امریکی حکام کے مطابق امریکا نے ایران کے خلاف ایک مرحلہ وار فوجی حکمت عملی تیار کی ہے۔
اس منصوبے کی اہم خصوصیات:
- ہر مرحلہ 1 سے 2 دن پر مشتمل ہوگا۔
- ہر مرحلے کے بعد وقفہ دیا جائے گا۔
- وقفے کے دوران نقصانات کا جائزہ لیا جائے گا۔
- صورتحال کو دیکھتے ہوئے اگلے قدم کا فیصلہ کیا جائے گا۔
اس حکمت عملی کو “کنٹرولڈ اسکیلیشن” یعنی محدود اور قابو میں رکھی جانے والی کشیدگی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ایران کا فوری اور غیر متوقع ردعمل
امریکہ اور Israel کی مشترکہ کارروائی کے بعد ایران نے توقع سے زیادہ تیزی سے جوابی میزائل حملے کیے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق:
- ایران کا ردعمل اندازوں سے زیادہ تیز تھا۔
- حملوں کی شدت بھی توقع سے زیادہ تھی۔
- اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران پہلے سے تیاری کر چکا تھا۔
ایران کی میزائل صلاحیت کتنی ہے؟
انٹیلی جنس اندازوں کے مطابق:
- ایران کے پاس تقریباً 2000 سے 3000 میزائل موجود ہیں۔
- تاہم، لانچرز (میزائل چھوڑنے والے نظام) کی تعداد کم ہو چکی ہے۔
رپورٹس کے مطابق:
- گزشتہ جون کے حملوں کے بعد ایران کے پاس پہلے کے مقابلے میں صرف ایک تہائی لانچرز باقی رہ گئے ہیں۔
اگر یہ اندازے درست ہیں تو ماہرین کو توقع تھی کہ ایران کا ردعمل کچھ تاخیر سے آئے گا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔
ایران کی تیاری کا اشارہ
ایران کے تیز ردعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ:
- ممکنہ حملے کا اندازہ پہلے سے تھا۔
- میزائل یونٹس پہلے سے تیار حالت میں تھے۔
- کمانڈ اینڈ کنٹرول کا نظام فوری کارروائی کے لیے تیار تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ردعمل اچانک نہیں بلکہ پیشگی منصوبہ بندی کا نتیجہ لگتا ہے۔
خلیجی دفاعی نظام کا امتحان
گزشتہ چند برسوں میں امریکہ نے خلیجی خطے میں مضبوط دفاعی نظام قائم کیا ہے، جن میں شامل ہیں:
- جدید ریڈار نظام
- پیٹریاٹ اور دیگر میزائل دفاعی سسٹمز
- بحری دفاعی پلیٹ فارم
- مشترکہ فضائی نگرانی
اب ایران کے میزائل حملے اس پورے دفاعی نظام کا عملی امتحان لے رہے ہیں۔
اس میں شامل اہم ممالک:
- Bahrain
- United Arab Emirates
- Qatar
- Saudi Arabia
آگے کیا ہو سکتا ہے؟
آنے والے دنوں میں چند اہم سوالات سامنے ہوں گے:
- کیا ایران مسلسل اسی رفتار سے میزائل فائر کر سکے گا؟
- کیا خلیجی دفاعی نظام اتنی شدت برداشت کر سکے گا؟
- کیا امریکہ کسی سفارتی راستے (Off-Ramp) کا انتخاب کرے گا؟
- یا کشیدگی مزید بڑھے گی؟
نتیجہ
امریکہ کا مرحلہ وار حملوں کا منصوبہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ واشنگٹن کشیدگی کو قابو میں رکھنا چاہتا ہے۔ لیکن ایران کے تیز اور بڑے پیمانے پر ردعمل نے صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔
اب خطے کا دفاعی نظام، فوجی صلاحیتیں اور سیاسی فیصلے — سب ایک بڑے امتحان سے گزر رہے ہیں۔
آنے والے چند دن مشرق وسطیٰ کی سلامتی کے لیے انتہائی اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔




