امریکہ نے ایران کے خلاف ہفتے کے روز ایک وسیع عسکری کارروائی میں مختلف جدید ہتھیار استعمال کیے، جن میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل، اسٹیلتھ فائٹر جیٹس، اور پہلی بار میدانِ جنگ میں کم لاگت والے یک طرفہ حملہ آور ڈرون شامل تھے۔
امریکی United States Central Command (سینٹ کام) کے مطابق یہ کارروائیاں “آپریشن ایپک فیوری” کا حصہ تھیں۔ جاری کردہ تصاویر میں F/A-18 Hornet اور F-35 Lightning II طیاروں کو مشن پر جاتے دکھایا گیا۔
پہلی بار لُوکاس (LUCAS) کامیکازے ڈرون کا استعمال

سینٹ کام کے مطابق کارروائی میں یک طرفہ حملہ آور ڈرون استعمال کیے گئے جو ظاہری طور پر ایران کے “شاہد” ڈرون جیسے ڈیزائن پر مبنی ہیں۔
ان ڈرونز کو LUCAS (Low-Cost Unmanned Combat Attack System) کہا جاتا ہے، جو امریکی کمپنی Spektreworks تیار کرتی ہے۔
اہم نکات:
- فی ڈرون لاگت تقریباً 35,000 ڈالر
- “Affordable Mass” حکمت عملی کے تحت تیار
- کم قیمت مگر بڑی تعداد میں استعمال کے لیے موزوں
یوکرین جنگ کے بعد امریکہ اور دیگر ممالک نے کم لاگت ہتھیاروں کی بڑی تعداد میں دستیابی کو نئی دفاعی حکمت عملی کا حصہ بنایا ہے۔
ٹوماہاک کروز میزائل: طویل فاصلے تک درست نشانہ
آپریشن میں Tomahawk لینڈ اٹیک میزائل بھی استعمال کیے گئے۔
یہ میزائل امریکی دفاعی کمپنی Raytheon تیار کرتی ہے۔
ٹوماہاک کی خصوصیات:
- رینج: تقریباً 1,600 کلومیٹر
- لمبائی: 6.1 میٹر
- وزن: تقریباً 1,510 کلوگرام
- فی میزائل اوسط لاگت: 1.3 ملین ڈالر
- غیر جوہری وار ہیڈ
یہ میزائل سمندر یا زمین سے لانچ کیے جا سکتے ہیں اور انتہائی دفاعی نظام والے علاقوں میں بھی درست نشانہ لگانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
امریکہ 2026 میں مزید 57 ٹوماہاک میزائل خریدنے کا ارادہ رکھتا ہے جبکہ پیداوار بڑھا کر سالانہ 1,000 یونٹس تک لے جانے کا منصوبہ ہے۔
ایف-35 اور ایف/A-18 طیاروں کا کردار
کارروائی میں شامل طیاروں میں:
- F-35 Lightning II – پانچویں نسل کا اسٹیلتھ فائٹر
- F/A-18 Hornet – ملٹی رول لڑاکا طیارہ
F-35 ریڈار سے بچنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور جدید گائیڈڈ بم اور اینٹی ریڈار میزائل لے جا سکتا ہے، جو دشمن کے فضائی دفاعی نظام کو مفلوج کر سکتے ہیں۔
F/A-18 طیارہ فضا سے فضا اور فضا سے زمین دونوں مشنز انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
نئی امریکی عسکری حکمت عملی
آپریشن ایپک فیوری ایک ملٹی لیئرڈ (کثیر جہتی) حکمت عملی کی مثال ہے، جس میں شامل ہیں:
- طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل
- اسٹیلتھ فائٹر طیارے
- ملٹی رول لڑاکا جیٹس
- کم لاگت کامیکازے ڈرون
یہ امتزاج ظاہر کرتا ہے کہ جدید جنگ میں مہنگے ہتھیاروں کے ساتھ سستے مگر مؤثر ڈرونز کا استعمال بڑھ رہا ہے۔
اس کے اسٹریٹیجک اثرات
- فضائی دفاعی نظام پر دباؤ میں اضافہ
- ڈرون سیچوریشن حملوں کا بڑھتا رجحان
- کم لاگت مگر زیادہ مقدار میں ہتھیاروں کا استعمال
- طویل فاصلے سے اسٹرائیک کی صلاحیت میں اضافہ
ایران کے خلاف حالیہ کارروائی جدید جنگی نظریات کی عملی شکل سمجھی جا رہی ہے، جہاں اسٹیلتھ، درستگی اور کم لاگت ہتھیاروں کو ایک ساتھ استعمال کیا جا رہا ہے۔



