28 فروری 2026 کو ایران پر ہونے والے امریکی۔اسرائیلی مشترکہ حملوں کے بعد سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر میں عراق اور شام میں ایسے راکٹ بوسٹرز دکھائے گئے ہیں جو مبینہ طور پر اسرائیلی Blue Sparrow میزائل سے مشابہت رکھتے ہیں ۔
اگر اس کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ خطے میں ایئر لانچڈ بیلسٹک میزائل کے عملی استعمال کا اہم واقعہ ہو سکتا ہے، جو مشرق وسطیٰ میں دفاعی توازن اور کشیدگی کے ڈائنامکس کو متاثر کرے گا۔
تاہم اسرائیلی یا امریکی حکام کی جانب سے تاحال استعمال شدہ ہتھیاروں کی سرکاری تصدیق نہیں کی گئی، اور موجودہ تجزیہ اوپن سورس تصاویر اور ملبے کی بنیاد پر کیا جا رہا ہے ۔
بلیو اسپیرو میزائل کیا ہے؟

بلیو اسپیرو میزائل اسرائیلی دفاعی کمپنی Rafael Advanced Defense Systems نے تیار کیا۔ یہ دراصل اسرائیل کے Arrow missile defense system کے ٹیسٹ کے لیے ایک بیلسٹک ٹارگٹ میزائل کے طور پر بنایا گیا تھا۔
اسپیرو خاندان میں شامل ہیں:
- بلیک اسپیرو
- بلیو اسپیرو
- سلور اسپیرو
اوپن سورس معلومات کے مطابق بلیو اسپیرو کی خصوصیات:
- لمبائی تقریباً 6.5 میٹر
- وزن تقریباً 1.9 ٹن
- سنگل اسٹیج سالڈ فیول بوسٹر
- انرشیل اور سیٹلائٹ گائیڈنس
- ممکنہ رینج تقریباً 2,000 کلومیٹر (لانچ کنڈیشنز پر منحصر)
اگرچہ اسے بنیادی طور پر ٹیسٹ میزائل کے طور پر تیار کیا گیا، اس کا ماڈیولر ڈیزائن اسے ہائی ایکسپلوسیو وار ہیڈ کے ساتھ آپریشنل اسٹرائیک ہتھیار میں تبدیل کرنے کی صلاحیت بھی فراہم کرتا ہے ۔
F-15 طیارے کا کردار

ماضی کے تجربات اور تصاویر سے ثابت ہوتا ہے کہ بلیو اسپیرو میزائل اسرائیلی F-15I Ra’am اور دیگر F-15 ویریئنٹس سے لانچ کیا جا سکتا ہے ۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ:
- اسرائیل کو ایئر لانچڈ بیلسٹک اسٹرائیک کی صلاحیت حاصل ہے
- طیارے دشمن کی فضائی حدود میں داخل ہوئے بغیر میزائل فائر کر سکتے ہیں
- پائلٹس کو زمینی دفاعی نظام سے کم خطرہ لاحق ہوتا ہے
- تیز رفتار بیلسٹک ٹریکٹری دفاعی نظام کے لیے چیلنج بن سکتی ہے
ملبہ کیا ثابت کرتا ہے — اور کیا نہیں؟
اوپن سورس تصاویر میں دکھائے گئے بوسٹرز بلیو یا سلور اسپیرو میزائل سے مشابہ ہیں ۔
تاہم:
- کوئی باضابطہ سرکاری تصدیق نہیں
- آزاد فرانزک تحقیق کی عدم موجودگی
- سوشل میڈیا تصاویر کی تصدیق شدہ زنجیر دستیاب نہیں
لہٰذا یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ ملبہ “اسپیرو سیریز سے مطابقت رکھتا ہے”، نہ کہ یہ کہ بلیو اسپیرو کے عملی استعمال کی قطعی تصدیق ہو چکی ہے ۔
اگر بلیو اسپیرو استعمال ہوا تو اس کے اثرات کیا ہوں گے؟
اگر ایئر لانچڈ بیلسٹک میزائل استعمال کیا گیا تو یہ اہم عسکری پیش رفت ہوگی:
عسکری فوائد:
- کروز میزائل کے مقابلے میں زیادہ رفتار
- دفاعی نظام کے لیے زیادہ مشکل ٹریکنگ
- گہرے اور مضبوط اہداف پر حملے کی صلاحیت
- اسٹینڈ آف فاصلے سے اسٹرائیک
علاقائی اثرات:
- ایرانی فضائی دفاع پر دباؤ
- عراق و شام کی فضائی حدود میں پیچیدگیاں
- خلیجی دفاعی منصوبہ بندی میں تبدیلی
- کشیدگی میں ممکنہ اضافہ
حملوں کے بعد ایران، عراق اور اسرائیل کی فضائی حدود میں عارضی پابندیاں اس کشیدگی کی عکاسی کرتی ہیں ۔
خطے میں لانگ رینج اسٹرائیک وارفیئر کا نیا مرحلہ؟
یہ واقعہ چند بڑے رجحانات کی نشاندہی کرتا ہے:
- اسٹینڈ آف اسلحے کا بڑھتا استعمال
- ایئر لانچڈ بیلسٹک نظام کی اہمیت
- ڈوئل یوز میزائل ٹیکنالوجی
- معلوماتی جنگ (Information Warfare) کا کردار
جب تک اسرائیل یا امریکہ باضابطہ طور پر استعمال شدہ ہتھیاروں کی تفصیل جاری نہیں کرتے، بلیو اسپیرو کے استعمال کو “ممکنہ مگر غیر تصدیق شدہ” تجزیہ ہی سمجھا جائے گا ۔
تاہم ایک بات واضح ہے:
مشرق وسطیٰ میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے ایئر لانچڈ بیلسٹک میزائل اب علاقائی عسکری حکمت عملی کا اہم حصہ بنتے جا رہے ہیں۔



