امریکی سینٹکام نے تسلیم کیا ہے کہ تین امریکی McDonnell Douglas F-15E Strike Eagle لڑاکا طیارے جنگی ماحول میں تباہ ہوئے، لیکن اس کی وجہ کویت کے فضائی دفاع کی “فرینڈلی فائر” قرار دیا گیا ہے۔
تاہم دفاعی ماہرین اس وضاحت پر سوال اٹھا رہے ہیں اور متبادل امکانات پر غور کر رہے ہیں۔
اسی دوران ایران نے ایک اور اسرائیلی Hermes 900 ڈرون مار گرانے کی ویڈیو جاری کی ہے، جس سے فضائی محاذ مزید پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔
Another F-15 of the US air force was shot down, in what they claimed as a friendly-fire incident.
This is the second F-15 shot down today.
The claims of friendly-fire is not really convincing, since the only aircraft in the air are US and Israeli, why would they shoot down… pic.twitter.com/Ebh1Its0pZ
— Zhao DaShuai 东北进修🇨🇳 (@zhao_dashuai) March 2, 2026
سینٹکام کی وضاحت پر سوال کیوں؟
سینٹکام کے مطابق:
- تینوں F-15E طیارے اتحادی فضائی دفاعی نظام کی غلطی سے مار گرائے گئے۔
- اس وقت ایرانی لڑاکا طیارے بھی فضائی حدود میں موجود تھے۔
لیکن جدید جنگی نظام میں فرینڈلی فائر کے امکانات کم کیوں ہوتے ہیں؟
جدید IFF سسٹم کیا کرتے ہیں؟
- Mode 4 اور Mode 5 جیسے خفیہ شناختی سسٹم طیارے کی شناخت یقینی بناتے ہیں۔
- پیٹریاٹ جیسے فضائی دفاعی نظام ہدف کو نشانہ بنانے سے پہلے:
- شناختی سگنلز چیک کرتے ہیں
- فلائٹ پلان سے تصدیق کرتے ہیں
- ریڈار ٹریک کا موازنہ کرتے ہیں
ایک ہی وقت میں تین جدید لڑاکا طیاروں کا گر جانا اور وہ بھی فرینڈلی فائر سے — ایک غیر معمولی واقعہ سمجھا جاتا ہے۔
کیا ایرانی کارروائی ممکن تھی؟
چونکہ سینٹکام نے خود تسلیم کیا کہ ایرانی طیارے بھی فضائی حدود میں تھے، اس لیے کچھ تجزیہ کاروں کے مطابق:
- ممکن ہے ایرانی لڑاکا طیاروں نے فضائی حملہ کیا ہو
- یا ایرانی میزائل سسٹم نے ہدف بنایا ہو
- یا مشترکہ فضائی و میزائل کارروائی ہوئی ہو
اگر ایسا ہے تو اس کے اسٹریٹجک اثرات بہت بڑے ہوں گے۔
ڈرون مار گرانے کا ایرانی دعویٰ
Irves Watch analysis
Due to restrictions of communication in Iran, the Israeli Air force is using Hermes 900 drone to provide comms link to smaller drones to make strikes in Iran.
The shot down Hermes drone had a serial number 997. Same drone was seen here at channel 24 program. pic.twitter.com/ZUyyunRbdI— Irves (@Irves_Watch) June 18, 2025
ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایک اور Hermes 900 ڈرون مار گرایا۔
Hermes 900:
- طویل پرواز کرنے والا نگرانی ڈرون ہے
- انٹیلی جنس اور ہدف کی نشاندہی کے لیے استعمال ہوتا ہے
اگر ڈرونز مسلسل گر رہے ہیں تو اس کا مطلب:
- ایران کا فضائی دفاع مؤثر ہو رہا ہے
- الیکٹرانک وارفیئر صلاحیت بہتر ہے
- اتحادی افواج کو دور سے حملہ کرنے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے
اتحادی کارروائیوں میں کمی؟
مشاہدہ کیا گیا ہے کہ F-15 طیاروں کے گرنے کے بعد:
- امریکی و اسرائیلی حملوں کی ویڈیوز کم نظر آ رہی ہیں
- ممکن ہے کہ حکمت عملی کا ازسرنو جائزہ لیا جا رہا ہو
- یا فضائی کارروائیوں میں عارضی کمی آئی ہو
اسی دوران ایران کے میزائل حملے جاری رہے، اور اسرائیل سمیت امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا۔
اسٹریٹجک اہمیت
اگر واقعی فرینڈلی فائر تھا:
- تو یہ رابطہ کاری اور فضائی دفاعی ہم آہنگی کا مسئلہ ظاہر کرتا ہے۔
اگر ایرانی کارروائی تھی:
- تو اس کا مطلب ایران فضائی برتری کو چیلنج کر رہا ہے۔
- مغربی طیارے مکمل محفوظ نہیں رہے۔
- فضائی جنگ زیادہ متوازن ہو سکتی ہے۔
نتیجہ
ابھی تک:
- مکمل ریڈار ڈیٹا جاری نہیں کیا گیا
- تحقیقات مکمل نہیں ہوئیں
- آزاد تصدیق دستیاب نہیں
لیکن ایک بات واضح ہے:
تین F-15 طیاروں کا نقصان اور ایک اور ڈرون کا گرایا جانا فضائی جنگ میں اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔
اصل سوال یہ ہے:
👉 کیا یہ تکنیکی غلطی تھی؟
👉 یا ایران نے فضائی میدان میں نئی برتری حاصل کی ہے؟




