اتوار, 15 فروری, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

پاکستان کا مقامی ہائی اسپیڈ ٹارگٹ ڈرون کامیاب تجربہ، فضائی دفاعی تربیت میں اہم پیش رفت

پاکستان نے بغیر کسی بڑے شور کے اپنی مقامی بغیر پائلٹ فضائی صلاحیتوں میں ایک اور اہم قدم اٹھاتے ہوئے ہائی اسپیڈ ٹارگٹ ڈرون کی کامیاب آزمائش کی ہے۔ یہ ڈرون AvRID (Aviation Research, Innovation and Development) نے تیار کیا ہے اور اس کا مقصد فضائی دفاعی تربیت، میزائل ٹیسٹنگ اور حقیقی جنگی اہداف کی نقل (threat simulation) کو بہتر بنانا ہے۔ حالیہ آزمائش کی مختصر مگر واضح ویڈیو نے اس پیش رفت کی تصدیق کر دی ہے۔

ایک مختصر آزمائش، مگر گہری اسٹریٹجک اہمیت

فروری 2026 کے وسط میں سامنے آنے والی فوٹیج میں ایک جیٹ پاورڈ سرخ رنگ کا ڈرون صحرا نما علاقے میں بڑے نیومیٹک ریل لانچر کے ذریعے فضا میں چھوڑا جاتا دکھائی دیتا ہے۔ دفاع اور مصنوعی ذہانت کے ماہر Amir Husain نے اس لانچر کے حجم کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ یہ پہلے دیکھے گئے نظاموں سے بڑا محسوس ہوتا ہے، جو پروگرام میں ارتقائی بہتری کی علامت ہے۔

AvRID اور NASTP: مقامی خودانحصاری کا فریم ورک

AvRID، Pakistan Aeronautical Complex کے تحت قائم ادارہ ہے اور اب National Aerospace Science & Technology Park (NASTP) کے ایوی ایشن ڈویژن میں ضم ہو چکا ہے۔ اس انضمام کا مقصد حکومت، صنعت اور تعلیمی اداروں کے درمیان تعاون بڑھا کر دفاعی ٹیکنالوجی میں بیرونی انحصار کم کرنا ہے۔ ہائی اسپیڈ ٹارگٹ ڈرون اسی طویل المدتی حکمتِ عملی کا عملی مظہر ہے۔

یہ بھی پڑھیں  پاک–افغان کشیدگی میں نیا موڑ: افغان علما نے بیرون ملک جنگ میں شمولیت ’ناجائز‘ قرار دی

ہائی اسپیڈ ٹارگٹ ڈرون پروگرام کا ارتقا

پاکستان میں جیٹ پاورڈ ٹارگٹ ڈرونز پر کام کم از کم 2019 سے جاری ہے۔ اس دوران 2022، 2023 اور 2025 میں مختلف آزمائشیں سامنے آئیں، جن میں لانچ سسٹمز، اعتمادیت اور آپریشنل پروفائلز میں بتدریج بہتری دکھائی دی۔ فروری 2026 کی تازہ آزمائش اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ پروگرام اب تجرباتی مرحلے سے آگے بڑھ کر ایک مستحکم اور قابلِ اعتماد نظام کی صورت اختیار کر چکا ہے۔

Image

ممکنہ صلاحیتیں اور کردار

اگرچہ سرکاری سطح پر تکنیکی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، تاہم دستیاب شواہد کے مطابق یہ ایک ہائی اسپیڈ، جیٹ پاورڈ ڈرون ہے جو فضائی دفاعی میزائلوں، ریڈار سسٹمز اور اینٹی ایئرکرافٹ گنز کی تربیت کے لیے بطور ہدف استعمال ہوتا ہے۔ اس طرح کے ڈرونز کم لاگت، زیادہ تحفظ اور حقیقت سے قریب تربیتی ماحول فراہم کرتے ہیں، جو جدید فضائی جنگ میں ناگزیر ہو چکا ہے۔

دفاعی اور صنعتی اثرات

اس پروگرام کی اسٹریٹجک اہمیت اس بات میں مضمر ہے کہ یہ پاکستان کی فضائی دفاعی تیاری کو بہتر بناتا ہے اور تیز رفتار خطرات کے خلاف باقاعدہ تربیت ممکن بناتا ہے۔ صنعتی سطح پر یہ پیش رفت اس تبدیلی کی عکاس ہے جس میں پاکستان محض اسمبلنگ سے آگے بڑھ کر مکمل ڈیزائن، ٹیسٹنگ اور پیداوار کی صلاحیت حاصل کر رہا ہے۔

اگرچہ یہ نظام کسی جنگی ڈرون یا لڑاکا طیارے جیسی شہرت حاصل نہیں کرتا، مگر حقیقت میں یہ پاکستان کے دفاعی ایکو سسٹم کی ایک بنیادی اینٹ ہے—جو خاموشی سے مگر مستقل انداز میں مقامی خودانحصاری کو مضبوط بنا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں  ایران، روس کے su-35 کی بجائے چین کے J-10c طیاروں کی طرف مائل
انجم ندیم
انجم ندیم
انجم ندیم صحافت کے شعبے میں پندرہ سال کا تجربہ رکھتے ہیں۔ اس دوران انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز ملک کے مین سٹریم چینلز میں بطور رپورٹر کیا اور پھر بیورو چیف اور ریزیڈنٹ ایڈیٹر جیسے اہم صحافتی عہدوں پر فائز رہے۔ وہ اخبارات اور ویب سائٹس پر ادارتی اور سیاسی ڈائریاں بھی لکھتے ہیں۔ انجم ندیم نے سیاست اور جرائم سمیت ہر قسم کے موضوعات پر معیاری خبریں نشر اور شائع کرکے اپنی صلاحیت کا ثبوت دیا۔ ان کی خبر کو نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا گیا۔ انجم ندیم نے ملک کے جنگ زدہ علاقوں میں بھی رپورٹنگ کی۔ انہوں نے امریکہ سے سٹریٹیجک اور گلوبل کمیونیکیشن پر فیلو شپ کی ہے۔ انجم ندیم کو پاکستان کے علاوہ بین الاقوامی خبر رساں اداروں میں بھی انتہائی اہم عہدوں پر کام کرنے کا تجربہ ہے۔ انجم ندیم ملکی اور بین الاقوامی سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ وہ کالم نگار بھی ہیں۔ صحافتی گھرانے سے تعلق رکھنے والے انجم ندیم قانون کو بھی پیشے کے طور پر کرتے ہیں تاہم وہ صحافت کو اپنی شناخت سمجھتے ہیں۔ وہ انسانی حقوق، اقلیتوں کے مسائل، سیاست اور مشرق وسطیٰ میں بدلتی ہوئی اسٹریٹجک تبدیلیوں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین