منگل, 3 مارچ, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

میزائل دفاع کا حساب: کیا طویل جنگ میں امریکہ کے انٹرسیپٹر میزائل ختم ہو سکتے ہیں جبکہ ایران کے سستے ڈرون برقرار رہیں؟

The Wall Street Journal کی ایک حالیہ رپورٹ میں اس خدشے کا اظہار کیا گیا ہے کہ ایران اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ بار بار ہونے والی جھڑپوں نے مشرق وسطیٰ میں امریکی فضائی دفاعی نظام کے ذخائر پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی فضائی دفاعی انٹرسیپٹر میزائلوں کی درست تعداد — جسے پینٹاگون “میگزین ڈیپتھ” کہتا ہے — خفیہ رکھی جاتی ہے۔ تاہم مسلسل حملوں اور جوابی کارروائیوں کے نتیجے میں انٹرسیپٹر میزائلوں کا ذخیرہ تیزی سے استعمال ہو رہا ہے۔

سستا حملہ، مہنگا دفاع: اصل مسئلہ کیا ہے؟

Image

ماہرین کے مطابق اصل مسئلہ “کاسٹ ایکسچینج ریشو” یعنی لاگت کے توازن کا ہے۔

ایران کے پاس موجود ہیں:

  • بیلسٹک میزائل
  • کروز میزائل
  • کم قیمت ڈرون (مثلاً شاہد طرز کے)

یہ نظام نسبتاً کم لاگت اور بڑی تعداد میں تیار کیے جا سکتے ہیں۔

دوسری جانب امریکی دفاعی نظام جیسے پیٹریاٹ، تھاڈ (THAAD) اور بحری انٹرسیپٹر میزائل:

  • انتہائی پیچیدہ ٹیکنالوجی پر مبنی ہیں
  • فی میزائل قیمت لاکھوں یا ملین ڈالر تک ہو سکتی ہے
  • تیاری میں وقت درکار ہوتا ہے

اس کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ امریکی نظام حملے روک سکتے ہیں، مگر ہر انٹرسیپشن مہنگا پڑتا ہے۔

حوثیوں کے خلاف مہم سے سبق

یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے خلاف امریکی کارروائی میں بھی ایسا ہی مسئلہ سامنے آیا۔

تقریباً 6 سے 7 ہفتوں میں:

  • امریکہ نے تقریباً 7 ارب ڈالر خرچ کیے
  • اس کے باوجود حوثیوں کی حملہ کرنے کی صلاحیت مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکی

اس مہم میں مسئلہ زیادہ تر مہنگے امریکی گائیڈڈ میزائلوں کا سستے لانچرز کے خلاف استعمال تھا۔

یہ بھی پڑھیں  امریکہ کا ایران کے خلاف اعلانِ جنگ: ٹرمپ کی حکمتِ عملی عراق جنگ 2003 سے کیسے مختلف ہے؟

لیکن ایران کے ساتھ ممکنہ طویل جنگ میں صورتحال مزید پیچیدہ ہے کیونکہ:

  • امریکہ اور اسرائیل مہنگے جارحانہ ہتھیار بھی استعمال کر رہے ہیں
  • ساتھ ہی دفاعی انٹرسیپٹر میزائل بھی بڑی تعداد میں خرچ ہو رہے ہیں

کیا ایران وقت کا انتظار کر سکتا ہے؟

رپورٹس کے مطابق حالیہ 12 روزہ جنگی منظرنامے میں ایران نے اپنے کچھ جدید میزائل محفوظ رکھے، ممکنہ طور پر اس اندیشے کے تحت کہ جنگ طویل ہو سکتی ہے۔

اگر ایران یہ سمجھتا ہے کہ:

  • اس کے سستے ڈرون مسلسل تیار ہو سکتے ہیں
  • امریکہ کے انٹرسیپٹر محدود رفتار سے بنتے ہیں

تو تہران ممکنہ طور پر “صبر کی حکمت عملی” اختیار کر سکتا ہے۔

کیا امریکہ پیداوار میں سبقت لے سکتا ہے؟

امریکی دفاعی صنعت جدید اور مضبوط ہے، مگر انٹرسیپٹر میزائلوں کی تیاری:

  • پیچیدہ سپلائی چین پر منحصر ہے
  • جدید مائیکرو الیکٹرانکس کی ضرورت ہوتی ہے
  • کڑی جانچ اور سرٹیفکیشن سے گزرتی ہے

ان سب عوامل کے باعث پیداوار میں فوری اضافہ آسان نہیں۔

اگر جنگ طویل ہو جائے تو امریکہ کو ترجیحی فیصلے کرنے پڑ سکتے ہیں:

  • کن اہداف کا دفاع پہلے کیا جائے؟
  • کن علاقوں میں خطرہ قبول کیا جائے؟
  • کیا اتحادی ممالک دفاعی بوجھ بانٹیں گے؟

ٹرمپ کی حکمت عملی اور ممکنہ غلط اندازہ

صدر Donald Trump نے رجیم چینج کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ تاہم بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شاید یہ اندازہ لگایا گیا تھا کہ ایرانی حکومت جلد کمزور ہو جائے گی یا ہتھیار ڈال دے گی۔

اگر ایران ایک ہفتے یا اس سے زیادہ عرصے تک خلیجی اہداف پر حملے جاری رکھتا ہے، تو انٹرسیپٹر میزائلوں کی دستیابی مزید اہم ہو جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں  قیمتوں میں غیر معمولی اضافے اور تجارتی کشیدگی کے باعث بھارت, امریکا پی 8 آئی پوسیڈن معاہدہ تعطل کا شکار

اصل سوال: جنگ میدان میں جیتی جائے گی یا فیکٹریوں میں؟

یہ تنازع صرف ٹیکنالوجی کا نہیں بلکہ صنعتی برداشت کا بھی ہے۔

اہم سوالات:

  • کیا امریکہ اپنے دفاعی ذخائر برقرار رکھ سکے گا؟
  • کیا ایران کم لاگت ڈرون اور میزائلوں کی پیداوار جاری رکھ سکے گا؟
  • کیا جنگ صنعتی صلاحیتوں کی آزمائش بن جائے گی؟

جدید جنگوں میں اکثر فیصلہ میدانِ جنگ سے زیادہ کارخانوں اور معیشت کی طاقت سے ہوتا ہے۔

اگر کشیدگی برقرار رہی تو “میزائل دفاع کا حساب” اس تنازع کا سب سے اہم عنصر ثابت ہو سکتا ہے۔

حماد سعید
حماد سعیدhttps://urdu.defencetalks.com/author/hammad-saeed/
حماد سعید 14 سال سے صحافت سے وابستہ ہیں، مختلف اخبارات اور ٹی وی چینلز کے ساتھ کام کیا، جرائم، عدالتوں اور سیاسی امور کے علاوہ ایل ڈی اے، پی ایچ اے، واسا، کسٹم، ایل ڈبلیو ایم سی کے محکموں کی رپورٹنگ کی۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین