منگل, 3 مارچ, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

سینٹ کام کی تصدیق: کویت میں تین امریکی F-15E طیارے اتحادی فضائی دفاع کی فائرنگ سے گر گئے، تمام اہلکار محفوظ

امریکی سینٹرل کمانڈ United States Central Command (CENTCOM) نے باضابطہ طور پر تصدیق کی ہے کہ یکم مارچ کو کویت کی فضائی حدود میں گرنے والے تین امریکی جنگی طیارے دراصل اتحادی فضائی دفاع کی غلط فائرنگ (Friendly Fire) کا نتیجہ تھے۔

سینٹ کام کے مطابق رات 11:03 بجے (ET) یکم مارچ کو تین F-15E Strike Eagle طیارے، جو آپریشن Operation Epic Fury کی حمایت میں پرواز کر رہے تھے، فعال جنگی صورتحال کے دوران کویتی فضائی دفاعی نظام کی فائرنگ کا نشانہ بنے۔

واقعہ کیسے پیش آیا؟

سینٹ کام کے پریس نوٹ کے مطابق اس وقت علاقے میں شدید جنگی سرگرمی جاری تھی جس میں شامل تھے:

  • ایرانی طیاروں کی کارروائیاں
  • بیلسٹک میزائل حملے
  • ڈرون حملے

اسی ہنگامی صورتحال میں کویتی فضائی دفاعی نظام نے امریکی F-15E طیاروں کو غلطی سے دشمن ہدف سمجھ لیا اور ان پر میزائل فائر کر دیا۔

بیان میں کہا گیا:

“فعال جنگی صورتحال کے دوران، جس میں ایرانی طیارے، بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملے شامل تھے، امریکی فضائیہ کے جنگی طیارے کویتی فضائی دفاع کی غلط فائرنگ کا شکار ہوئے۔”

تمام چھ اہلکار محفوظ

ہر F-15E میں دو اہلکار سوار ہوتے ہیں، یعنی مجموعی طور پر چھ افراد طیاروں میں موجود تھے۔

سینٹ کام کے مطابق:

  • تمام چھ اہلکاروں نے بروقت ایجیکشن کیا
  • سب کو محفوظ طریقے سے ریکور کر لیا گیا
  • سب کی حالت مستحکم ہے
یہ بھی پڑھیں  پیوٹن امریکی الیکشن سے کیاچاہتے ہیں؟

کویت نے بھی اس واقعے کا اعتراف کیا ہے اور امریکی اہلکاروں کی بازیابی میں تعاون کیا۔

تحقیقات جاری

سینٹ کام نے واضح کیا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں۔

تحقیقات میں ممکنہ طور پر درج ذیل امور کا جائزہ لیا جائے گا:

  • ریڈار ٹریکنگ ڈیٹا
  • میزائل لانچ ریکارڈ
  • Identification Friend or Foe (IFF) نظام
  • امریکی اور کویتی افواج کے درمیان رابطہ کاری

مزید معلومات دستیاب ہونے پر جاری کی جائیں گی۔

فرینڈلی فائر کیوں ہوتا ہے؟

جدید فضائی دفاعی نظام انتہائی تیز رفتار خطرات کو نشانہ بنانے کے لیے ڈیزائن کیے جاتے ہیں۔ تاہم جب:

  • ایک ہی وقت میں متعدد میزائل اور ڈرون حملے ہوں
  • فضائی حدود میں کئی طیارے موجود ہوں
  • فیصلہ سازی کے لیے وقت محدود ہو

تو غلط شناخت (misidentification) کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

یہ واقعہ اسی پیچیدہ جنگی ماحول کی عکاسی کرتا ہے۔

اسٹریٹیجک اثرات

یہ حادثہ کئی اہم سوالات اٹھاتا ہے:

  • کیا خلیجی دفاعی نظاموں کے درمیان رابطہ کاری مؤثر ہے؟
  • کیا مشترکہ آپریشنز میں IFF نظام کافی مضبوط ہیں؟
  • کیا خطے میں فضائی دفاعی نیٹ ورک کو اپ گریڈ کی ضرورت ہے؟

اگرچہ تمام اہلکار محفوظ رہے، لیکن تین جدید F-15E طیاروں کا نقصان ایک اہم عسکری اور علامتی دھچکا ہے۔

نتیجہ

کویت میں گرنے والے تین امریکی F-15E اسٹرائیک ایگل طیاروں کی وجہ اب واضح ہو چکی ہے: یہ دشمن حملہ نہیں بلکہ اتحادی فضائی دفاع کی غلط فائرنگ کا نتیجہ تھا۔

یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ شدید جنگی حالات میں جدید ترین دفاعی نظام بھی غلطی کر سکتے ہیں، خصوصاً جب فضائی حدود میزائل اور ڈرون حملوں سے بھری ہو۔

یہ بھی پڑھیں  ٹرمپ کا بورڈ آف پیس: ایک ارب ڈالر دے کر غزہ کے فیصلوں میں شمولیت؟

تحقیقات کے نتائج مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اہم ثابت ہوں گے۔

انجم ندیم
انجم ندیم
انجم ندیم صحافت کے شعبے میں پندرہ سال کا تجربہ رکھتے ہیں۔ اس دوران انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز ملک کے مین سٹریم چینلز میں بطور رپورٹر کیا اور پھر بیورو چیف اور ریزیڈنٹ ایڈیٹر جیسے اہم صحافتی عہدوں پر فائز رہے۔ وہ اخبارات اور ویب سائٹس پر ادارتی اور سیاسی ڈائریاں بھی لکھتے ہیں۔ انجم ندیم نے سیاست اور جرائم سمیت ہر قسم کے موضوعات پر معیاری خبریں نشر اور شائع کرکے اپنی صلاحیت کا ثبوت دیا۔ ان کی خبر کو نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا گیا۔ انجم ندیم نے ملک کے جنگ زدہ علاقوں میں بھی رپورٹنگ کی۔ انہوں نے امریکہ سے سٹریٹیجک اور گلوبل کمیونیکیشن پر فیلو شپ کی ہے۔ انجم ندیم کو پاکستان کے علاوہ بین الاقوامی خبر رساں اداروں میں بھی انتہائی اہم عہدوں پر کام کرنے کا تجربہ ہے۔ انجم ندیم ملکی اور بین الاقوامی سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ وہ کالم نگار بھی ہیں۔ صحافتی گھرانے سے تعلق رکھنے والے انجم ندیم قانون کو بھی پیشے کے طور پر کرتے ہیں تاہم وہ صحافت کو اپنی شناخت سمجھتے ہیں۔ وہ انسانی حقوق، اقلیتوں کے مسائل، سیاست اور مشرق وسطیٰ میں بدلتی ہوئی اسٹریٹجک تبدیلیوں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین