منگل, 3 مارچ, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

ٹرمپ کا دعویٰ: ایران کے ممکنہ جانشین امریکی۔اسرائیلی حملوں میں مارے گئے، ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ  نے اے بی سی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں وہ قیادت شخصیات جنہیں امریکہ ممکنہ جانشین سمجھ رہا تھا، ہفتے کے روز ہونے والے مشترکہ امریکی۔اسرائیلی حملوں میں مارے گئے۔

ٹرمپ نے اے بی سی کے صحافی جوناتھن کارل سے گفتگو میں کہا:

“حملہ اتنا کامیاب تھا کہ اس نے زیادہ تر امیدواروں کو ختم کر دیا۔ جن کے بارے میں ہم سوچ رہے تھے، وہ سب مر چکے ہیں۔ دوسرا یا تیسرا نمبر بھی ختم ہو چکا ہے۔”

ان کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران کے طویل عرصے سے سپریم لیڈر Ali Khamenei کی ہلاکت کے بعد اقتدار کی منتقلی کے حوالے سے سوالات شدت اختیار کر گئے ہیں۔

خامنہ ای کی ہلاکت اور اقتدار کی منتقلی

ٹرمپ نے خامنہ ای کے حوالے سے بھی کہا:

“میں نے اسے اس سے پہلے مار دیا کہ وہ مجھے مارتا۔ انہوں نے دو بار کوشش کی، لیکن میں پہلے کامیاب ہوا۔”

ایران کے آئینی ڈھانچے کے مطابق سپریم لیڈر کی تقرری مجلسِ خبرگان کرتی ہے، تاہم موجودہ غیر یقینی صورتحال میں پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کا کردار انتہائی اہم ہو سکتا ہے۔

ٹرمپ کے مطابق امریکہ جن افراد کو ممکنہ جانشین سمجھ رہا تھا، وہ بھی ان حملوں میں ہلاک ہو چکے ہیں، جس سے ایران میں قیادت کا خلا مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے۔

2024 کے مبینہ قاتلانہ منصوبے کا حوالہ

ٹرمپ نے اپنے بیان میں 2024 کے اس مقدمے کا بھی حوالہ دیا جس میں امریکی محکمہ انصاف نے ایک مبینہ منصوبے کو ناکام بنانے کا اعلان کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں  امریکہ کا ایران کے خلاف اعلانِ جنگ: ٹرمپ کی حکمتِ عملی عراق جنگ 2003 سے کیسے مختلف ہے؟

عدالتی دستاویزات کے مطابق ایرانی حکام نے ملزم فرہاد شاکری کو ٹرمپ کی نگرانی اور ممکنہ طور پر انہیں قتل کرنے کی ہدایات دی تھیں۔ اس کیس میں وفاقی الزامات عائد کیے گئے تھے۔

ٹرمپ انتظامیہ حالیہ حملوں کو دفاعی اور جوابی اقدام کے طور پر پیش کر رہی ہے۔

ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ

صدر ٹرمپ نے The New York Times کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ میں ہلاکتوں کی تعداد موجودہ تین امریکی فوجیوں سے زیادہ ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا:

“میرے نزدیک تین بھی بہت زیادہ ہیں، لیکن اگر آپ اندازے دیکھیں تو یہ تعداد کافی زیادہ ہو سکتی ہے۔”

رپورٹس کے مطابق تین امریکی اہلکار کویت میں ایک مشتبہ ڈرون حملے میں مارے گئے تھے۔

پینٹاگون کی ممکنہ پیش گوئیوں کی تفصیلات عوامی سطح پر جاری نہیں کی گئیں، تاہم ٹرمپ کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطرات بدستور موجود ہیں۔

خطے میں غیر یقینی صورتحال

موجودہ صورتحال میں اہم سوالات یہ ہیں:

  • کیا ایران میں پاسدارانِ انقلاب اقتدار سنبھال لے گی؟
  • کیا داخلی سیاسی کشمکش شروع ہو سکتی ہے؟
  • کیا جنگ مزید پھیل سکتی ہے؟
  • عالمی منڈیوں پر کیا اثرات ہوں گے؟

ٹرمپ کے اس دعوے نے کہ ممکنہ جانشین “سب مارے جا چکے ہیں”، خطے میں غیر یقینی صورتحال کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

آگے کیا ہوگا؟

ایران کی سرکاری تصدیق، مجلسِ خبرگان کے اقدامات، اور IRGC کی نقل و حرکت آنے والے دنوں میں واضح کرے گی کہ اقتدار کی منتقلی کس سمت جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں  امریکی MC-130J کمانڈو II کی آذربائیجان پرواز: ایران کے لیے خاموش اسٹریٹجک پیغام

فی الحال، مشرق وسطیٰ ایک انتہائی نازک مرحلے سے گزر رہا ہے، جہاں فوجی کارروائی اور سیاسی تبدیلی ایک ساتھ جاری ہیں۔

انعم کاظمی
انعم کاظمی
انعم کاظمی پاکستانی صحافت کا ابھرتا ستارہ ہیں، دس سال سے شعبہ صحافت سے منسلک ہیں، نیشنل ٹی وی چینلز پر کرنٹ افیئرز کے پروگرامز میں ایسوسی ایٹ پروڈیوسر اور کانٹینٹ کنٹریبیوٹر کے طور پر خدمات انجام دیتی رہی ہیں، ڈیجیٹل میڈیا کے ساتھ بھی تعلق رہا، ڈیفنس ٹاکس میں کالم نگار ہیں۔ بین الاقوامی اور سکیورٹی ایشوز پر لکھتی ہیں۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین