اتوار, 1 مارچ, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

ایران پر نئے حملے: 12 روزہ جنگ سے کس طرح مختلف اور زیادہ خطرناک؟

ایران پر جاری حالیہ فوجی کارروائی کے ابتدائی گھنٹے واضح کرتے ہیں کہ یہ تنازعہ سابقہ 12 روزہ جنگ سے نوعیت، رفتار، اہداف اور شدت کے لحاظ سے مختلف اور کہیں زیادہ وسیع ہے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق دارالحکومت Tehran میں صبح سویرے متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جو اس نئی مہم کے آغاز کا اشارہ تھیں۔

1. وقت کا انتخاب: زیادہ سے زیادہ خلل پیدا کرنے کی کوشش

پچھلی جنگ کے برعکس، جو رات کے وقت شروع ہوئی تھی، یہ آپریشن ایران کے ہفتہ وار سرکاری کام کے پہلے دن صبح شروع کیا گیا۔

اس حکمت عملی کے ممکنہ مقاصد:

  • حکومتی نظام میں فوری خلل
  • قیادت کو اچانک دباؤ میں لانا
  • کمانڈ اینڈ کنٹرول کو متاثر کرنا
  • نفسیاتی برتری حاصل کرنا

یہ وقت کا انتخاب ایک سوچے سمجھے اسٹریٹجک ڈیزائن کی نشاندہی کرتا ہے۔

2. قیادت کو نشانہ بنانے کی حکمتِ عملی (Regime Decapitation)

ابتدائی رپورٹس کے مطابق پہلے مرحلے میں تقریباً 30 اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میں شامل تھے:

  • اعلیٰ قیادت کی رہائش گاہیں
  • انٹیلی جنس مراکز
  • سیکیورٹی اداروں کے دفاتر
  • حتیٰ کہ سپریم لیڈر کے دفتر سے منسلک مقامات

یہ واضح طور پر ایک “رجیم ڈی کیپیٹیشن” حکمتِ عملی دکھائی دیتی ہے، جس کا مقصد قیادت اور سیکیورٹی ڈھانچے کو ابتدا ہی میں کمزور کرنا ہے، نہ کہ صرف فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانا۔

3. امریکہ کی براہِ راست شمولیت

ایک اہم فرق یہ ہے کہ اس بار امریکہ ابتدا ہی سے فعال کردار ادا کرتا دکھائی دے رہا ہے۔

امریکی صدر Donald Trump نے کارروائی کو امریکی جانوں کے دفاع اور فوری خطرات کے خاتمے سے تعبیر کیا۔ تاہم ایرانی عوام سے حکومت کے خلاف کھڑے ہونے کی اپیل اس بات کا عندیہ دیتی ہے کہ رجیم چینج ایک پوشیدہ یا ضمنی مقصد ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں  Mi-28NE نائٹ ہنٹر کی ایرانی سروس میں شمولیت، خطے میں فضائی طاقت کا نیا توازن

اطلاعات کے مطابق کارروائی Israel کے ساتھ قریبی رابطے اور ہم آہنگی سے کی جا رہی ہے۔

4. مرحلہ وار فوجی حکمتِ عملی

آپریشن کا ڈھانچہ مرحلہ وار دکھائی دیتا ہے:

پہلا مرحلہ:

  • قیادت اور کمانڈ مراکز پر میزائل حملے
  • فضائی دفاعی نظام کو غیر مؤثر بنانا
  • جنوبی ایران میں مقامات جیسے Chabahar کو نشانہ بنانا

ممکنہ مقصد: بعد میں فضائیہ کی وسیع کارروائی کے لیے راستہ صاف کرنا، جس میں میزائل اڈوں اور اسٹریٹجک تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکے۔

5. ایران کا غیر معمولی تیز ردعمل

ایرانی ردعمل انتہائی تیز رہا۔ اطلاعات کے مطابق چند گھنٹوں کے اندر میزائل فائر کیے گئے جن کے اثرات:

  • Tel Aviv
  • Haifa

میں رپورٹ ہوئے۔

ایرانی بیانات میں کہا گیا کہ اب کوئی “سرخ لکیر” باقی نہیں رہی اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔ یہ انداز ظاہر کرتا ہے کہ ممکنہ طور پر فوجی کمانڈرز کو پیشگی اختیار دیا گیا ہے کہ وہ فوری اور مسلسل کارروائی جاری رکھیں۔

6. اسرائیل سے آگے، خلیجی ممالک تک پھیلاؤ

اس بار تنازعہ صرف اسرائیل تک محدود نہیں رہا۔

خلیجی ریاستوں میں دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جنہیں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے سے جوڑا جا رہا ہے۔ یہ براہِ راست امریکہ اور ایران کے درمیان ٹکراؤ کی علامت ہے۔

یہ صورتحال جون 2025 میں Al Udeid Air Base (Qatar) پر ہونے والے محدود اور علامتی حملے سے بالکل مختلف ہے، جسے اس وقت کشیدگی کم کرنے کی کوشش سمجھا گیا تھا۔

7. بحیرہ احمر اور کثیرالجہتی محاذ

یمن میں حوثی گروپ نے بحیرہ احمر میں دوبارہ کارروائیوں کا اعلان کیا ہے، جس سے عالمی تجارتی راستے خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں  بائیڈن نے ایشیا میں امریکی اتحاد کو مضبوط کرنے کے لیے چار سال گزارے، کیا وہ اتحاد ٹرمپ کی اگلی مدت کے دوران قائم رہیں گے؟

یوں یہ تنازعہ اب کئی محاذوں پر پھیلتا دکھائی دیتا ہے:

  • ایران
  • اسرائیل
  • امریکی افواج
  • خلیجی ممالک
  • بحیرہ احمر کے سمندری راستے

کیا یہ علاقائی جنگ میں تبدیل ہوگا؟

ابتدائی پیٹرن سے واضح ہے کہ یہ تنازعہ:

  • زیادہ مربوط
  • زیادہ وسیع
  • زیادہ تیز رفتار
  • اور زیادہ خطرناک

ہے۔

سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ کشیدگی محدود اور قابو میں رہے گی، یا سابقہ “سرخ لکیروں” کے خاتمے کے بعد یہ ایک طویل علاقائی جنگ میں تبدیل ہو جائے گی؟

آنے والے دن مشرق وسطیٰ کی سلامتی اور عالمی سیاست کے مستقبل کا تعین کر سکتے ہیں۔

آصف شاہد
آصف شاہدhttps://urdu.defencetalks.com
آصف شاہد صحافت کا پچیس سالہ تجربہ رکھتے ہیں ۔ وہ ڈیفنس ٹاکس کے ایڈیٹر ہیں ۔انہوں نے اپنی صلاحیتوں ، وسیع صحافتی تجربے اور مطالعہ سے ڈیفنس ٹاکس کو دفاع، سلامتی اور سفارت کاری سے متعلق ایک ایسا پلیٹ فارم بنا دیا ہے ۔ جس کے سنجیدہ اردو قارئین ایک مدت سے منتظر تھے ۔ آصف شاہد یہ ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے متعدد قومی اخبارات اور ٹی وی چینلوں میں مختلف عہدوں پر کام کر چکے ہیں ۔ انہوں نے خبریں گروپ میں جوائنٹ ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دیں اور قارئین کو اعلیٰ معیار کے مواد کی فراہمی پر روایت ساز ایڈیٹر ضیا شاہد سے داد پائی۔ انہوں نے میڈیا کے تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے منظر نامے میں موافقت کا مظاہرہ کیا اور اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے پرنٹ میڈیا کے بجائے الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کو منتخب کیا ۔ڈان ٹی وی پر لکھے گئے ان کے فکر انگیز کالم حوالے کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں ۔ان کالموں نے ریٹینگ میں بھی نمایاں درجہ حاصل کیا۔وہ تاریخ ، ادب اور کئی زبانوں کا علم رکھتے ہیں ۔وہ قارئین کو خطے کی سیاست ، سلامتی اور سماجی پیش رفت کے درمیان پیچیدہ تعامل کے بارے میں باریک بینی اور وضاحت کے ساتھ آگاہ کرتے ہیں ۔مذہب کے مطالعہ کی وجہ سے مذہبی تحریکوں کی سوچ کو سمجھتے ہیں اور یہ ان کے لیے قارئین کو عالم اسلام اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے درست پس منظر میں پیش کرنے کے لیے مدد گار ہے ۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین