹرنیٹ اور ٹیلی فون سروس بند کر دی گئی، جب مہنگائی، بے روزگاری اور ریاستی جبر کے خلاف ملک بھر میں حکومت مخالف مظاہرے شدت اختیار کر گئے۔ تہران سمیت بڑے شہروں میں احتجاج شروع ہوتے ہی مواصلاتی نظام معطل کر دیا گیا، جسے مبصرین ممکنہ سخت کریک ڈاؤن کی تمہید قرار دے رہے ہیں۔
انٹرنیٹ بندش کے باوجود مظاہروں کی ویڈیوز محدود ذرائع اور بیرونِ ملک فارسی میڈیا کے ذریعے سامنے آتی رہیں۔ یہ احتجاج اب دوسرے ہفتے میں داخل ہو چکا ہے اور ایران کے مغربی شہر ایلام سے لے کر شمال مشرقی شہر مشہد تک 100 سے زائد شہروں میں پھیل چکا ہے۔
Tehran today
A sea of people in the streets.
The patience of the Iranian people is over. Khamenei and his allies must leave Iran as soon as possible.#Iran pic.twitter.com/Wx2CddZ3YT— Masih Alinejad 🏳️ (@AlinejadMasih) January 8, 2026
ناروے میں قائم ایران ہیومن رائٹس این جی او کے مطابق 28 دسمبر 2025 سے شروع ہونے والے مظاہروں میں کم از کم 45 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں آٹھ بچے بھی شامل ہیں، جبکہ سینکڑوں زخمی اور 2,000 سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔
کئی مظاہرین نے جلا وطن ولی عہد Reza Pahlavi کی اپیل پر سڑکوں پر نکلنے کی بات کہی۔ ویڈیوز میں مظاہرین کو نعرے لگاتے دیکھا گیا: “یہ آخری جنگ ہے، پہلوی واپس آئے گا۔” رضا پہلوی نے سوشل میڈیا پر ایرانیوں سے متحد ہو کر مطالبات بلند کرنے اور عالمی برادری سے مواصلاتی بحالی میں مدد کی اپیل کی۔
تصدیق شدہ فوٹیج میں تہران اور دیگر شہروں میں سڑکوں کی بندش، آگ زنی اور حکومت کے حق و مخالفت میں نعرے بازی دیکھی گئی۔ سرکاری نشریاتی ادارے IRIB کے کچھ حصے بعض علاقوں میں بند یا متاثر ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، تاہم آزادانہ تصدیق مشکل ہے۔
عالمی ردِعمل
ایران میں جاری بدامنی پر عالمی سطح پر سخت ردِعمل سامنے آیا ہے۔ امریکی صدر Donald Trump نے تہران کو خبردار کیا کہ اگر سیکیورٹی فورسز مظاہرین کے خلاف مہلک طاقت استعمال کرتی ہیں تو امریکا “سخت جواب” دے گا۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ایرانی نظام “منہدم ہو سکتا ہے”۔
ایک امریکی عہدیدار کے مطابق US Central Command صورتحال کی کڑی نگرانی کر رہا ہے، خصوصاً جمعہ کی نمازوں کے بعد حکومت کے ردِعمل پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ عہدیدار نے واضح کیا کہ خطے میں ایف-15 ای لڑاکا طیاروں کی تعیناتی معمول کے مطابق ہے اور کسی نئی فوجی کشیدگی کا حصہ نہیں۔
یورپ میں بھی لہجہ سخت ہوا ہے۔ سویڈن کے وزیرِاعظم Ulf Kristersson نے ایرانی عوام کی “آزادی اور بہتر مستقبل” کی جدوجہد کی حمایت کرتے ہوئے پرامن مظاہروں کو دبانے کی مذمت کی۔ بیلجیم کے وزرا نے بھی کھل کر مظاہرین کی حمایت کا اظہار کیا، جب کہ برطانیہ اور فرانس اب تک محتاط خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔
علاقائی سطح پر اسرائیلی میڈیا کے مطابق دفاعی حلقے صورتحال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں اور کسی غلط اندازے سے پیدا ہونے والی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ غیر مصدقہ اطلاعات اور افواہوں — جن میں خفیہ سرگرمیوں اور سیکیورٹی تنصیبات سے متعلق دعوے شامل ہیں — کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔
ایران کی عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی ایجئی نے مظاہرین کو سخت نتائج کی دھمکی دیتے ہوئے غیر ملکی حمایت کو “دشمن کا منصوبہ” قرار دیا۔ مبصرین کے مطابق معاشی بحران اور سیاسی جبر کے امتزاج نے ایران کو ایک نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے، جہاں یہ احتجاج سابقہ تحریکوں کے مقابلے میں زیادہ وسیع اور دیرپا نظر آتے ہیں۔




