مشرقِ وسطیٰ جنگی صورتحال رپورٹ
2 مارچ 2026
2 مارچ 2026 تک امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازع ایک خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ مسلسل میزائل حملے، فضائی کارروائیاں، اور خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی بے چینی اس بحران کو مزید گہرا کر رہی ہے۔
ذیل میں موجودہ صورتحال کی جامع رپورٹ پیش کی جا رہی ہے۔
فوری جنگی کارروائیاں
امریکی اور اسرائیلی کارروائیاں
- امریکہ نے B-2 اسٹیلتھ بمبار طیاروں کے ذریعے ایران کے زیرزمین بیلسٹک میزائل سائلوز اور لانچنگ تنصیبات پر حملے کیے (آپریشن "ایپک فیوری”)۔
- HIMARS سسٹم سے ATACMS طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل فائر کیے گئے۔
- اسرائیل نے تقریباً 200 لڑاکا طیاروں کے ساتھ مغربی اور وسطی ایران میں 500 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا۔
- اسرائیلی فوج نے لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر بھی حملے کیے۔
ایرانی جوابی حملے
- ایران نے اسرائیل پر میزائل حملوں کی 10ویں لہر شروع کی۔
- کویت میں امریکی علی السالم ایئربیس کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔
- ایرانی میڈیا کے مطابق یو ایس ایس ابراہم لنکن کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔
- آبنائے ہرمز میں GPS سگنلز جام کیے جا رہے ہیں، جس سے میزائل اور ڈرون کی درستگی متاثر ہو سکتی ہے۔
نقصانات اور اثرات
جانی نقصان
- ایرانی ہلال احمر کے مطابق ایران میں 555 افراد ہلاک۔
- لبنان میں اسرائیلی حملوں سے کم از کم 31 افراد جاں بحق، 149 زخمی۔
- چین نے ایک شہری کی ہلاکت کی تصدیق کی اور تقریباً 3000 شہریوں کو نکال لیا۔
فوجی نقصان
- کویت میں متعدد امریکی طیارے گرنے کی اطلاعات، عملہ محفوظ۔
- دو F-15E طیاروں کے تباہ ہونے کی غیر مصدقہ رپورٹس۔
- خطے میں کئی امریکی اڈے میزائل حملوں کی زد میں آئے۔
فضائی اور سفری بحران
- 3,400 سے زائد پروازیں منسوخ۔
- دبئی، ابوظہبی، دوحہ اور شارجہ سمیت بڑے ایئرپورٹس بند۔
- تقریباً 300,000 مسافر خلیجی ممالک میں پھنسے ہوئے۔
- فضائی حدود کی بندش سے عالمی پروازیں متاثر۔
توانائی منڈیوں پر اثرات
- برینٹ کروڈ کی قیمت تقریباً 9٪ اضافے کے ساتھ 79 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
- امریکی خام تیل 8٪ اضافے کے ساتھ 73 ڈالر فی بیرل۔
- ڈچ قدرتی گیس کی قیمت میں 23٪ اضافہ۔
آبنائے ہرمز سے دنیا کی تقریباً 20٪ تیل اور LNG سپلائی گزرتی ہے، اس لیے کسی بھی رکاوٹ سے عالمی توانائی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔
سیاسی بیانات اور تجزیہ
امریکی مؤقف
- صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی عبوری قیادت بات چیت میں دلچسپی رکھتی ہے۔
- امریکی سیکیورٹی ادارے ہائی الرٹ پر ہیں۔
- پینٹاگون میں خدشہ ہے کہ صورتحال قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔
ایرانی مؤقف
- وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا: "جنگ کب اور کیسے ختم ہوگی، اس کا فیصلہ ایران کرے گا۔”
- ایران کا دعویٰ ہے کہ اس کی میزائل صلاحیت برقرار ہے۔
یورپی ردعمل
- برطانیہ دفاعی کردار تک محدود رہے گا۔
- جرمنی نے ایران کے خلاف فوجی شرکت سے انکار کیا۔
- فرانس خلیجی دفاع میں مدد کے لیے تیار ہے۔
اسٹریٹجک جائزہ
2 مارچ 2026 تک:
- میزائل حملوں میں کمی کے آثار نہیں۔
- دفاعی میزائل تیزی سے استعمال ہو رہے ہیں۔
- عالمی توانائی اور سفری نظام متاثر۔
- سفارتی حل کے امکانات کمزور نظر آ رہے ہیں۔
اگر حملوں کی رفتار برقرار رہی تو یہ تنازع طویل جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے، جس کے عالمی اثرات مزید گہرے ہوں گے۔




