منگل, 3 مارچ, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

کیا امریکی F-15 طیارے ایران نے گرائے؟ سینٹکام کے بیان پر سوالات اور ڈرون مار گرانے کے دعوے

امریکی سینٹکام نے تسلیم کیا ہے کہ تین امریکی McDonnell Douglas F-15E Strike Eagle لڑاکا طیارے جنگی ماحول میں تباہ ہوئے، لیکن اس کی وجہ کویت کے فضائی دفاع کی “فرینڈلی فائر” قرار دیا گیا ہے۔

تاہم دفاعی ماہرین اس وضاحت پر سوال اٹھا رہے ہیں اور متبادل امکانات پر غور کر رہے ہیں۔

اسی دوران ایران نے ایک اور اسرائیلی Hermes 900 ڈرون مار گرانے کی ویڈیو جاری کی ہے، جس سے فضائی محاذ مزید پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔

سینٹکام کی وضاحت پر سوال کیوں؟

سینٹکام کے مطابق:

  • تینوں F-15E طیارے اتحادی فضائی دفاعی نظام کی غلطی سے مار گرائے گئے۔
  • اس وقت ایرانی لڑاکا طیارے بھی فضائی حدود میں موجود تھے۔

لیکن جدید جنگی نظام میں فرینڈلی فائر کے امکانات کم کیوں ہوتے ہیں؟

جدید IFF سسٹم کیا کرتے ہیں؟

  • Mode 4 اور Mode 5 جیسے خفیہ شناختی سسٹم طیارے کی شناخت یقینی بناتے ہیں۔
  • پیٹریاٹ جیسے فضائی دفاعی نظام ہدف کو نشانہ بنانے سے پہلے:
    • شناختی سگنلز چیک کرتے ہیں
    • فلائٹ پلان سے تصدیق کرتے ہیں
    • ریڈار ٹریک کا موازنہ کرتے ہیں

ایک ہی وقت میں تین جدید لڑاکا طیاروں کا گر جانا اور وہ بھی فرینڈلی فائر سے — ایک غیر معمولی واقعہ سمجھا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں  روس کا چاند پر جوہری پاور پلانٹ لگانے کا منصوبہ، 2036 تک تکمیل کا ہدف

کیا ایرانی کارروائی ممکن تھی؟

چونکہ سینٹکام نے خود تسلیم کیا کہ ایرانی طیارے بھی فضائی حدود میں تھے، اس لیے کچھ تجزیہ کاروں کے مطابق:

  • ممکن ہے ایرانی لڑاکا طیاروں نے فضائی حملہ کیا ہو
  • یا ایرانی میزائل سسٹم نے ہدف بنایا ہو
  • یا مشترکہ فضائی و میزائل کارروائی ہوئی ہو

اگر ایسا ہے تو اس کے اسٹریٹجک اثرات بہت بڑے ہوں گے۔

ڈرون مار گرانے کا ایرانی دعویٰ

ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایک اور Hermes 900 ڈرون مار گرایا۔

Hermes 900:

  • طویل پرواز کرنے والا نگرانی ڈرون ہے
  • انٹیلی جنس اور ہدف کی نشاندہی کے لیے استعمال ہوتا ہے

اگر ڈرونز مسلسل گر رہے ہیں تو اس کا مطلب:

  • ایران کا فضائی دفاع مؤثر ہو رہا ہے
  • الیکٹرانک وارفیئر صلاحیت بہتر ہے
  • اتحادی افواج کو دور سے حملہ کرنے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے

اتحادی کارروائیوں میں کمی؟

مشاہدہ کیا گیا ہے کہ F-15 طیاروں کے گرنے کے بعد:

  • امریکی و اسرائیلی حملوں کی ویڈیوز کم نظر آ رہی ہیں
  • ممکن ہے کہ حکمت عملی کا ازسرنو جائزہ لیا جا رہا ہو
  • یا فضائی کارروائیوں میں عارضی کمی آئی ہو

اسی دوران ایران کے میزائل حملے جاری رہے، اور اسرائیل سمیت امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا۔

یہ بھی پڑھیں  امریکی بحری طاقت کا نیا باب، USS جان ایف کینیڈی کی سمندری آزمائشیں شروع

اسٹریٹجک اہمیت

اگر واقعی فرینڈلی فائر تھا:

  • تو یہ رابطہ کاری اور فضائی دفاعی ہم آہنگی کا مسئلہ ظاہر کرتا ہے۔

اگر ایرانی کارروائی تھی:

  • تو اس کا مطلب ایران فضائی برتری کو چیلنج کر رہا ہے۔
  • مغربی طیارے مکمل محفوظ نہیں رہے۔
  • فضائی جنگ زیادہ متوازن ہو سکتی ہے۔

نتیجہ

ابھی تک:

  • مکمل ریڈار ڈیٹا جاری نہیں کیا گیا
  • تحقیقات مکمل نہیں ہوئیں
  • آزاد تصدیق دستیاب نہیں

لیکن ایک بات واضح ہے:
تین F-15 طیاروں کا نقصان اور ایک اور ڈرون کا گرایا جانا فضائی جنگ میں اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔

اصل سوال یہ ہے:
👉 کیا یہ تکنیکی غلطی تھی؟
👉 یا ایران نے فضائی میدان میں نئی برتری حاصل کی ہے؟

آصف شاہد
آصف شاہدhttps://urdu.defencetalks.com
آصف شاہد صحافت کا پچیس سالہ تجربہ رکھتے ہیں ۔ وہ ڈیفنس ٹاکس کے ایڈیٹر ہیں ۔انہوں نے اپنی صلاحیتوں ، وسیع صحافتی تجربے اور مطالعہ سے ڈیفنس ٹاکس کو دفاع، سلامتی اور سفارت کاری سے متعلق ایک ایسا پلیٹ فارم بنا دیا ہے ۔ جس کے سنجیدہ اردو قارئین ایک مدت سے منتظر تھے ۔ آصف شاہد یہ ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے متعدد قومی اخبارات اور ٹی وی چینلوں میں مختلف عہدوں پر کام کر چکے ہیں ۔ انہوں نے خبریں گروپ میں جوائنٹ ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دیں اور قارئین کو اعلیٰ معیار کے مواد کی فراہمی پر روایت ساز ایڈیٹر ضیا شاہد سے داد پائی۔ انہوں نے میڈیا کے تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے منظر نامے میں موافقت کا مظاہرہ کیا اور اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے پرنٹ میڈیا کے بجائے الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کو منتخب کیا ۔ڈان ٹی وی پر لکھے گئے ان کے فکر انگیز کالم حوالے کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں ۔ان کالموں نے ریٹینگ میں بھی نمایاں درجہ حاصل کیا۔وہ تاریخ ، ادب اور کئی زبانوں کا علم رکھتے ہیں ۔وہ قارئین کو خطے کی سیاست ، سلامتی اور سماجی پیش رفت کے درمیان پیچیدہ تعامل کے بارے میں باریک بینی اور وضاحت کے ساتھ آگاہ کرتے ہیں ۔مذہب کے مطالعہ کی وجہ سے مذہبی تحریکوں کی سوچ کو سمجھتے ہیں اور یہ ان کے لیے قارئین کو عالم اسلام اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے درست پس منظر میں پیش کرنے کے لیے مدد گار ہے ۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین