امریکہ کی جانب سے ایران میں رجیم چینج کے مقصد سے فوجی کارروائی کے اعلان نے فوری طور پر 2003 کی عراق جنگ کی یاد تازہ کر دی ہے، جب صدر George W. Bush نے عراق پر حملہ کیا تھا۔ تاہم موجودہ صورتحال میں صدر Donald Trump کی حکمتِ عملی کئی اہم پہلوؤں سے مختلف نظر آتی ہے۔
یہ بحران Iran اور Israel کو ایک بار پھر خطے کی کشیدگی کے مرکز میں لے آیا ہے۔
1. اقوام متحدہ کی منظوری حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی گئی
2003 میں بش انتظامیہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو قائل کرنے کی بھرپور کوشش کی تھی کہ عراق کے پاس مہلک ہتھیار موجود ہیں اور فوجی کارروائی ضروری ہے۔
اس کے برعکس، موجودہ صورتحال میں ٹرمپ انتظامیہ نے اقوام متحدہ سے منظوری لینے کی کوئی واضح کوشش نہیں کی۔ یہ اقدام عالمی سطح پر تنہائی اور سفارتی دباؤ میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔
2. سینیٹ سے باقاعدہ اجازت نہیں لی گئی
عراق جنگ سے قبل امریکی سینیٹ میں ووٹنگ ہوئی تھی، جہاں 77 سینیٹرز نے فوجی طاقت کے استعمال کے حق میں اور 23 نے مخالفت میں ووٹ دیا تھا۔
موجودہ کارروائی کے لیے صدر ٹرمپ نے سینیٹ سے منظوری لینے کی کوشش نہیں کی۔ اس اقدام نے آئینی اختیارات اور جمہوری عمل کے حوالے سے سوالات کو جنم دیا ہے۔
3. وسیع اتحاد کے بجائے محدود شراکت داری
عراق پر حملے کے وقت “کولیشن آف دی ولنگ” میں سرکاری طور پر 49 ممالک شامل تھے۔
موجودہ صورتحال میں امریکہ کے ساتھ نمایاں طور پر صرف اسرائیل کھڑا نظر آتا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم Benjamin Netanyahu نے ایران میں رجیم چینج کی کھل کر حمایت کی ہے اور ٹرمپ کی قیادت کو سراہا ہے۔
یہ محدود اتحاد طویل المدتی جنگی حکمتِ عملی کے لیے چیلنج بن سکتا ہے۔
4. زمینی افواج کے بجائے فضائی کارروائی پر انحصار
عراق جنگ میں بڑی تعداد میں زمینی فوج تعینات کی گئی تھی جس کا مقصد صدام حسین کی حکومت کا خاتمہ اور قبضہ تھا۔
ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ موجودہ حکمتِ عملی زیادہ تر فضائی حملوں پر مشتمل ہوگی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ صرف فضائی طاقت کے ذریعے مکمل رجیم چینج شاذ و نادر ہی کامیاب ہوتا ہے۔
ٹرمپ کے دلائل: میزائل اور نیوکلیئر پروگرام
اپنے ویڈیو خطاب میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل تیار کر رہا ہے جو یورپ، بیرونِ ملک امریکی فوجیوں اور ممکنہ طور پر امریکی سرزمین کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔
تاہم بعض انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق اس بات کے شواہد موجود نہیں کہ ایران کے پاس فی الحال ایسے میزائل ہیں جو امریکہ تک پہنچ سکیں۔ البتہ ایران کے پاس مختصر اور درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل موجود ہیں جو مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
ٹرمپ نے یہ بھی الزام لگایا کہ ایران گزشتہ حملوں کے بعد اپنے نیوکلیئر پروگرام کو دوبارہ فعال کر رہا ہے۔
اسرائیل کا مؤقف: رجیم چینج ہی حل
وزیر اعظم نیتن یاہو نے اپنے بیان میں ایرانی عوام سے اپیل کی کہ وہ موجودہ حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور “آزادی اور امن” کے لیے جدوجہد کریں۔
انہوں نے ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مشترکہ کارروائی ایرانی عوام کو اپنی تقدیر کا فیصلہ خود کرنے کا موقع فراہم کرے گی۔
اطلاعات کے مطابق اسرائیل کئی دنوں تک حملے جاری رکھنے کی تیاری کر رہا ہے اور ضرورت پڑنے پر اس میں اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے۔
خطے پر ممکنہ اثرات اور خطرات
موجودہ صورتحال کے ممکنہ اثرات درج ذیل ہو سکتے ہیں:
- مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں پر حملوں کا خطرہ
- خطے میں پراکسی گروہوں کے ذریعے کشیدگی میں اضافہ
- عالمی تجارتی راستوں خصوصاً خلیج میں جہاز رانی متاثر ہونے کا امکان
- وسیع پیمانے پر علاقائی عدم استحکام
نتیجہ: ایک بڑا اور پرخطر فیصلہ
اگرچہ ایران میں رجیم چینج کی بات 2003 کی یاد دلاتی ہے، لیکن موجودہ حکمتِ عملی کئی پہلوؤں سے مختلف ہے: نہ اقوام متحدہ کی منظوری، نہ سینیٹ کی ووٹنگ، نہ وسیع عالمی اتحاد، اور نہ ہی بڑے پیمانے پر زمینی فوجی تعیناتی۔
یہ فیصلہ مشرق وسطیٰ اور عالمی سیاست کے لیے ایک نیا موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ آیا یہ حکمتِ عملی اپنے مقاصد حاصل کرے گی یا خطے کو مزید عدم استحکام کی طرف لے جائے گی، اس کا فیصلہ آنے والے دنوں میں ہوگا۔




