پیر, 2 مارچ, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

قطر نے دو ایرانی Su-24 بمبار طیارے مار گرائے، حملوں کے بعد تہران سے روابط منقطع کرنے کا اعلان

قطر نے اعلان کیا ہے کہ اس کی مسلح افواج نے ایران کے دو Sukhoi Su-24 ٹیکٹیکل بمبار طیارے مار گرائے۔ یہ پیش رفت خطے میں جاری کشیدگی کے دوران ایک بڑی عسکری جھڑپ تصور کی جا رہی ہے۔

قطری وزارتِ دفاع کے مطابق، قطر امیری فضائیہ نے ایرانی طیاروں کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ قطری حدود کی جانب بڑھ رہے تھے۔ وزارت کا کہنا ہے کہ ملک کے فضائی دفاعی نظام نے سات بیلسٹک میزائل اور پانچ ڈرون بھی تباہ کیے جو مختلف علاقوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔

حکام کے مطابق تمام خطرات کو ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی ناکام بنا دیا گیا۔

ایران سے روابط معطل، سخت بیان

ایک علیحدہ بیان میں قطر کی وزارتِ خارجہ نے اعلان کیا کہ دوحہ اب ایرانی حکومت کے ساتھ کسی قسم کی سفارتی مصروفیت جاری نہیں رکھے گا۔

وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق:

  • ایران نے قطر کے سویلین انفراسٹرکچر، بشمول بین الاقوامی ہوائی اڈے، کو نشانہ بنایا۔
  • قطری لڑاکا طیاروں اور دفاعی نظام نے ڈرون اور دیگر فضائی خطرات کو تباہ کیا۔

قطری وزیر خارجہ نے کہا کہ اس قسم کا حملہ “بغیر جواب کے نہیں چھوڑا جا سکتا” اور ایران کو “اس کھلے حملے کی قیمت ادا کرنا ہوگی”۔

یہ بیان دوحہ اور تہران کے تعلقات میں واضح بگاڑ کی نشاندہی کرتا ہے۔

قطری وزارت دفاع کے اہم نکات

سرکاری بیان کے مطابق:

  • دو ایرانی Su-24 بمبار طیارے مار گرائے گئے۔
  • سات بیلسٹک میزائل فضا میں تباہ کیے گئے۔
  • پانچ ڈرون مار گرائے گئے۔
  • تمام حملے ہدف تک پہنچنے سے پہلے ناکام بنائے گئے۔
یہ بھی پڑھیں  کیا امریکی F-15 طیارے ایران نے گرائے؟ سینٹکام کے بیان پر سوالات اور ڈرون مار گرانے کے دعوے

وزارت نے شہریوں اور رہائشیوں کو ہدایت کی کہ وہ پرسکون رہیں، افواہوں سے گریز کریں اور صرف سرکاری ذرائع پر انحصار کریں۔

علاقائی اثرات

Su-24 ایک دو انجن والا حملہ آور طیارہ ہے جو نچلی پرواز اور بمباری کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اگر قطر کا دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو یہ حالیہ بحران میں ریاستی سطح پر براہِ راست فضائی جھڑپ کا نمایاں واقعہ ہوگا۔

قطر کی جانب سے ایران سے سفارتی روابط معطل کرنا خلیجی خطے میں مزید تقسیم اور کشیدگی کا سبب بن سکتا ہے۔

آگے کیا ہو سکتا ہے؟

اہم سوالات یہ ہیں:

  • کیا ایران قطری دعووں کا جواب دے گا؟
  • کیا دیگر خلیجی ممالک بھی سخت مؤقف اختیار کریں گے؟
  • کیا یہ کشیدگی وسیع علاقائی تصادم میں بدل سکتی ہے؟

موجودہ صورتحال انتہائی حساس ہے اور خطہ مزید عدم استحکام کی طرف بڑھ سکتا ہے۔

انجم ندیم
انجم ندیم
انجم ندیم صحافت کے شعبے میں پندرہ سال کا تجربہ رکھتے ہیں۔ اس دوران انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز ملک کے مین سٹریم چینلز میں بطور رپورٹر کیا اور پھر بیورو چیف اور ریزیڈنٹ ایڈیٹر جیسے اہم صحافتی عہدوں پر فائز رہے۔ وہ اخبارات اور ویب سائٹس پر ادارتی اور سیاسی ڈائریاں بھی لکھتے ہیں۔ انجم ندیم نے سیاست اور جرائم سمیت ہر قسم کے موضوعات پر معیاری خبریں نشر اور شائع کرکے اپنی صلاحیت کا ثبوت دیا۔ ان کی خبر کو نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا گیا۔ انجم ندیم نے ملک کے جنگ زدہ علاقوں میں بھی رپورٹنگ کی۔ انہوں نے امریکہ سے سٹریٹیجک اور گلوبل کمیونیکیشن پر فیلو شپ کی ہے۔ انجم ندیم کو پاکستان کے علاوہ بین الاقوامی خبر رساں اداروں میں بھی انتہائی اہم عہدوں پر کام کرنے کا تجربہ ہے۔ انجم ندیم ملکی اور بین الاقوامی سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ وہ کالم نگار بھی ہیں۔ صحافتی گھرانے سے تعلق رکھنے والے انجم ندیم قانون کو بھی پیشے کے طور پر کرتے ہیں تاہم وہ صحافت کو اپنی شناخت سمجھتے ہیں۔ وہ انسانی حقوق، اقلیتوں کے مسائل، سیاست اور مشرق وسطیٰ میں بدلتی ہوئی اسٹریٹجک تبدیلیوں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین